قلم کی تاثیر عمل کے بغیر پھیکی ہے،تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
نقطہ نظر
انسان کا قلم کے ساتھ صدیوں پرانا رشتہ ہے جس کی رفاقت و شراکت اور قربت زمانہ بہ زمانہ قائم ہے۔آج تک یہ سلسلہ نہ رکا نہ تھما اور نہ ختم ہوا بلکہ اس نے ہر دور میں عہد و پیماں کو قائم رکھا ہے۔یہ چراغ ہر دور و عہد میں تواتر و تسلسل کے ساتھ جلتا رہا۔نہ تو اس کی روشنی ختم ہوئی اور نہ اس کا تیل کم ہوا کیوں کہ اس میں معرفت کے ایسے خزانے ہیں جس کی تلاش میں انسان روز اول سے سر گرم رہا ہے۔اسی سرگرمی کی بدولت اس نے بے شمار سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور مشکل حالات پر غلبہ پایا ہے۔ تاریک راہوں کو روشن کیا ہے۔ جذبات کو زندہ رکھا ہے۔ علم کی دولت کو بانٹا ہے۔ ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ جھوٹ و سچ کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔ امید اور ناامیدی کے درمیان ایمان کی قوت پیدا کی ہے۔ اس حقیقت کے بل بوتے یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم و ادب کے فروغ میں قلم کا ناقابل فراموش کردار و عمل ہے۔حضرت انسان نے ذاتی دل چسپی سے لے کر معاشرتی زبوں حالی تک کتابوں کے صفحات تک خیالات کا جو عرق نچوڑا ہے۔وہ آج تک اپنی تاثیر و تفسر برقرار رکھے ہوا ہے۔اس نے علمی کارناموں ، سائنسی ایجادات اور تخلیقی کرشمات کی بدولت وجودیت سے لے کر اختتامیت تک جو نمایاں کارنامے سرانجام دیے ہیں، اس کے اثبات و اثرات نسل در نسل پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے ان اہداف کو بھی حاصل کر لیا جن کے لیے وہ صدیوں سے جنگ لڑ رہا تھا۔ ہر صدی کے اپنے اثرات و کرشمات ہیں۔اس نے کبھی کامیابیاں اور کبھی ناکامیوں کا سامنا رہا ہے جو ہمیں گزرے ہوئے وقت کی داستانوں کے بارے میں متنبہ کرتیں ہیں۔ ماضی گزرے ہوئے وقت کی تاریخ لکھتا ہے ، حال موجودہ دور کی داخلی و خارجی کیفیات کو گنگناتا ہے، جب کہ مستقبل آنے والے وقت کی بابت پیش گوئیاں کرتا ہے۔
انسان نے اپنے خیالات کو محفوظ بنانے کے لیے قلم کی دوستی کا سہارا لیا جو سفر کرتے کرتے 21 ویں صدی تک جا پہنچا ہے۔ان صدیوں میں حضرت انسان نے اپنے احساسات ، تجربات اور مشاہدات کو کتابوں میں سمو کر لائبریریوں ، اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کو علمی ، ادبی ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی سرگرمیوں میں مبتلا کر دیا ہے تاکہ اپنے اباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی کے مقاصد کو حاصل کر لے جو جہالت کے باعث اس کی زندگی سے کھو گئے تھے۔اگر یونانی فلسفیوں کی بات کی جائے تو سقراط ، افلاطون اور ارسطو جیسے سورماؤں نے علم و ادب کے فروغ میں جو مقام حاصل کیا۔وہ آج بھی یونانی ادب و ثقافت کی مرہون منت وراثتی اقدار کے ساتھ زندہ ہے۔ان کی لکھی ہوئی تحریریں، کارنامے اور علوم نسل نو کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے ہیں۔
علم و ادب کا نسل در نسل فروغ وراثتی اقدار کا وہ اچنبھا ہے جو دیو دار درخت کی طرح نشوونما کی صلاحیت رکھتا ہے۔کائنات کی وسعتوں میں ہر چیز کا خزانہ موجود ہے جو محدودیت اور لامحدودیت کے دائرہ کار میں پھیلا ہوا ہے۔ہر انسان اپنی دل چسپی کے مطابق چیزوں کا انتخاب کرتا ہے۔اسی وجہ تسمیہ کے باعث معاشرے کا حسن و جمال ، اخلاقی اقدار ، تعمیر و ترقی اور اہداف و مقاصد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔اگر لفظ دل چسپی کو دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا عنصر ہے جس نے ہر ناممکن کام کو ممکن کر دیا۔
ترقی کی وہ منازل طے کر لیں جو اس کی زندگی کے منشور میں شامل تھیں۔
اس موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے جس بات نے میرے قلب و ذہن پر بار بار دستک دی ہے۔وہ عنوانی نوشتہ
"قلم کی تاثیر عمل کے بغیر پھیکی ہے"
کیا انسان جن باتوں پر لکھنے کی طبع آزمائی کرتا ہے۔کیا وہ ان پر خود بھی عمل کرتا ہے؟ یہی سوال ہماری سوچ کے محور کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ حالات کے تجزیاتی مطالعہ کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔اگرچہ تخلیق ، تحقیق اور تنقید ایک کیسی مثلث ہے جس کے کسی بھی زاویے میں
اگر خدانخواستہ فرق پڑ جائے تو شکل میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ اگر مثلث کے تینوں زاویوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقی قوت مشاہدے کے باعث جنم لیتی ہے ، تحقیق حقائق کی شگفتہ بیانی کا بھرم رکھتی ہے جب کہ تنقید کھرے اور کھوٹے کو الگ کرتی ہے۔ روز مرہ زندگی میں سوچ ایک ایسا عمل ہے جسے خیالات کی مٹی میں جتنا زیادہ گوندھا جائے گا۔یہ اسی قدر مثبت افکار میں ڈھلتی جائے گی۔جیسے ایک کمہار مٹی لے کر استعمال کے لیے کئی چیزیں تخلیق کر لیتا ہے۔انہیں تجسم کا لبادہ پہنا دیتا ہے۔ قابل استعمال سے قابل ستائش بنا دیتا ہے۔اسی طرح انسان کا عمل و کردار اسے قیمتی بنا دیتا ہے۔جیسے عمل کے بغیر کردار جنم نہیں لیتا اسی طرح قلم کے بغیر تحریر میں تاثیر پیدا نہیں ہوتی۔اگر ہم تخلیق کنندہ ہیں اور عمل کی دولت سے محروم ہیں تو ادیب کی زندگی پر یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جو جواب دینے تک اپنا قرض برقرار رکھے گا۔ایک ادیب کی زندگی میں سنجیدگی کی روح اس وقت طاری ہوتی ہے جب وہ جو کچھ تخلیق کرے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرے۔اگر وہ محض دوسروں کے لیے لکھتا ہے تو اس کی اپنی زندگی سیراب ہونے سے خالی رہ جاتی ہے۔ معاشرے میں حقیقی روشنی اس وقت پھیلتی ہے جب عمل کا چراغ اپنی روشنی دینا شروع کردے۔اگر ہم معاشرے میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں عمل کی ایک ایسی شمع روشن کرنا ہوگی جس میں علم و عمل کی روشنائی نہ ختم ہونے والے چشمے کی مانند ہو۔اگر ہم واقعی قلم کی تاثیر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے خود عمل کرنا ہوگا۔تاکہ علم کی خوشبو اور ادب کی کرنیں روحوں تک رسائی حاصل کر لیں۔
مزید پڑھیں





