خدائے لم یزل نے سمجھنے کے لئیے کائنات میں بہت سی نشانیاں رکھی ہیں مگر ان کے لئے جو سمجھنے کے لئیے غوروفکر کرتے ہیں۔ خود کو دنیا داری میں الجھائے رکھیں تو سامنے نظر آنے والی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ جیسے ہم پانچ وقت کی نماز روزانہ پڑھتے ہیں۔ پچپن میں ہی یاد کروادیا جاتا ہے کہ 5 نمازیں ہیں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور بس ۔ آج تک ہم نے سمجھا ہی نہیں جو رب ہمیں سمجھانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان نمازوں میں انسان کی حیات کا بتایا ہے ۔
فجر کی نماز صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے ہوتی ہے۔ کائنات میں ابھی ہر سو اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ بیدار ہوتے ہیں اور پھر نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ سونے جاگنے کی کیفیت ہوتی ہے۔ جیسے انسان جب اس دنیا میں آتا ہے۔ اندھیروں سے روشنی میں آتا ہے۔ نیم خوابیدہ سی کیفیت ہوتی ہے۔ کبھی سوتا ہے، کبھی جاگتا ہیے ۔
فجر اور ظہر میں کافی وقت ہوتا ہے۔ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ لوگ کام پر جاتے ہیں۔ گہماگہمی شروع ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ سورج عروج پر آجاتا ہے اور پھر زوال کا وقت آتا ہے۔ سورج نیچے کی جانب آنا شروع ہوتا ہے۔
اسی طرح انسان پیدائش کے بعد بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ بچپن سے جوانی کی طرف گامزن ہے پھر عروج پہ آجاتا ہے۔ کڑیل جوان ،لگن، شوق، جرآت، ہمت، ولولہ آگے نکل جانے کی دھن سوار ہوتی ہے۔
ظہر کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ ابھی سورج غروب نہیں ہوا لیکن نیچے کی طرف آنا شروع ہوگیا ہے۔ دھوپ میں کمی محسوس ہونے لگی ہے۔ سورج نے واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح انسان عروج کے بعد اب عمر کی منزلیں طے کرتا ہے۔ اس دوڑ میں تھکنے لگا ہے۔ وہ جوش و جذبہ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اب سست پڑ نے لگا ہے۔ چیزیں سمیٹ کر، تھکے ہوئے واپسی کی راہ پکڑ لی ہے۔ گھر کی جانب آنا شروع ہوگئےہیں ۔
زندگی کی بھی عصر ہوگئی ہے۔ عصر اور مغرب کے درمیان بہت کم وقت ہوتا ہے۔ سورج تیزی سے اب غروب ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی بھی ڈھلنے لگی ہے۔ ہمت و قوت کی کمی ہونے لگی ہے۔ ریٹائرڈ ہوگئےہیں۔ اب وہ طاقت نہیں رہی۔ پھر سورج غروب ہوجاتا ہے اور مغرب کا وقت شروع ہوتا ہے۔ پھر سے اندھیرا بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ انسان اب تھک چکا ہے۔ بڑھاپا آگیا ہے اور آ ہستہ آہستہ ہر سو اندھیرے کا راج بڑھنے لگا ہے۔ اب عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے اور زندگی کا سورج بھی غروب ہوکر تاریکی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ جیسے چڑھتے سورج کے ساتھ زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ایسے ہی ڈھلتے سورج کے ساتھ زندگی کا اختتام ہوتا ہے۔ زندگی کو پنپنے کے لئے فجر اور ظہر میں کافی وقت ہوتا ہے۔ اسی طرح زندگی کا چراغ گل ہونے کے لئے عشاء اور فجر میں بہت وقت ہوتا ہے۔ زندگی کا چراغ بجھ کر گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گم ہوجاتا ہے اور یوں ایک دن میں پوری حیات انسانی کے راز پوشیدہ ہیں اگر ہم سمجھنا چاہیں تو ۔
اللہ تعالی نے سورت آل عمران میں کہا ہے
"آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں "
مزید پڑھیں





