ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صبر،تحریر: رفعت اکرام

نقطہ نظر

صبر ایک ایسا لفظ ہے جو سننے میں بہت چھوٹا لگتا ہے لیکن اس کے معنی بہت گہرے اور وسیع ہیں۔ صبر کا مطلب صرف تکلیف کو برداشت کرنا نہیں ہے بلکہ صبر کا مطلب ہے حالات کو سمجھنا، وقت کا انتظار کرنا، اور جذبات پر قابو رکھنا۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں ہر چیز فوری چاہیے، وہاں صبر ایک نایاب خوبی بن چکا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کے پاس صبر نہیں ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

انسانی زندگی کبھی بھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی خوشی آتی ہے تو کبھی غم، کبھی کامیابی ملتی ہے تو کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔ اگر زندگی میں صرف خوشی ہی خوشی ہوتی تو انسان کبھی مضبوط نہ بنتا۔ غم اور مشکلات ہی انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں اور اس مضبوطی کی بنیاد صبر ہی ہے۔ جب کوئی مشکل آتی ہے تو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو فوراً گھبرا جاتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں، اور جلد بازی میں غلط فیصلے کر لیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو رک جاتے ہیں، سوچتے ہیں، اور صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آخر میں کامیاب ہمیشہ دوسرے قسم کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔

صبر کی کئی قسمیں ہیں۔ پہلی قسم ہے مصیبت میں صبر۔ جب بیماری، غربت، یا کسی عزیز کی جدائی جیسی آزمائش آتی ہے تو اس وقت خود کو قابو میں رکھنا سب سے بڑا صبر ہے۔ دوسری قسم ہے خواہشات میں صبر۔ آج ہمارے ارد گرد بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں غلط راستے کی طرف بلاتی ہیں۔ ناجائز پیسہ، جھوٹی شہرت، اور آسان کامیابی۔ ان چیزوں سے خود کو روکنا بھی صبر ہے۔ تیسری قسم ہے عبادت اور محنت میں صبر۔ کوئی بھی ہنر، کوئی بھی علم، کوئی بھی مقام ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سالوں محنت کرنی پڑتی ہے۔ روزانہ تھوڑا تھوڑا کام کرنا، اور اس کام پر قائم رہنا، یہی وہ صبر ہے جو ایک عام انسان کو ایک ماہر انسان بنا دیتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بے صبری کی سب سے بڑی وجہ توقعات کا بڑھ جانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں نوکری پہلے دن ہی اچھی مل جائے، کاروبار پہلے مہینے ہی چل پڑے، اور عزت بغیر کچھ کیے مل جائے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک بیج کو درخت بننے میں سالوں لگتے ہیں۔ اگر کسان صبر نہ کرے اور بیج کو روز کھود کر دیکھے کہ پودا نکلا یا نہیں، تو کبھی بھی فصل تیار نہیں ہوگی۔ اسی طرح ہماری زندگی بھی ہے۔ ہمیں اپنی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور نتیجہ وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

صبر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں۔ صبر کا مطلب ہے مسلسل کوشش کے ساتھ انتظار کرنا۔ ایک طالب علم جو امتحان کی تیاری کر رہا ہے، اس کا صبر یہ ہے کہ وہ روزانہ پڑھائی کرے۔ ایک مزدور کا صبر یہ ہے کہ وہ روزانہ مزدوری پر جائے۔ ایک مریض کا صبر یہ ہے کہ وہ دوا وقت پر لے اور پرہیز کرے۔ کوشش کے بغیر صبر صرف سستی ہے، اور صبر کے بغیر کوشش صرف تھکن ہے۔ جب دونوں جمع ہو جاتے ہیں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے لوگوں نے صبر کی وجہ سے ہی مقام حاصل کیا۔ سائنسدانوں نے ہزاروں بار ناکام ہونے کے بعد ایجادات کیں۔ اگر وہ ایک دو بار ناکام ہو کر چھوڑ دیتے تو آج دنیا میں روشنی نہ ہوتی۔ بڑے تاجروں نے کئی بار نقصان اٹھانے کے بعد کامیابی دیکھی۔ اگر وہ نقصان سے ڈر کر کاروبار بند کر دیتے تو آج ہزاروں لوگوں کو روزگار نہ ملتا۔ اس لیے یاد رکھیں، ناکامی صبر کا امتحان ہے، اور جو اس امتحان میں پاس ہو جاتا ہے، کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

صبر کو اپنی زندگی میں لانے کے لیے ہمیں چھوٹی چھوٹی مشقیں کرنی ہوں گی۔ جب غصہ آئے تو فوراً جواب دینے کے بجائے خاموش ہو جائیں اور گہرا سانس لیں۔ جب کوئی کام نہ ہو رہا ہو تو اسے چھوڑنے کے بجائے اس کا کوئی اور طریقہ سوچیں۔ جب کسی کی بات بری لگے تو فوراً دل میں نفرت بٹھانے کے بجائے اس کی مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ روزانہ پانچ منٹ اکیلے بیٹھ کر اپنے دن کا جائزہ لیں کہ آج کہاں بے صبری کی اور کل اسے کیسے بہتر کرنا ہے۔ یہ چھوٹی عادتیں آہستہ آہستہ آپ کے اندر بڑا صبر پیدا کر دیں گی۔

آخر میں یہی کہوں گی کہ صبر کمزوری نہیں ہے، صبر سب سے بڑی طاقت ہے۔ غصہ کرنا آسان ہے، معاف کرنا مشکل ہے۔ چھوڑ دینا آسان ہے، لگے رہنا مشکل ہے۔ اور جو مشکل کام کر لیتا ہے، وہی کامیاب کہلاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ زندگی میں سکون، عزت اور کامیابی چاہتے ہیں تو صبر کو اپنا ساتھی بنا لیں۔ کیونکہ صبر کا پھل چاہے دیر سے ملتا ہے، لیکن جب ملتا ہے تو بہت میٹھا ہوتا ہے۔