جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سفارش کا کلچر اور میرٹ کا قتل،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

نقطہ نظر
ali rizwan ch

جب قابلیت ہار جائے اور تعلقات جیت جائیں!


معاشرے کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں فیصلے کس بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر فیصلوں کی بنیاد قابلیت، محنت، دیانت داری اور اہلیت ہو تو قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، لیکن اگر فیصلوں پر سفارش، اقربا پروری، ذاتی تعلقات اور پسند و ناپسند کا راج ہو جائے تو پھر ادارے کمزور، باصلاحیت افراد مایوس اور معاشرہ زوال کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر اوقات قابلیت سے زیادہ تعلقات کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے۔ ایک طرف محنت کرنے والا نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے، دوسری طرف کسی بااثر شخص کی سفارش پر کم اہلیت رکھنے والا فرد منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سفارش کا کلچر میرٹ کا گلا گھونٹتا رہے گا؟

سفارش بذاتِ خود ہر صورت میں غلط نہیں۔ کسی مستحق، قابل اور اہل شخص کی صلاحیتوں کی تصدیق کرنا، اسے مناسب موقع دلانے کے لیے تعارف کروانا یا اس کی محنت کو متعلقہ ادارے تک پہنچانا ایک مثبت عمل ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سفارش قانون، ضابطے اور میرٹ کو پامال کرکے کسی نااہل شخص کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ محض سفارش نہیں رہتی بلکہ حق تلفی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

ہمارے ہاں بعض اوقات ملازمت کے حصول سے لے کر تعلیمی داخلوں، تبادلوں، ترقیوں اور مختلف سرکاری و نجی معاملات تک ذاتی تعلقات کو غیر ضروری اہمیت دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل حق دار پیچھے رہ جاتا ہے اور بااثر شخص کا منظورِ نظر آگے نکل جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف کسی ایک فرد کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پورے نظام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

ذرا اس نوجوان کا تصور کیجیے جو برسوں محنت کرکے تعلیم حاصل کرتا ہے، والدین کی محدود آمدنی کے باوجود اپنی ضروریات قربان کرتا ہے، امتحانات میں کامیابی حاصل کرتا ہے اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے۔ اس کے والدین اپنی جمع پونجی اس امید پر خرچ کرتے ہیں کہ ایک دن ان کا بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا اور خاندان کا سہارا بنے گا۔

لیکن جب یہی نوجوان ملازمت کے لیے درخواست دیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی بااثر شخص کے عزیز یا سفارشی امیدوار کو ترجیح دی جا رہی ہے، تو اس کے خواب بکھرنے لگتے ہیں۔ اس کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر محنت، تعلیم اور قابلیت کی کوئی قدر نہیں تو پھر وہ برسوں کس مقصد کے لیے جدوجہد کرتا رہا؟

یہ احساس صرف ایک نوجوان کو مایوس نہیں کرتا بلکہ اس کے خاندان، معاشرتی ماحول اور آنے والی نسلوں کی سوچ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب نوجوانوں کو یہ تاثر ملنے لگے کہ کامیابی کا راستہ قابلیت کے بجائے سفارش سے گزرتا ہے تو محنت پر یقین کمزور اور ناجائز ذرائع کی طرف رغبت بڑھ سکتی ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو ایک ایسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں جہاں ان کی پہچان ان کی صلاحیت ہو یا ان کے پیچھے کھڑے کسی بااثر شخص کا نام؟

کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کے وسائل، عمارتوں یا بڑے عہدوں میں نہیں بلکہ اس کے اہل، دیانت دار اور ذمہ دار افراد میں ہوتی ہے۔ جب کسی ادارے میں میرٹ کو نظرانداز کرکے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر تقرریاں اور ترقیاں کی جاتی ہیں تو اس کے اثرات وقت کے ساتھ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

ایک نااہل شخص جب صرف سفارش کی بنیاد پر اہم ذمہ داری حاصل کرتا ہے تو وہ ممکن ہے اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام نہ دے سکے۔ اس کے برعکس ایک قابل اور محنتی فرد، جو اس ذمہ داری کے لیے زیادہ موزوں ہو، محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، فیصلوں کا معیار گرتا ہے اور عوام کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک محکمے یا شعبے تک محدود نہیں۔ تعلیم، صحت، انتظامیہ، کاروبار اور دیگر شعبوں میں شفافیت اور اہلیت کی اہمیت یکساں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں تو ہمیں افراد کے انتخاب میں ذاتی پسند کے بجائے واضح معیار، متعلقہ تجربے، قابلیت اور کارکردگی کو ترجیح دینا ہوگی۔

ہم اکثر میرٹ کی بات کرتے ہوئے اسے صرف ملازمت کے حصول تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ میرٹ زندگی کے ہر شعبے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں داخلے، کھیلوں میں انتخاب، پیشہ ورانہ ترقی، تنظیموں میں ذمہ داریوں کی تقسیم اور عوامی نمائندگی کے مختلف مراحل میں اہلیت اور شفافیت ضروری ہیں۔

اگر کسی ادارے میں ذمہ داریاں ان افراد کو دی جائیں جو واقعی ان کے اہل ہوں تو ادارہ ترقی کرتا ہے۔ اگر کسی ٹیم میں بہترین صلاحیت رکھنے والے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے تو کامیابی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی شعبے میں تجربہ، محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دی جائے تو کارکنوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس جب ذاتی پسند اور تعلقات کو معیار بنا لیا جائے تو اہل افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور نااہلی کو تقویت ملتی ہے۔ معاشرہ پھر صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے تعلقات بنانے کی دوڑ میں مصروف ہو جاتا ہے ۔

ہم عموماً سفارش لینے والے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن سفارش کرنے والے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر کوئی بااثر شخص کسی اہل اور مستحق فرد کی مدد کرتا ہے تو یہ قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر وہ اپنے منصب، اثر و رسوخ یا تعلقات کو استعمال کرکے کسی دوسرے کا جائز حق چھینتا ہے تو اسے بھی اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔

اصل قیادت وہ نہیں جو اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لیے ہر دروازہ کھول دے، بلکہ اصل قیادت وہ ہے جو سب کے لیے انصاف کے دروازے کھلے رکھے۔ حقیقی رہنما اپنی طاقت کو ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ حق دار کو اس کا حق دلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

والدین، اساتذہ، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور اداروں کے سربراہوں کو نئی نسل کے سامنے ایسا عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے جس میں محنت، دیانت داری اور انصاف کو تعلقات اور ذاتی مفادات پر فوقیت حاصل ہے ۔

اسلام ہمیں عدل، امانت اور حق دار کو اس کا حق دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ النساء، آیت 58 میں امانتیں ان کے اہل لوگوں تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اصول واضح کرتا ہے کہ ذمہ داریوں کی تقسیم اور فیصلوں میں اہلیت اور انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

اگر کسی شخص کو صرف ذاتی تعلق کی بنیاد پر وہ منصب دے دیا جائے جس کا زیادہ حق دار کوئی دوسرا فرد ہو تو یہ اخلاقی اعتبار سے ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہم اپنی ذاتی سہولت کے لیے کسی دوسرے کی محنت اور حق کو تو قربان نہیں کر رہے۔

انصاف کا حقیقی امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب ہمارے سامنے اپنے اور پرائے، دوست اور مخالف یا طاقتور اور کمزور کے درمیان فیصلہ کرنے کا موقع ہو۔ اصولوں پر قائم رہنا ہی کردار کی اصل پہچان ہے۔

سفارش کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے محض تقریریں کافی نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں۔

سب سے پہلے بھرتیوں، ترقیوں اور انتخاب کے طریقۂ کار کو شفاف بنایا جائے۔ اہلیت کے معیار پہلے سے واضح ہوں اور امیدواروں کے انتخاب کی وجوہات قابلِ فہم ہوں۔ جہاں ممکن ہو، تحریری امتحانات، انٹرویوز کے منظم طریقوں اور غیر جانب دار جانچ کے ذریعے ذاتی مداخلت کے امکانات کم کیے جائیں۔

دوسرے، میرٹ کی خلاف ورزی کے خلاف مؤثر شکایتی نظام ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد اپنی شکایات درج کروا سکیں اور ان کی غیر جانب دارانہ سماعت ہو۔ تیسرے، اداروں میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی اور احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے۔ چوتھے، سیاسی، سماجی اور انتظامی ذمہ داریاں رکھنے والے افراد کو ذاتی تعلقات کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اپنی قابلیت، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے۔ تاہم یہ توقع درست نہیں کہ صرف نوجوان اپنی محنت بڑھا کر ہر ناانصافی کا مقابلہ کر لیں؛ اداروں اور ذمہ دار افراد پر بھی لازم ہے کہ وہ انہیں منصفانہ مواقع فراہم کریں۔

قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ انصاف پر مبنی فیصلوں سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، ہمارے ادارے مضبوط ہوں اور عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہو تو سفارش کے ناجائز استعمال اور اقربا پروری کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

آج ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ جب ہم کسی نااہل شخص کے لیے ناجائز راستہ ہموار کرتے ہیں تو کیا ہم کسی اہل فرد کے مستقبل پر اثرانداز نہیں ہوتے؟ جب ہم اپنے تعلقات کی بنیاد پر اصولوں کو نظرانداز کرتے ہیں تو کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک غلط مثال قائم نہیں کرتے؟

سفارش سے کسی شخص کو عہدہ تو مل سکتا ہے، لیکن صلاحیت، دیانت داری اور محنت کا متبادل فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ کسی نااہل فرد کو منصب دے کر ہم شاید ایک شخص کو فائدہ پہنچا دیں، مگر اس کے نتیجے میں ادارے، معاشرے اور حق دار افراد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ہم سفارش کے بجائے اہلیت، تعلقات کے بجائے انصاف اور ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو اپنا اصول بنائیں۔**

کیونکہ جس معاشرے میں میرٹ زندہ ہوتا ہے، وہاں قابلیت کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے؛ اور جہاں میرٹ کا قتل معمول بن جائے، وہاں مایوسی، ناانصافی اور زوال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم نہ کسی کا جائز حق چھیننے کے لیے سفارش کریں گے، نہ ناانصافی کو خاموشی سے قبول کریں گے اور نہ ہی اپنی آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیں گے کہ کامیابی محنت سے نہیں، تعلقات سے حاصل ہوتی ہے۔ قوموں کا مستقبل سفارش کے سہارے نہیں، میرٹ کے معیار پر تعمیر ہوتا ہے۔