کیا ہم کائنات میں واقعی تنہا ہیں؟ تحریر: پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
حضرت ِانسان نے جب پہلی مرتبہ رات کے آسمان پر چمکتے ستاروں کو حیرت سے دیکھا ہوگا تو شاید اس کے ذہن میں بھی وہی سوال پیدا ہوا ہو گا، جو آج جدید سائنس کی ترقی، طاقتور دوربینوں اور خلائی تحقیق کے باوجود ہمارے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے:”کیا اس وسیع و عریض کائنات میں زندگی صرف زمین پر موجود ہے، …………یا کہیں اور بھی کوئی ایسی دنیا آباد ہے جہاں زندگی نے اپنی آنکھ کھولی ہو؟………… کیا ہماری طرح کوئی اور مخلوق بھی اپنے آسمان پر ستاروں کو دیکھ کر اپنے وجود کا مفہوم تلاش کر رہی ہے؟
یہ سوال محض تخیل، فلسفے یا سائنس فکشن کا موضوع نہیں رہا۔ اب یہ جدید فلکیات، حیاتیات، کیمیا اور خلائی تحقیق کے اہم ترین سوالات میں شامل ہے۔ تاہم اس بحث میں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کائنات میں زندگی کے امکانات پر غور کرنا ایک بات ہے اور زمین سے باہر زندگی کی موجودگی کا سائنسی ثبوت حاصل کرنا دوسری بات۔ابھی تک ہمیں زمین سے باہر زندگی کا کوئی مستند اور قابلِ تصدیق ثبوت نہیں ملا۔ لیکن اس عدمِ دریافت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کائنات میں زندگی کہیں اور موجود نہیں۔
ہماری زمین، جسے ہم اپنی تمام خوشیوں، غموں، جنگوں، تہذیبوں اور خوابوں کا مرکز سمجھتے ہیں، دراصل ایک معمولی سے ستارے، یعنی سورج، کے گرد گردش کرنے والے آٹھ سیاروں میں سے ایک ہے۔ ہمارا سورج ملکی وے کہکشاں کے اربوں ستاروں میں سے ایک ہے، جبکہ قابلِ مشاہدہ کائنات میں اربوں کہکشائیں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سی کہکشاؤں میں اربوں ستارے ہیں اور ان ستاروں کے گرد سیاروی نظام بھی پائے جاتے ہیں۔یہ اعداد انسانی تصور کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ جب سیاروں اور ستاروں کی تعداد اس قدر وسیع ہو تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین ہی وہ واحد مقام ہے جہاں زندگی کے لیے موزوں حالات پیدا ہوئے؟
سائنس اس سوال کا جواب محض امکانات کے سہارے نہیں دیتی۔ ماہرین دور دراز ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیاروں، ان کے حجم، درجہء حرارت، ماحول اور کیمیائی ساخت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ایسے سیاروں کو تلاش کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں مائع پانی موجود رہ سکے، کیونکہ زمین پر معلوم زندگی کے لیے پانی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں فلکیات کی سب سے اہم پیش رفت دیگر ستاروں کے گرد سیاروں کی دریافت ہے۔ انہیں فراسیارے یا ایکسوپلینیٹس (Exoplanets) کہا جاتا ہے۔ اب ہزاروں فراسیاروں کی تصدیق ہو چکی ہے اور مزید امیدوار سیاروں کی تحقیق جاری ہے۔ان میں سے بعض اپنے ستاروں کے ایسے فاصلے پر گردش کرتے ہیں جہاں مناسب فضائی دباؤ کی صورت میں سطح پر مائع پانی موجود رہ سکتا ہے۔ اس خطے کو قابلِ رہائش خطہ (Habitable Zone) کہا جاتا ہے۔لیکن یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ کسی سیارے کا قابلِ رہائش خطے میں ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں زندگی موجود ہے۔ اس کے لیے موزوں ماحول، کیمیائی اجزا، توانائی کے ذرائع اور بہت سے دوسرے عوامل بھی اہم ہیں۔ ممکن ہے کوئی سیارہ پانی کی موجودگی کے باوجود زندگی کے لیے ناموزوں ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ زندگی ایسی صورتوں میں موجود ہو جنہیں ہم ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔ان دریافتوں نے انسانی تصور کو وسعت ضرور دی ہے، مگر سائنسی احتیاط کا تقاضا ہے کہ امکان کو ثبوت کا درجہ نہ دیا جائے۔
زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں مریخ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ سیارہ ماضی میں موجود پانی کے آثار، قدیم جھیلوں اور دریاؤں جیسے ارضیاتی شواہد کی وجہ سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔مریخ پر بھیجے گئے خلائی روبوٹس نے ایسی چٹانوں اور معدنیات کا مطالعہ کیا ہے جو ماضی میں پانی کی موجودگی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اگر مریخ پر کبھی خردبینی زندگی(Microscopic Life) موجود رہی ہو تو ممکن ہے اس کے آثار قدیم چٹانوں میں محفوظ ہوں۔
تاہم مریخ پر زندگی کی موجودگی یا اس کے قدیم آثار کی تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔ سائنس دان ایسے شواہد تلاش کر رہے ہیں جو کسی غیر حیاتیاتی عمل کے بجائے واقعی حیاتیاتی سرگرمی کی طرف اشارہ کریں۔ یہ کام آسان نہیں، کیونکہ فطری کیمیائی عمل بھی بعض اوقات ایسے نتائج پیدا کر سکتے ہیں جو پہلی نظر میں زندگی کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔
زندگی کی تلاش اب صرف مریخ تک محدود نہیں رہی۔ مشتری کا چاند یوروپا (Europa) اور زحل کا چاند اینسیلاڈس (Enceladus) سائنس دانوں کی خصوصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں شواہد موجود ہیں کہ ان کی برفیلی سطحوں کے نیچے مائع پانی کے سمندر ہو سکتے ہیں۔اینسیلاڈس سے خارج ہونے والے برفیلے ذرات اور آبی بخارات کے تجزیے سے ایسے کیمیائی اجزا اور توانائی کے ذرائع کا پتا چلا ہے جو خردبینی زندگی کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ یوروپا کے بارے میں بھی خیال ہے کہ اس کی برفانی پرت کے نیچے ایک وسیع نمکین سمندر موجود ہے۔
زمین پر سمندر کی گہرائیوں میں ایسے جاندار پائے جاتے ہیں جو سورج کی روشنی کے بجائے کیمیائی توانائی سے وابستہ نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس دریافت نے سائنس دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر زندگی زمین کے تاریک اور انتہائی سخت ماحول میں پنپ سکتی ہے تو ممکن ہے دوسرے سیاروں یا ان کے چاندوں پر بھی اس کی کوئی صورت موجود ہو۔
تاہم ان مقامات پر زندگی کی موجودگی ابھی ثابت نہیں ہوئی۔ یہاں سائنس کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا پانی، موزوں کیمیائی اجزا اور توانائی ایک ساتھ ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں جہاں زندگی جنم لے سکے یا برقرار رہ سکے؟
زندگی کی تلاش کا ایک دوسرا پہلو ذہین مخلوق کی تلاش ہے۔ اس مقصد کے لیے SETI یعنی Search for Extraterrestrial Intelligence کے نام سے تحقیق کی جاتی ہے۔ اس میں سائنس دان دور دراز ستاروں سے آنے والے ریڈیو سگنلز اور دوسری ممکنہ علامات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان میں کسی ترقی یافتہ تہذیب کا پیغام تو موجود نہیں۔
اس تلاش میں مشکلات کم نہیں۔ کائنات میں فاصلے اس قدر وسیع ہیں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے سگنلز کو بھی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں برسوں، صدیوں یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں ابھی یہ معلوم نہیں کہ دوسری تہذیبیں کس قسم کی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہوں گی، وہ کتنی مدت تک قائم رہتی ہوں گی، یا وہ رابطہ کرنے کی خواہش رکھتی بھی ہوں گی یا نہیں۔ابھی تک کسی دوسری ذہین تہذیب کی طرف منسوب کوئی ایسا سگنل تصدیق شدہ نہیں جسے سائنسی برادری نے غیر زمینی ذہانت کا ثبوت تسلیم کیا ہو۔
اگر کائنات میں زندگی عام ہے تو ہم نے اسے دیکھا کیوں نہیں؟یہ سوال فلسفیانہ اور سائنسی بحث میں فرمی تضاد (Fermi Paradox) کے نام سے معروف ہے۔ اگر کائنات اتنی وسیع اور قدیم ہے، اور زندگی کے لیے موزوں سیارے بھی بے شمار ہو سکتے ہیں، تو پھر ہمیں کسی دوسری تہذیب کا واضح ثبوت کیوں نہیں ملا؟اس سوال کے کئی ممکنہ جواب ہیں۔ شاید ذہین زندگی بہت کم پیدا ہوتی ہو۔ ممکن ہے خردبینی زندگی عام ہو لیکن پیچیدہ جانداروں اور ذہین تہذیبوں کا وجود انتہائی نایاب ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تہذیبیں ہم سے اتنی دور ہوں کہ ان کے سگنلز ہم تک نہ پہنچ سکیں، یا ان کے وجود کا زمانہ ہماری تہذیب کے زمانے سے مختلف ہو۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ ہم ابھی تلاش کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ہم نے کائنات کے بے شمار ستاروں اور سیاروں میں سے صرف ایک محدود حصے کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ اس لیے محدود تلاش کے نتیجے میں ثبوت نہ ملنے کو اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ کہیں اور زندگی موجود ہی نہیں۔
اس سائنسی سفر کا ایک اہم سبق زمین کی اپنی اہمیت کا احساس بھی ہے۔ ہم دوسری دنیاؤں پر زندگی تلاش کر رہے ہیں، مگر ہماری اپنی زمین زندگی کی ایک ثابت شدہ اور حیرت انگیز دنیا ہے۔ یہاں موجود حیاتیاتی تنوع، سمندروں، جنگلات، فضائی نظام اور نازک ماحولیاتی توازن کو سمجھنا اور محفوظ رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
اگر کبھی زمین سے باہر زندگی دریافت ہو جاتی ہے تو یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین سائنسی انکشافات میں شمار ہوگی۔ اس سے حیاتیات، کیمیا، فلسفے اور زندگی کی ابتدا سے متعلق ہمارے تصورات بدل سکتے ہیں۔ اور اگر طویل تحقیق کے باوجود ہمیں کوئی دوسری زندگی نہ ملے تو یہ نتیجہ بھی کم اہم نہیں ہوگا؛ اس سے زمین پر زندگی کی انفرادیت اور حفاظت کی اہمیت مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔
لیکن سوال ابھی زندہ ہے اور جواب طلب ہے کہ کیا ہم کائنات میں واقعی تنہا ہیں؟ فی الحال سائنس کا دیانت دارانہ جواب ہے: ہمیں معلوم نہیں۔ ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو زمین سے باہر زندگی کے امکان کو سنجیدہ تحقیق کے قابل بناتے ہیں، لیکن ابھی تک اس کی موجودگی کا قابلِ تصدیق ثبوت نہیں ملا۔شاید مستقبل کی کوئی خلائی مہم مریخ کی کسی قدیم چٹان میں زندگی کے آثار تلاش کر لے، یا کسی برفیلے چاند کے سمندر سے ایسے شواہد سامنے آ جائیں جو ہماری سوچ بدل دیں۔ ممکن ہے کسی دور دراز سیارے کے ماحول میں ایسی کیمیائی علامات ملیں جن کی مزید تحقیق ہمیں نئی حقیقتوں سے روشناس کرائے۔لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہمیں اُمید اور ثبوت کے درمیان فرق قائم رکھنا ہوگا۔ کائنات کے بارے میں تجسس ہماری طاقت ہے، جبکہ سوالات کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھنا سائنس کی اصل روح۔ممکن ہے کائنات خاموش نہ ہو؛ شاید ہم ابھی اس کی زبان سمجھنا سیکھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں





