سلام ان ماؤں کو ،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نقطہ نظر
کسی قوم کی عظمت کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں یا معاشی ترقی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ قوموں کی اصل عظمت ان لوگوں کی قربانیوں سے پہچانی جاتی ہے جو اپنے آج کو آنے والی نسلوں کے محفوظ کل پر قربان کر دیتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار روشن کردار موجود ہیں جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن ان شہداء کی داستان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ان ماؤں کا ذکر نہ کیا جائے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو وطن کی حفاظت کے لیے پروان چڑھایا، انہیں وردی پہنائی اور پھر ایک دن سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا ان کا جسدِ خاکی وصول کیا۔
شہید کی ماں صرف ایکماں نہیں ہوتی؛ وہ پوری قوم کی محسن ہوتی ہے۔
کراچی کی ساحلی بستیوں سے لے کر خیبر کے پہاڑوں تک، بلوچستان کے وسیع میدانوں سے پنجاب کے سرسبز دیہات تک، آزاد کشمیر کی وادیوں سے گلگت بلتستان کی برف پوش چوٹیوں تک، پاکستان کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو وطن کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔ ان ماؤں کے آنسوؤں میں غم ضرور ہے، مگر ان کے دلوں میں اپنے بیٹوں کی قربانی کا فخر بھی موجود ہے۔
ماں کی گود سے میدانِ شہادت تک ایک سپاہی کی داستان دراصل اس کی ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔وہ ماں جو اپنے بچے کو پہلی بار چلنا سکھاتی ہے، جو اس کے بخار میں رات بھر جاگتی ہے، جو اس کے لیے دعائیں کرتی ہے، جو اس کے مستقبل کے خواب دیکھتی ہے، وہی ماں ایک دن اپنے بیٹے کو وطن کی حفاظت کے لیے رخصت کرتی ہے اس لمحے شاید اسے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی زندگی آسان نہیں۔ سرحدوں پر موسم کی شدت، دہشت گردی کے خطرات، دشوار گزار پہاڑ، برفانی چوٹیاں اور میدانِ جنگ کے خطرات اس کے بیٹے کے منتظر ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ بیٹے کے حوصلے کو کم نہیں ہونے دیتی
وہ کہتی ہے:
"بیٹا! وطن کی حفاظت کرنا، اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔"
یہ مختصر دعا دراصل ایک ماں کا اپنے وطن سے عہد ہوتی ہے کراچی سے خیبر تک قربانیوں کا سفرکراچی کے سمندر سے اٹھنے والی ہوائیں ہوں یا خیبر کے بلند پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں، پاکستان کا ہر خطہ شہداء کی قربانیوں کا گواہ ہے۔کراچی کے خاندانوں نے اپنے بیٹے ملک کی دفاعی ذمہ داریوں کے لیے دیے، خیبر اور قبائلی اضلاع کی ماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے لختِ جگر قربان کیے، بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں سے نوجوان فوج میں شامل ہوئے، پنجاب کے دیہات اور سندھ کے قصبوں سے سپاہی سرحدوں پر پہنچے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سپوتوں نے بلند ترین محاذوں پر وطن کی حفاظت کی یوں پاکستان کی جغرافیائی وحدت صرف نقشے پر موجود لکیر نہیں بلکہ ان شہداء کے خون سے مضبوط ہونے والی ایک حقیقت ہے 2025ء میں ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والے نائیک محمد عثمان بھی اسی قومی داستان کا حصہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وہ ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے میں کی گئی ان کے گھر میں بھی ایک ماں نے اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کی ہوں گی۔ اس ماں نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ میرا بیٹا اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد واپس آئے گا۔ مگر جب وطن کی خاطر قربانی کا وقت آیا تو محمد عثمان شہید نے اپنی جان دے کر اپنے عہد کو سچ کر دکھایا ضلع اٹک کی مٹی نے بھی پاکستان کو ایسے سپوت دیے ہیں جنہوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اٹک کے دیہات میں جب کسی شہید کے گھر کا ذکر ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک خاندان کی داستان نہیں سنائی دیتی؛ وہاں پوری قوم کی کہانی موجود ہوتی ہے۔ وہ گھر جہاں کبھی ایک جوان کی ہنسی گونجتی تھی، جہاں ماں بیٹے کے آنے کا انتظار کرتی تھی، جہاں بہن بھائی کے لیے دعائیں کرتی تھی، آج وہاں شہادت کی یاد ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔
نائیک محمد عثمان شہید کا ذکر اٹک کے ان سپوتوں کی قربانی کی ایک حالیہ مثال ہے۔ جنوری 2025ء میں کرک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان کی شہادت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اٹک کے بیٹے بھی قومی سلامتی کے دفاع میں ملک کے مختلف محاذوں پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
یہ صرف محمد عثمان شہید کی ماں کا غم نہیں؛ یہ پورے اٹک کی ماں کا فخر ہے۔
جب عید آئے اور بیٹا نہ آئے
شہید کی ماں کے لیے سب سے مشکل لمحہ شاید وہ تہوار ہوتے ہیں جن میں گھر کے سب افراد اکٹھے ہوتے ہیں عید کا دن آتا ہے، گھر میں نئے کپڑے آتے ہیں، بچے خوش ہوتے ہیں، دسترخوان سجتا ہے، مگر ایک کرسی خالی رہ جاتی ہے 2025ء میں سپاہی محمد ثقلین شہید کے خاندان نے عید کے موقع پر اپنے جذبات بیان کیے۔ ان کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا عید گھر والوں کے ساتھ گزارنے کی خواہش رکھتا تھا، جبکہ بھائی نے اس کی کمی اور اس کے بغیر عید کی اداسی کا ذکر کیا۔
یہ ایک خاندان کی داستان ضرور ہے، مگر اس میں پاکستان کے ہر شہید گھرانے کی کیفیت کی جھلک نظر آتی ہے شہید کی ماں کے لیے عید کا چاند بھی اپنے بیٹے کی یاد لے کر آتا ہے۔ وہ شاید آسمان کی طرف دیکھ کر سوچتی ہے:
"میرا بیٹا آج کہاں ہوگا؟"
اور پھر اس کا ایمان اسے تسلی دیتا ہے کہ جس بیٹے کو اس نے اللہ کی راہ میں اور وطن کی حفاظت کے لیے بھیجا تھا، وہ اللہ کے ہاں زندہ ہے گیاری سے سرحدوں تک
شہادت صرف گولی اور بارود کے میدان کا نام نہیں۔ کبھی برف کا تودہ سپاہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، کبھی دشوار گزار پہاڑ زندگی کا راستہ روک دیتے ہیں اور کبھی قدرتی آفت کے دوران امدادی کارروائی بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
سیاچن کے گیاری سیکٹر کا سانحہ اس حقیقت کی بڑی مثال ہے۔ اپریل 2012ء میں برفانی تودے نے پاک فوج کے بٹالین ہیڈکوارٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور 129 فوجی جوان شہید ہوئے۔ آج بھی گیاری کے شہداء کی یاد قوم کے دل میں زندہ ہے۔
ان 129 شہداء کے پیچھے 129 خاندان تھے، سینکڑوں رشتے تھے اور نہ جانے کتنی مائیں تھیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا لیکن ان ماؤں نے قوم کو یہ سبق دیا کہ قربانی کا مطلب صرف موت نہیں؛ قربانی کا مطلب اپنے پیارے بچوں کو قوم کے مستقبل کے لیے پیش کر دینا بھی ھے
ہم شہید کو سلام پیش کرتے ہیں، اس کی قبر پر پھول چڑھاتے ہیں، اس کے نام سے سڑکیں اور عمارتیں منسوب کرتے ہیں، اس کی تصویر کو یادگاروں پر آویزاں کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری ہے۔
لیکن شہید کے بعد جو سب سے بڑا حق اس کی ماں کا بنتا ہے، وہ یاد رکھنے کا حق ہے شہید کی ماں چاہتی ہے کہ قوم اس کے بیٹے کو بھول نہ جائے اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لیے اس کے بیٹے نے جان دی، قوم اس مقصد کو سمجھتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا صرف ایک نام، ایک تصویر یا ایک تعریفی سند بن کر نہ رہ جائے بلکہ نئی نسل کے لیے کردار اور قربانی کی مثال بنے اسی لیے شہداء کی مائیں واقعی قوم کی محسن ہیں شہداء کے خاندان ہماری اجتماعی ذمہ داری شہید کی قربانی کا اعتراف صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ شہداء کے خاندانوں کی عزت، ان کی ضروریات کا خیال اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے پاک فوج بھی مختلف سطحوں پر شہداء کے خاندانوں سے رابطہ رکھتی اور ان کے مسائل سننے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔ 2026ء میں یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر ۔یادگار جی ایچ کیو میں شہداء کے خاندانوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان کے مسائل سن کر تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
یہ احساس صرف اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ شہداء کے خاندانوں کو عزت، محبت اور احترام دے۔
ماں کا آنسو اور قوم کا قرض
شہید کی ماں کا ایک آنسو قوم پر قرض ہے۔
وہ ماں جس نے اپنے بیٹے کو برسوں پال کر بڑا کیا، اس کی تعلیم و تربیت کی، اس کے مستقبل کے خواب دیکھے، پھر اسے وطن کے دفاع کے لیے پیش کر دیا، اس کا مقام عام الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم اپنے گھروں میں سکون سے سوتے ہیں، جب ہمارے بچے اسکول جاتے ہیں، جب بازار آباد رہتے ہیں اور جب ملک کے مختلف حصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری رہتی ہے تو اس امن کے پیچھے ہمارے محافظوں کی قربانیاں شامل ہیں۔
اور ان محافظوں کے پیچھے ان کی ماؤں کی دعائیں ہیں۔
آج کی نوجوان نسل کے لیے شہداء کی ماؤں کی زندگی ایک بہت بڑا سبق ہے۔
یہ مائیں ہمیں بتاتی ہیں کہ وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں۔ وطن سے محبت کردار، ذمہ داری، دیانت، قانون کی پابندی، محنت اور قربانی کا نام ہے۔
اگر ہم واقعی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ملک کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں نفرت کے بجائے اتحاد، انتشار کے بجائے نظم، مایوسی کے بجائے امید اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو اہمیت دینا ہوگی۔کیونکہ شہداء نے ہمیں ایک محفوظ وطن دیا ہے؛ اب اس وطن کو مضبوط بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔
سلام اُن ماؤں کو کراچی سے خیبر تک، اٹک سے گوادر تک، کشمیر سے گلگت بلتستان تک جہاں جہاں پاکستان کے بیٹے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے، وہاں وہاں ان کی ماؤں کی دعائیں بھی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔
سلام ہے اس ماں کو جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیاسلام ہے اس باپ کو جس نے اپنے بیٹے کے تابوت کو کندھا دیا سلام ہے اس بہن کو جس نے بھائی کی جدائی برداشت کی۔سلام ہے اس بیوہ کو جس نے اپنے بچوں کو باپ کے بغیر پالااور سلام ہے ان بچوں کو جنہوں نے اپنے باپ کی تصویر سینے سے لگا کر زندگی کا سفر جاری رکھا مگر سب سے بڑھ کر سلام ہے ان ماؤں کو جنہوں نے اپنے لختِ جگر کو وطن کی حفاظت کے لیے پیش کیا اور پھر اپنے آنسوؤں کو قومی فخر میں بدل دیا یہ مائیں واقعی قوم کی محسن ہیں ان کی قربانیوں کو الفاظ میں نہیں تولا جا سکتا۔ ان کا مقام کسی تمغے، کسی اعزاز یا کسی تقریب سے بلند تر ہے۔
ہم ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں:
اے اللہ! پاکستان کے تمام شہداء کے درجات بلند فرما، ان کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ عطا فرما، ان کی ماؤں کو صحت و سلامتی دے، اور ہمیں اپنے وطن کی حفاظت، ترقی اور سربلندی کے لیے اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین شہداء زندہ ہیں اور ان کی مائیں ہماری قومی محسن ہیں۔
مزید پڑھیں





