Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سرحد کے اس پار: الوداع نانا پاٹیکر ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

کبھی کبھی کوئی اداکار مرتا نہیں،

وہ صرف پردۂ سیمیں سے اتر کر لوگوں کی یادوں میں جا بستا ہے۔

آج سرحد کے اُس پار سے ایک خبر آئی ہے۔

ایسی خبر، جسے پڑھ کر دل کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔

نانا پاٹیکر نہیں رہے۔۔۔

خبر مختصر تھی، مگر اس کے پیچھے ایک پوری زندگی کھڑی تھی۔ ایک ایسی زندگی جس میں بھوک بھی تھی، محرومی بھی، غربت بھی، باپ کی جدائی بھی، بیٹے کا غم بھی، جدوجہد بھی، ناکامیاں بھی اور پھر کامیابی کا وہ سفر بھی، جس نے ایک عام سے لڑکے کو برصغیر کے بڑے فنکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

سرحدیں ملکوں کو تقسیم کرتی ہیں،

فنکاروں کو نہیں۔

پاکستان میں بیٹھے ہوئے کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے نانا پاٹیکر کو پہلی مرتبہ پردے پر دیکھا ہوگا اور شاید انہیں یہ احساس ہی نہ ہوا ہو کہ سامنے اداکاری نہیں، زندگی بول رہی ہے۔

وہ جب غصے میں آتے تھے تو لگتا تھا غصہ ان کے کردار کا نہیں، کسی ایسے انسان کا ہے جو زندگی سے بہت کچھ ہار چکا ہے۔

وہ جب خاموش ہوتے تھے تو ان کی خاموشی میں بھی مکالمے سنائی دیتے تھے۔

ان کی آنکھیں بولتی تھیں، چہرہ بولتا تھا، آواز بولتی تھی اور کبھی کبھی تو ان کا خاموش رہنا بھی ایک مکمل منظر بن جاتا تھا۔

شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ نانا پاٹیکر نے زندگی کو دور سے نہیں دیکھا تھا۔

انہوں نے زندگی کو قریب سے جھیلا تھا۔

وہ صرف تیرہ برس کے تھے۔

نویں جماعت کے طالب علم۔

اس عمر میں بچے بستے اٹھا کر سکول جاتے ہیں، کھیلتے ہیں، دوست بناتے ہیں، مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر نانا پاٹیکر کے ہاتھ میں کتاب کے ساتھ زندگی کی ایک اور ذمہ داری بھی آ گئی تھی۔

گھر کے حالات خراب تھے۔

اتنے خراب کہ پڑھائی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہوگیا۔

وہ کئی کلومیٹر پیدل چلتے، فلموں کے پوسٹر پینٹ کرتے اور اس محنت کے بدلے انہیں مہینے کے صرف پینتیس روپے ملتے۔

پینتیس روپے۔۔۔

آج کے زمانے میں شاید یہ رقم ایک معمولی سی چیز خریدنے کے لیے بھی کافی نہ ہو، مگر ایک تیرہ سالہ بچے کے لیے وہ پینتیس روپے پورے گھر کی امید تھے۔

وہ کہتے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا ملتا تھا۔

بھوک ان کی زندگی کا ایسا حصہ بن گئی تھی کہ پھولوں کی خوشبو بھی شاید انہیں متاثر نہیں کرتی تھی۔

انہیں روٹی کی خوشبو اچھی لگتی تھی۔

یہ ایک جملہ نہیں، پوری زندگی کا نوحہ ہے۔

وہ بچہ جس نے پھولوں سے پہلے روٹی کی خوشبو پہچانی ہو، جب بڑا ہو کر کردار ادا کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں بھوک مصنوعی نہیں رہتی۔

وہ بھوک اس کے اندر سے نکلتی ہے۔

وہ محرومی جو کسی اداکار کو کتاب سے نہیں ملتی، زندگی سے ملتی ہے۔

شاید اسی لیے نانا پاٹیکر کے کرداروں میں ایک عجیب سی سچائی محسوس ہوتی تھی۔

ان کا غصہ بناوٹی نہیں لگتا تھا۔

ان کی بے بسی اداکاری نہیں لگتی تھی۔

ان کی چیخ میں ایک زخمی انسان کی آواز محسوس ہوتی تھی۔

کیونکہ وہ خود زندگی کی کئی چیخیں سن چکے تھے۔

ان کے والد کپڑے پر پینٹنگ کرتے تھے اور چھوٹا کاروبار بھی کرتے تھے۔ پھر حالات نے کروٹ لی۔ ایک قریبی شخص کے مبینہ دھوکے نے خاندان کی مالی بنیاد ہلا دی۔ جو گھر متوسط طبقے کی زندگی گزار رہا تھا، وہ نچلے طبقے کی مشکلات میں جا پہنچا۔

اور پھر تیرہ برس کے نانا کو بچپن چھوڑنا پڑا۔

وہ دن میں سکول جاتے، کام کرتے، پیدل چلتے اور فلموں کے پوسٹر بناتے۔

زندگی انہیں آہستہ آہستہ بڑا نہیں کر رہی تھی۔

زندگی انہیں زبردستی بڑا کر رہی تھی۔

وہ خود کہتے تھے کہ حالات نے انہیں کم عمری میں بوڑھا کردیا تھا۔

پھر زندگی نے ان سے ان کے والد بھی چھین لیے۔

وہ صرف اٹھائیس برس کے تھے جب ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سے دنیا سے رخصت ہوگئے۔

باپ کا سایہ اٹھا تو شاید نانا نے سوچا ہوگا کہ اب زندگی انہیں مزید کیا دے گی؟

مگر زندگی کے پاس ابھی ایک اور امتحان باقی تھا۔

والد کی وفات کے تقریباً ڈھائی برس بعد نانا نے اپنا کم عمر بیٹا کھو دیا۔

وہ بچہ جو پیدائش ہی سے طبی مسائل کا شکار تھا۔

اولاد کا غم شاید دنیا کا وہ دکھ ہے جس کے لیے کوئی زبان کافی نہیں ہوتی۔

باپ کا جنازہ انسان کو یتیم کرتا ہے،

بیٹے کا جنازہ انسان کے اندر کچھ دفن کردیتا ہے۔

نانا بھی ٹوٹے ہوں گے۔

شاید بہت ٹوٹے ہوں گے۔

لیکن کچھ لوگ ٹوٹ کر بکھر نہیں جاتے،

وہ ٹوٹ کر اور گہرے ہوجاتے ہیں۔

ان کے اندر زندگی کو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔

نانا نے برسوں بعد اس سانحے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہے تھے۔

پھر شاید انہیں سمجھ آیا کہ زندگی کسی ایک کامیابی، کسی ایک فلم، کسی ایک ایوارڈ یا کسی ایک تعریف کا نام نہیں۔

فلم چلے یا نہ چلے۔

لوگ تالیاں بجائیں یا خاموش رہیں۔

نام پوسٹر پر بڑا لکھا جائے یا چھوٹا۔

کچھ چیزیں ان سب سے کہیں بڑی ہوتی ہیں۔

انسان۔

رشتہ۔

زندگی۔

اور وقت۔

نانا پاٹیکر نے تھیٹر سے اپنا سفر شروع کیا۔

اسٹیج ان کے لیے صرف اداکاری کی جگہ نہیں تھا، شاید وہ ان کے لیے زندگی کی ایک نئی درسگاہ تھا۔

پھر 1978 میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔

ابتدا میں کامیابی نے ان کا ہاتھ نہیں تھاما۔

مگر جن لوگوں نے بھوک کے ساتھ چلنا سیکھ لیا ہو، وہ ناکامی سے جلدی نہیں ڈرتے۔

1986 میں ’انکوش‘ نے انہیں ایک الگ شناخت دی۔

پھر نانا پاٹیکر صرف اداکار نہیں رہے۔

وہ ایک انداز بن گئے۔

ایک آواز۔

ایک لہجہ۔

ایک آنکھ کا تاثر۔

ایک چہرے کی سختی۔

ایک مکالمے کی کاٹ۔

وہ کردار ادا کرتے نہیں تھے، کردار میں داخل ہوجاتے تھے۔

1991 میں انہوں نے ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ کی ہدایت کاری کی اور خود بھی مرکزی کردار ادا کیا۔

فوج سے وابستگی اور اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک ان کی زندگی کا ایک اور پہلو تھا۔

پھر وہی شخص، جس نے کبھی پینتیس روپے ماہانہ کے لیے فلموں کے پوسٹر پینٹ کیے تھے، ہندوستانی سنیما کے بڑے اعزازات حاصل کرنے لگا۔

’کرانتی ویر‘ کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ۔

پھر پدما شری۔

پھر بے شمار محبتیں، بے شمار کردار، بے شمار یادیں۔

لیکن شاید ان تمام اعزازات میں سب سے بڑا اعزاز وہ تھا

ان کے نام کے ساتھ ایک لفظ کافی تھا:

نانا۔

اور نانا صرف ایک نام نہیں رہا تھا۔

وہ ایک کیفیت بن چکا تھا۔

سرحد کے اِس پار بھی لوگ ان کے مکالمے یاد کرتے ہیں۔

ان کے کردار یاد کرتے ہیں۔

ان کے چہرے کے تاثرات یاد کرتے ہیں۔

کسی اداکار کی اصل کامیابی شاید یہی ہوتی ہے کہ اس کی فلم ختم ہوجائے مگر کردار ختم نہ ہو۔

پردہ گر جائے مگر آواز باقی رہے۔

کہانی ختم ہوجائے مگر کوئی منظر دل میں زندہ رہ جائے۔

نانا پاٹیکر کی یہی دولت تھی۔

انہوں نے ہمیں بتایا کہ اداکاری صرف خوبصورت چہرے کا نام نہیں۔

اداکاری درد کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔

غصے کو جھیلنے کا نام بھی ہے۔

خاموشی کو پڑھنے کا نام بھی ہے۔

اور شاید سب سے بڑھ کر انسان کو انسان کی طرح محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔

آج جب ان کے انتقال کی خبر سرحد پار سے آئی تو محسوس ہوا جیسے ہندوستانی سنیما کا ایک باب بند ہوگیا ہے۔

مگر فن کے باب بند نہیں ہوتے۔

وہ اگلی نسل کے ہاتھوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

نانا پاٹیکر چلے گئے، مگر ان کے کردار رہ گئے۔

ان کی آواز رہ گئی۔

ان کا انداز رہ گیا۔

ان کے مکالمے رہ گئے۔

اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی داستان رہ گئی جس میں تیرہ سال کا ایک غریب بچہ فلموں کے پوسٹر پینٹ کرتے ہوئے خواب دیکھتا ہے، زندگی سے لڑتا ہے، بھوک سہتا ہے، اپنوں کو کھوتا ہے، پھر ایک دن لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔

کیا یہ کسی فلم کی کہانی سے کم ہے؟

شاید نہیں۔

بلکہ یہ تو اس سے بھی بڑی کہانی ہے۔

کیونکہ فلم کا ہیرو اسکرپٹ کے مطابق چلتا ہے،

مگر زندگی کا ہیرو اپنی کہانی خود لکھتا ہے۔

نانا نے بھی اپنی کہانی خود لکھی۔

اس کہانی میں بہت سے آنسو تھے۔

بہت سی راتیں تھیں۔

بہت سی خالی جیبیں تھیں۔

بہت سے خواب تھے۔

اور بہت سی شکستیں تھیں۔

مگر آخر میں فتح تھی۔

ایسی فتح جو ایوارڈ سے بڑی تھی۔

ایسی فتح جو دولت سے بڑی تھی۔

ایسی فتح جو شہرت سے بھی بڑی تھی۔

یہ ایک انسان کی اپنے حالات پر فتح تھی۔

سرحد کے اِس پار سے آج ہم اس عظیم فنکار کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ہمارے درمیان سرحد ضرور ہے، مگر دکھ کی زبان ایک ہے، خوشی کی زبان ایک ہے اور فن کی زبان بھی ایک ہے۔

نانا پاٹیکر ہندوستان کے فنکار تھے، مگر ان کے فن پر کسی سرحد کا حق نہیں۔

وہ ممبئی کے پردے پر نظر آئے، مگر ان کے کردار فیصل آباد، لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور کے گھروں میں بھی دیکھے گئے۔

یہی تو فن کی طاقت ہے۔

وہ پاسپورٹ نہیں مانگتا۔

وہ ویزا نہیں مانگتا۔

وہ سرحد پر نہیں رکتا۔

وہ دل سے نکلتا ہے اور دل تک پہنچ جاتا ہے۔

آج نانا پاٹیکر خاموش ہوگئے ہیں۔

وہ آواز، جو پردے پر گونجتی تھی، اب نہیں گونجے گی۔

وہ آنکھیں، جن میں کرداروں کا غصہ اور درد دکھائی دیتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔

مگر شاید کچھ فنکار مرتے نہیں۔

وہ اپنے فن میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔

جب کبھی کوئی ’کرانتی ویر‘ دیکھے گا، نانا واپس آجائیں گے۔

جب کبھی ان کی کوئی فلم چلے گی، وہ دوبارہ پردے پر زندہ ہوں گے۔

جب کوئی ان کا مکالمہ دہرائے گا، ان کی آواز پھر سنائی دے گی۔

اور جب کبھی کوئی تیرہ سالہ بچہ غربت کے باوجود خواب دیکھے گا تو شاید نانا پاٹیکر کی زندگی اسے خاموشی سے یہ پیغام دے گی:

حالات انسان کی ابتدا طے کرسکتے ہیں، انجام نہیں۔

آج ایک اداکار نہیں گیا۔

آج ایک عہد رخصت ہوا ہے۔

ایک ایسا عہد جس نے ہمیں سکھایا کہ اصل اداکاری چہرے پر میک اپ کرنے سے نہیں آتی، زندگی کے زخموں سے آتی ہے۔

اور نانا پاٹیکر کے پاس زندگی کے زخم بہت تھے۔

اسی لیے شاید ان کی اداکاری میں زندگی بہت تھی۔

سرحد کے پار آج ایک فنکار سو گیا ہے۔

مگر اس کی کہانی جاگ رہی ہے۔

اور شاید برسوں تک جاگتی رہے گی۔

کہتے ہیں:

ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے

بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

نانا پاٹیکر شاید اب ہمارے درمیان نہیں۔

مگر ان کے افسانے ابھی ختم نہیں ہوئے۔

وہ ہر اس فلم میں موجود رہیں گے جس میں حقیقت اداکاری سے بڑی ہوگی۔

وہ ہر اس مکالمے میں زندہ رہیں گے جس میں لفظوں سے زیادہ احساس ہوگا۔

وہ ہر اس آنکھ میں نظر آئیں گے جس نے زندگی کی سختیاں دیکھی ہوں گی۔

اور ہر اس انسان کی کہانی میں کہیں نہ کہیں موجود ہوں گے، جو پینتیس روپے سے سفر شروع کرکے اپنی پہچان خود بنانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

نانا پاٹیکر کو سرحد کے اِس پار سے

ادب، محبت اور احترام کے ساتھ آخری سلام۔

فنکار رخصت ہوگیا ہے،

فن باقی ہے۔

آواز خاموش ہوگئی ہے،

مگر مکالمے باقی ہیں۔

انسان چلا گیا ہے،

مگر اس کی کہانی باقی ہے۔

اور شاید یہی کسی فنکار کی سب سے بڑی زندگی ہے۔

الوداع نانا پاٹیکر۔۔۔

آپ پردے سے رخصت ہوئے ہیں،

دلوں سے نہیں۔