Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عالمی برادری کا ضمیر اور شہباز کی پکار،تحریر:عقیل خان

نقطہ نظر
aqeel khan blog

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 25 ستمبر 2026 کو جنرل اسمبلی سے 23 منٹ کا خطاب کیا۔ یہ ان کا مسلسل چوتھا خطاب تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب نہ صرف پاکستان کا قومی مؤقف تھا، بلکہ یہ عالمی سطح پر ان سنگین مسائل کی جانب ایک مضبوط آواز تھی جو اقوام متحدہ سمیت بڑی طاقتیں خاموش تماشائی کا کردار ادار کررہی ہیں۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے نے غزہ کی تباہ کاریوں، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، عالمی ماحولیاتی ناانصافی اور مقروض ملکوں کو درپیش معاشی چیلنجز جیسے موضوعات کو جرات مندی کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔

وزیرا عظم پاکستان کی تقریر میں فلسطین کے حوالے سے سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی مظالم اور فلسطینیوں کے قتل عام کو کھلے الفاظ میں نسل کشی قرار دیا۔ دنیا کے تمام بڑے حکمرانوں کی موجودگی میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انسانی حقوق کے عالمی منشور کی افادیت صرف طاقتوروں کے لیے ہے؟ غزہ میں جلتی بستیوں، چیختے بچوں اور برباد ہوتے گھرانوں کا ذکر کر کے انہوں نے دنیا کے ناخداؤں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی اور یہ کوشش پہلی بار نہیں کی بلکہ کئی سالوں سے جاری ہے مگر افسوس جو انسان کے بنیادی حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر جہاں ان کی سیاسی و اقتصادی ترجیحات آڑے آئیں، وہاں مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

فلسطین کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کشمیر کا مقدمہ بھی انتہائی مدلل اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بعد ہندستان کی جانب سے اٹھائے گئے غیر قانونی اقدامات کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہم کشمیری بہن بھائیوں کو حقِ خودارادیت ملنے تک سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ بھارت کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور علاقے کی آبادیاتی صورتحال کو بدلنے کی ناپاک کوششوں کو عالمی پلیٹ فارم پر اجاگر کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم ضرورت تھی، جسے انہوں نے بطریق احسن پورا کیا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سعودی عرب، ترکیے، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوشش پر ممنون ہیں۔

وزیر اعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم وغصہ پیدا کیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ امن و استحکام کا ضامن ہے،تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ معاہد خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔

معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔

اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ خطاب بلاشبہ ایک مؤثر، جامع اور جرأت مندانہ کوشش تھی۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ جیسے فورمز، جو طویل عرصے سے محض ''بیان بازی کے اڈے '' بن چکے ہیں، ان آوازوں پر کان دھریں گے؟ کیا عالمی برادری فلسطین اور کشمیر پر لگے دورہرے معیار کو ختم کرنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے گی؟کیا اقوام متحدہ واقعی متحدہ ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات ہے۔

تقریر کی حد تک پاکستان نے اپنا کیس شاندار طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خطاب میں اٹھائے گئے نکات کو پاکستان کی مسلسل اور جارحانہ سفارت کاری کا حصہ بنایا جائے، تاکہ یہ باتیں صرف تقریروں تک محدود نہ رہ جائیں بلکہ عالمی فیصلے سازوں کو اپنے طرزِ عمل پرعمل کرنے پر مجبور کر سکیں۔