پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شوق اور جنون ،تحریر: بنتِ محبوب

نقطہ نظر

بچپن میں ہر بچے کا کوئی نہ کوئی شوق ضرور ہوتا ہے۔ کوئی آسمان میں جہاز دیکھ کر پائلٹ بننے کا خواب دیکھتا ہے تو کوئی استاد کی نقل اتار کر استاد بننا چاہتا ہے۔ مگر کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی کھلونے سے نہیں بلکہ لفظوں سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ بچہ سب سے الگ ہوتا ہے۔

 

وہ عام بچوں کی طرح شور نہیں مچاتا۔ اس کی جیب میں کنچے یا چاکلیٹ نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی ٹوٹی ہوئی پنسل اور مڑا تڑا کاغذ ہوتا ہے۔ وہ جو بھی دیکھتا ہے اس کی کہانی بنا لیتا ہے۔ اسکول سے آتے ہوئے راستے میں اسے کوئی بوڑھا شخص بیٹھا نظر آ جائے تو وہ گھر آ کر سوچتا ہے کہ اس کی زندگی کیا ہوگی۔ بارش ہو جائے تو وہ بھیگنے کے بجائے کھڑکی میں بیٹھ کر بارش پر کوئی نظم سوچنے لگتا ہے۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے لمحے ہوتے ہیں جہاں سے ایک لکھاری جنم لیتا ہے۔

 

شروع شروع میں یہ صرف ایک معصوم سا شوق ہوتا ہے۔ اسکول کی کاپی کے آخری صفحے پر بنے ہوئے دل، لکھے ہوئے آدھے ادھورے جملے، ڈائری میں چھپا کر لکھا ہوا اپنا دن۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ شوق دل میں جڑیں پکڑنے لگتا ہے۔ پھر وہ بچہ بڑا ہونے لگتا ہے اور اسے سمجھ آنے لگتا ہے کہ ہر بات زبان سے نہیں کہی جا سکتی۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف لکھے جا سکتے ہیں، کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اظہار صرف لفظوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ وہ ہجوم میں بیٹھ کر بھی تنہا لگتا ہے کیونکہ اس کے اندر ایک الگ ہی دنیا چل رہی ہوتی ہے۔ لوگ اسے خاموش اور کم گو سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اس کے اندر لفظوں کا ایک طوفان چل رہا ہوتا ہے۔

 

لکھاری بننا بظاہر بہت آسان لگتا ہے کہ ہاتھ میں قلم پکڑا اور لکھ دیا، مگر حقیقت میں یہ دنیا کا سب سے کٹھن راستہ ہے۔ یہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا راستہ ہے۔ سب سے پہلے اسے تنہائی سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب اس کے ہم عمر دوست باہر کھیل رہے ہوتے ہیں، میلے میں جا رہے ہوتے ہیں، وہ ایک کونے میں بیٹھا اپنی سوچوں سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور کئی بار اس کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔

 

پھر اسے اپنی ہی ذات سے جنگ کرنی پڑتی ہے۔ وہ ایک تحریر لکھتا ہے، اسے پڑھتا ہے، اسے پسند نہیں آتی اور پھاڑ دیتا ہے۔ پھر سے لکھتا ہے، پھر سے مٹا دیتا ہے۔ کئی راتیں وہ ایک ہی لفظ کی تلاش میں جاگ کر گزار دیتا ہے کہ کون سا لفظ یہاں زیادہ خوبصورت لگے گا۔ اسے ہزار بار ٹوٹنا پڑتا ہے اور ہزار بار خود کو جوڑنا پڑتا ہے۔ دنیا کے طعنے بھی سہنے پڑتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ لکھنے سے کیا ملے گا، اس سے پیسہ آئے گا، اس سے نوکری ملے گی، یہ سب تو وقت کا ضیاع ہے۔ یہ جملے اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگتے ہیں مگر یہی جملے اسے اندر سے پتھر کی طرح مضبوط بھی بنا دیتے ہیں۔

 

ایک سچا لکھاری بننے کے لیے لکھنے سے زیادہ پڑھنا پڑتا ہے۔ اسے دوسروں کی کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں، بڑے ادیبوں کو سمجھنا پڑتا ہے، راتوں کو جاگ جاگ کر لفظوں کا وزن سیکھنا پڑتا ہے۔ اسے اپنی ذات کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنا غم، اپنی خوشی، اپنی محبت سب کو لفظوں میں ڈھال دیتا ہے۔ کبھی کبھی وہ دوسروں کا دکھ لکھتے لکھتے اپنا دکھ بھی بھول جاتا ہے۔

 

یہ شوق کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بچپن میں یہ ایک چھوٹی سی خواہش ہوتا ہے، جوانی میں یہ جنون بن جاتا ہے اور بڑھاپے میں یہی جنون عبادت بن جاتا ہے۔ وہ لکھاری ساری زندگی اسی تلاش میں رہتا ہے کہ کوئی ایک ایسی تحریر لکھ جاؤں جو میرے بعد بھی زندہ رہے۔ وہ عام زندگی نہیں جیتا، وہ ہر لمحے کو محسوس کرتا ہے، ہر انسان کو ایک کردار کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر دکھ کو ایک نئی کہانی بنا دیتا ہے۔ یہی اس کی سزا بھی ہے اور یہی اس کا انعام بھی ہے۔