جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شور کی قیمت، چولہے کی آگ، تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

رات کے نو بجتے ہی ہمارے ملک میں ایک عجیب سی عدالت لگتی ہے۔ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں چار پانچ لوگ، جن میں سے دو چیخ رہے ہوتے ہیں اور باقی ایک دوسرے کی بات کاٹ رہے ہوتے ہیں، چند منٹوں میں فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ کون غدار ہے، کون وفادار، اور اگلی جنگ کب اور کیسے جیتی جائے گی۔ پس منظر میں توپوں کی آوازیں بجتی ہیں، اسکرین پر سرخ پٹیاں دوڑتی ہیں، اور گھر میں بیٹھا عام آدمی سوچ رہا ہوتا ہے کہ کل سبزی والے نے ٹماٹر کس بھاؤ بتائے تھے۔

یہ دو الگ دنیائیں ہیں۔ ایک وہ جو اسکرین پر ہے، جہاں ہر مسئلے کا حل "آر یا پار" ہے۔ دوسری وہ جو گھر کے اندر ہے، جہاں مسئلہ یہ ہے کہ مہینے کی بائیس تاریخ کو راشن ختم ہو جاتا ہے اور تنخواہ تیس کو آتی ہے۔

سرحد کے آر پار کشیدگی کی فضا نئی نہیں۔ دونوں طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو جنگ کی باتوں سے اپنی دکان چمکاتے ہیں: کوئی چینل کی ریٹنگ کے لیے، کوئی ووٹ کے لیے، کوئی سوشل میڈیا کے فالوورز کے لیے۔ جنگ کی باتیں بڑی سستی ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی تقریر، ایک بھڑکتی ہوئی ہیڈ لائن، ایک "فارورڈ" کیا ہوا پیغام، اور بس۔ اس کی اصل قیمت بعد میں وصول کی جاتی ہے، اور وہ بھی ان سے جنہوں نے کبھی یہ سودا کیا ہی نہیں تھا۔

ذرا حساب لگائیے کہ جنگ کا بل کون بھرتا ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھتا ہے تو تعلیم اور صحت کے حصے میں کٹوتی ہوتی ہے۔ سرحدی علاقوں کے کسان کی فصل بارود کی نذر ہو جاتی ہے۔ ماں کا بیٹا وردی پہنتا ہے تو واپسی میں پرچم میں لپٹا آتا ہے، اور ٹی وی پر اس کا نام دو دن چلتا ہے، پھر اگلی بریکنگ نیوز آ جاتی ہے۔ کسی سیاست دان کا بیٹا اس فہرست میں بمشکل ہی ملتا ہے۔

اور پھر وہ مہنگائی ہے جو کسی اعلان کے بغیر ہی گھر میں داخل ہو جاتی ہے۔ آج کی دنیا میں ایک خطے کی بے یقینی دوسرے خطے کے پیٹرول پمپ پر قیمت بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی والے کا خرچ نہیں بڑھتا۔ ٹرک کا کرایہ بڑھتا ہے، تو منڈی سے سبزی مہنگی آتی ہے۔ بجلی کی پیداگی لاگت بڑھتی ہے، تو بل میں اضافہ ہوتا ہے۔ رکشے والا کرایہ بڑھاتا ہے، تو دفتر جانے والا بجٹ کھینچتا ہے۔ یہ ایک زنجیر ہے جس کی ہر کڑی غریب کی جیب سے گزرتی ہے۔ جو ملک اپنی توانائی کی ضرورت کے لیے باہر پر انحصار کرتا ہے، اس کے لیے دنیا کے ہر کونے کا تناؤ اپنے گھر کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب پیٹ خالی ہو اور چولہا ٹھنڈا، تو "بڑی طاقت" بننے کا نعرہ کتنی دیر دل بہلا سکتا ہے؟

میں حب الوطنی کا مخالف نہیں۔ اپنے وطن سے محبت فطری بھی ہے اور خوبصورت بھی۔ مگر محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم عقل کو دروازے پر چھوڑ آئیں۔ سچی حب الوطنی شاید یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے بچوں کو اچھی تعلیم دیں، اسپتالوں میں دوا ملے، کھیتوں میں پانی پہنچے، اور نوجوان کو روزگار ملے۔ جو سیاست یا صحافت ان سوالات کو دبا کر صرف دشمن کی تصویر دکھاتی رہے، وہ دراصل اپنے لوگوں کو ایک بڑے مسئلے سے ہٹا کر ایک شور میں الجھائے رکھتی ہے۔

تاریخ بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے، ختم کرنا مشکل، اور ان کے بعد کی تعمیر اس سے بھی مشکل۔ آخر میں ہر جنگ کا انجام میز پر بیٹھ کر ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی یہ میز جنگ سے پہلے سجتی ہے، اور کبھی لاکھوں جانوں کے بعد۔ سمجھ داری وہ ہے جو پہلا راستہ چنے۔

پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے۔ یہ جغرافیہ کا فیصلہ ہے جسے کوئی تقریر بدل نہیں سکتی۔ ہماری زبان ملتی ہے، ہمارے گیت ملتے ہیں، ہمارے کھانوں کا ذائقہ ملتا ہے، ہماری دادی نانی کی کہاوتیں ملتی ہیں، اور سرحد کے دونوں طرف کی ماں کی دعا بھی ایک ہی ہوتی ہے کہ بیٹا خیریت سے گھر لوٹ آئے۔ جب کرکٹ کا میچ ہوتا ہے تو دونوں طرف کی گلیاں ایک ہی طرح سانس روک کر بیٹھتی ہیں۔ یہ مشترکہ دھڑکن سیاست کے نعروں سے زیادہ پرانی اور زیادہ سچی ہے۔

تو ہم عام لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ شاید بہت کچھ۔ پہلی بات یہ کہ جو خبر آپ کو غصے سے بھر دے، اسے آگے بھیجنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں کہ کیا یہ تصدیق شدہ ہے؟ بے شمار جھوٹی ویڈیوز اور پرانی تصویریں نئے نام سے گھوم رہی ہوتی ہیں، اور ہر "فارورڈ" کا بٹن دبانا دراصل کسی کے کھیل میں حصہ ڈالنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان چینلوں اور لوگوں کو پہچانیں جن کی روزی نفرت بیچنے سے چلتی ہے، اور انہیں اپنی توجہ کی خیرات نہ دیں۔ ریموٹ کا بٹن بھی ایک طرح کا ووٹ ہے۔ تیسری بات یہ کہ اپنے سیاسی نمائندوں سے وہ سوال پوچھیں جو واقعی اہم ہیں: مہنگائی کب کم ہوگی؟ روزگار کہاں ہے؟ تعلیم کا بجٹ کتنا بڑھا؟

آخر میں ایک بات اپنے آپ سے۔ جب بھی کوئی آپ سے کہے کہ "جنگ ہی واحد راستہ ہے"، تو یہ ضرور پوچھیے کہ یہ بات کہنے والا خود اس راستے کی کتنی قیمت ادا کرے گا۔ اکثر جواب آپ کو خود مل جائے گا۔

چولہے کی آگ اور سرحد کی آگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو، تو عقل مند معاشرے پہلی کو جلتا رکھتے ہیں اور دوسری کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ ہمارا شور ہمارے چولہوں کی گرمی سے