Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سوشل میڈیا نے محبت پیدا کی یا مقابلہ؟تحریر: محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

ایک زمانہ تھا جب کسی مرد کو کسی عورت سے محبت ہوتی تو اس محبت کا سب سے بڑا ثبوت اس کی بے قراری، انتظار اور وفاداری ہوا کرتی تھی، اور عورت کے لیے بھی محبت کا مطلب صرف خوب صورت الفاظ یا چند لمحوں کی گفتگو نہیں بلکہ کسی انسان کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرنا تھا۔ فاصلے تھے تو انتظار تھا، ملاقات کم تھی تو اس کی قدر زیادہ تھی، ایک خط کئی دنوں تک سنبھال کر رکھا جاتا تھا اور کسی کی آواز سن لینا بھی ایک یاد بن جایا کرتا تھا۔ پھر سوشل میڈیا آیا اور اس نے مرد اور عورت کے درمیان فاصلے تقریباً ختم کردیے۔ اب اجنبی بھی چند لمحوں میں ایک دوسرے سے متعارف ہوسکتے ہیں، ایک پیغام کئی میل کا فاصلہ مٹا سکتا ہے اور ایک تصویر کسی ایسے شخص کو ہماری زندگی میں لے آسکتی ہے جس سے شاید حقیقی زندگی میں کبھی ملاقات نہ ہوتی۔ بظاہر یہ تبدیلی محبت کے لیے ایک خوب صورت موقع تھی، مگر سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے واقعی مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے یا صرف ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ آسان کیا ہے؟ کیونکہ کسی انسان تک پہنچ جانا اور اس انسان کو سمجھ لینا ایک ہی بات نہیں۔ سوشل میڈیا نے محبت کو ایک نئی شکل ضرور دی ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس نے مرد اور عورت کے درمیان ایک ایسا مقابلہ بھی پیدا کردیا ہے جس کی بنیاد حقیقت سے زیادہ نمائش پر ہے۔ مرد اپنی کامیابی دکھاتا ہے، اپنی گاڑی دکھاتا ہے، اپنے کاروبار، سفر، لباس اور طرزِ زندگی کی تصاویر سامنے رکھتا ہے، جبکہ عورت اپنی خوب صورتی، لباس، تقریبات، خوشیوں اور زندگی کے حسین لمحوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ سب کچھ صرف اظہار نہیں رہتا بلکہ ایک دوسرے کے لیے معیار بن جاتا ہے۔ مرد دوسرے مردوں کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ مجھے بھی اتنا کامیاب، اتنا صاحبِ حیثیت اور اتنا پرکشش دکھائی دینا چاہیے، عورت دوسری عورتوں کو دیکھ کر اپنی شکل، لباس، گھر اور زندگی کا موازنہ کرنے لگتی ہے۔ پھر یہی موازنہ مرد اور عورت کے تعلق میں داخل ہوجاتا ہے۔ انسان سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو اس کی حقیقت کے مطابق نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی دنیا کے مطابق پرکھنے لگتا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا پر کوئی اپنی پوری زندگی نہیں دکھاتا، ہر شخص اپنی زندگی کا وہ حصہ سامنے لاتا ہے جسے وہ دوسروں کو دکھانا چاہتا ہے۔


محبت کے لیے سب سے ضروری چیز اعتماد تھا، مگر سوشل میڈیا نے اعتماد کے ساتھ نگرانی بھی پیدا کردی۔ اب تعلق میں صرف یہ کافی نہیں کہ سامنے والا آپ سے محبت کرتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس کو فالو کرتا ہے، کس کی تصویر پسند کرتا ہے، کس کی پوسٹ پر تبصرہ کرتا ہے، کس کے پیغام کا جواب دیتا ہے اور کس کی تصویر دیکھ کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی سا لائک شک پیدا کرسکتا ہے، ایک اجنبی کی درخواست بحث کا سبب بن سکتی ہے اور کسی پرانے دوست کی تصویر پورے رشتے میں بے چینی پیدا کرسکتی ہے۔ محبت جو کبھی دو انسانوں کے درمیان اعتماد کا نام تھی، اب بعض اوقات پاس ورڈ، موبائل اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی تک پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو یا نہیں، سوال یہ بن جاتا ہے کہ تم نے اس تصویر کو پسند کیوں کیا، اسے جواب کیوں دیا اور اسے فالو کیوں کیا۔ یوں سوشل میڈیا نے محبت کے درمیان وہ تیسرا شخص پیدا کردیا ہے جس کا کوئی جسم نہیں مگر جس کی موجودگی ہر وقت محسوس ہوتی ہے۔


اس دنیا کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت دونوں نے ایک دوسرے کے لیے ایسے معیار قائم کرلیے ہیں جو حقیقی زندگی سے زیادہ سوشل میڈیا نے بنائے ہیں۔ کسی عورت کو ایک ایسا مرد چاہیے جو کامیاب بھی ہو، خوب صورت بھی ہو، رومانوی بھی ہو، ہر وقت دستیاب بھی ہو، مہنگے تحفے بھی دے اور زندگی کو ہمیشہ خوشیوں سے بھر دے، جبکہ کسی مرد کے ذہن میں بھی عورت کی ایک ایسی تصویر بن چکی ہے جو حقیقت میں شاید کسی ایک انسان میں موجود ہی نہ ہو۔ خوب صورتی کے فلٹرز نے چہرے بدل دیے، کیمرے کے زاویوں نے جسم بدل دیے، مصنوعی روشنی نے رنگ بدل دیے اور ایڈیٹنگ نے معمولی خامیوں تک کو ختم کردیا، پھر انسان نے انہی مصنوعی تصویروں کو حقیقت سمجھ کر حقیقی لوگوں کو ناپنا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سامنے بیٹھا ہوا ایک بالکل عام انسان ہمیں کم خوب صورت، کم کامیاب یا کم پرکشش محسوس ہونے لگا، کیونکہ ہماری آنکھیں ایک ایسی دنیا دیکھنے کی عادی ہوگئی تھیں جہاں ہر چیز بہترین دکھائی دیتی ہے۔


یہ مقابلہ صرف ظاہری شکل و صورت تک محدود نہیں رہا بلکہ محبت کے اظہار تک پہنچ گیا ہے۔ کس نے سالگرہ پر کیا تحفہ دیا، کس نے شادی کی سالگرہ پر کیا لکھا، کس نے اپنی بیوی کے لیے کیا پوسٹ کیا، کس نے اپنے شوہر کے ساتھ کتنی خوب صورت تصویر لگائی، کس کے لیے کس نے پھول خریدے، کس کو کہاں گھمایا گیا، کس کے گھر میں کتنی خوشیاں دکھائی دیتی ہیں؛ یہ سب کچھ اب نجی زندگی نہیں رہا۔ ایک ایسا جوڑا جو حقیقت میں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتا ہو، اگر اپنی محبت دکھانے کے لیے کچھ پوسٹ نہ کرے تو دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ شاید ان کے درمیان محبت نہیں، جبکہ ایک دوسرا جوڑا ہر روز محبت کے پیغامات اور تصاویر پوسٹ کرتا رہے تو لوگ اسے مثالی جوڑا سمجھ سکتے ہیں، چاہے گھر کے اندر ان کے درمیان کتنی ہی دوریاں کیوں نہ ہوں۔ ہم نے محبت کو محسوس کرنے کے بجائے اسے دکھانا شروع کردیا ہے، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں محبت آہستہ آہستہ مقابلے میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔


سوشل میڈیا نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے متبادل بھی بے شمار دکھا دیے ہیں۔ پہلے کسی رشتے میں اختلاف ہوتا تو انسان اسے سلجھانے کی کوشش کرتا تھا، کیونکہ تعلق آسانی سے ختم کرکے اگلا تعلق شروع کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ آج کسی رشتے میں معمولی اختلاف پیدا ہو تو اسکرین پر سینکڑوں نئے چہرے موجود ہیں، نئی دوستیاں ممکن ہیں، نئے رابطے بن سکتے ہیں اور انسان کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اگر یہ شخص مجھے سمجھ نہیں رہا تو کوئی دوسرا ضرور سمجھ لے گا۔ یہی سوچ تعلقات میں برداشت کو کم کرسکتی ہے۔ محبت کا حسن یہ تھا کہ دو انسان ایک دوسرے کی خامیوں کے باوجود ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے تھے، مگر اب بعض اوقات انسان خوبیوں کی فہرست لے کر شریکِ حیات تلاش کرتا ہے اور پہلی کمی نظر آتے ہی اگلے انتخاب کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ انسان کوئی آن لائن پروفائل نہیں کہ پسند نہ آئے تو اگلا صفحہ کھول لیا جائے، مگر سوشل میڈیا نے تعلقات میں بھی انتخاب کی یہ عادت پیدا کردی ہے۔


اس کے باوجود سوشل میڈیا کو محبت کا دشمن قرار دینا انصاف نہیں ہوگا۔ اسی ذریعے نے ایسے لوگوں کو ملایا ہے جو شاید زندگی بھر ایک دوسرے سے نہ مل پاتے، دور بیٹھے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے، پردیس میں موجود اولاد کو والدین سے جوڑے رکھا ہے اور بہت سے رشتوں میں رابطے کو آسان بنایا ہے۔ مسئلہ ذریعہ نہیں، اس کا استعمال ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو کسی انسان کو سمجھنے، اس سے رابطے میں رہنے اور اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ فاصلے کم کرسکتا ہے، لیکن اگر اسے موازنہ، نگرانی، دکھاوے اور اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے تولنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی سوشل میڈیا انسان کے سکون کا دشمن بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کی پروفائل اس کی پوری شخصیت نہیں، کسی کی تصویر اس کی پوری زندگی نہیں اور کسی کی مسکراہٹ اس کے دل کی مکمل کیفیت نہیں۔


اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ سوشل میڈیا نے مرد اور عورت کے درمیان محبت پیدا کی یا مقابلہ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان نے محبت کو بھی مقابلے کی دنیا میں لا کھڑا کیا ہے۔ ہم شریکِ حیات چاہتے ہیں مگر اس میں دنیا بھر کے انسانوں کی بہترین خصوصیات جمع کرنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ خوب صورت بھی ہو، کامیاب بھی، دولت مند بھی، رومانوی بھی، سمجھ دار بھی اور ہماری ہر خواہش کو سمجھنے والا بھی، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے سامنے بھی ایک انسان ہے، کوئی مکمل کردار نہیں۔ جس طرح ہمیں اپنی خامیوں کے ساتھ قبول کیے جانے کی خواہش ہے، اسی طرح دوسرے انسان کو بھی یہی حق حاصل ہے۔ محبت شاید وہ نہیں جو دنیا کو دکھائی جائے، محبت تو وہ ہے جو دنیا سے چھپ کر بھی قائم رہے؛ وہ شخص جو تصویر میں خوب صورت لگنے کے بجائے مشکل وقت میں خوب صورت کردار دکھائے، وہ عورت جو سوشل میڈیا پر ہزاروں پسندیدگیاں حاصل کرنے کے بجائے ایک انسان کے دکھ کو سمجھ سکے، اور وہ مرد جو دنیا کے سامنے اپنی حیثیت ثابت کرنے کے بجائے اپنے گھر میں اپنے کردار سے پہچانا جائے۔


سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ ضرور دیا ہے، مگر ایک دوسرے تک پہنچنے کے بعد رک کر انسان کو سمجھنے کا ہنر ہمیں خود سیکھنا ہوگا۔ محبت لائکس کی محتاج نہیں، وفا فالوورز سے نہیں ملتی، کردار کسی تصویر کے نیچے نظر نہیں آتا اور رشتے کمنٹس کی تعداد سے مضبوط نہیں ہوتے۔ مرد اور عورت دونوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں یا ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہتے ہیں۔ اگر زندگی صرف اسکرین پر گزاری جائے گی تو ہر شخص کو اپنے سے بہتر کوئی نہ کوئی ضرور نظر آئے گا، مگر اگر زندگی کو حقیقت میں جیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی اصل خوب صورتی اس کے چہرے، لباس، گاڑی یا پروفائل میں نہیں بلکہ اس کے برتاؤ، وفا، ظرف اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ شاید محبت کو بچانے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا چھوڑنے کی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی مصنوعی دنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ محبت وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں دکھاوا ختم ہوتا ہے اور دو انسان ایک دوسرے کو ویسا ہی دیکھنے لگتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں ہیں۔