تہذیب کا جنازہ اور ہمارا معاشرہ،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
کبھی کبھی انسان اپنے اردگرد پھیلے ہوئے ہجوم کو دیکھتا ہے تو دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی ہم پہلے سے زیادہ مہذب ہو گئے ہیں؟ ہمارے پاس پہلے سے بہتر لباس ہے، رہنے کے لیے خوبصورت گھر ہیں، سفر کے لیے جدید گاڑیاں ہیں اور ہاتھوں میں ایسی مشینیں ہیں جن کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے چند لمحوں میں رابطہ کیا جا سکتا ہے، لیکن کیا ہمارے دل بھی پہلے سے زیادہ کشادہ ہوئے ہیں؟ کیا ہمارے رویوں میں نرمی آئی ہے؟ کیا ہم نے دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے؟ اگر ان سوالوں کے جواب تلاش کیے جائیں تو شاید ہماری ظاہری ترقی کے پیچھے چھپی ایک تلخ حقیقت سامنے آ جائے کہ ہم نے سہولتیں تو بہت جمع کر لیں، مگر زندگی کو خوبصورت بنانے والی کئی عادتیں کہیں راستے میں چھوڑ آئے ہیں۔ معاشرہ صرف چند لوگوں کے اکٹھے رہنے کا نام نہیں، یہ احساسات، رشتوں، ذمہ داریوں اور ایک دوسرے کے حقوق کا مجموعہ ہے۔ اس معاشرے کی عمارت محبت اور احترام کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور پڑ جائے تو بلند و بالا دیواریں بھی کسی کام نہیں آتیں۔ آج ہمارے ہاں ہر شخص اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے، مگر دوسروں کے حق کی بات آئے تو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت کریں، ہماری بات سنیں اور ہمارے جذبات کا خیال رکھیں، لیکن دوسروں کے ساتھ یہی رویہ اپنانے میں اکثر کوتاہی کر جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کے پاس شاید آج جیسی آسائشیں نہیں تھیں، مگر ان کے پاس ایک ایسی دولت ضرور تھی جس کی قیمت کسی بازار میں نہیں لگائی جا سکتی۔ وہ دولت خلوص، خودداری اور انسان دوستی کی تھی۔ گاؤں کی گلیوں میں کسی اجنبی کا آ جانا بھی لوگوں کو اس کی خبر گیری پر آمادہ کر دیتا تھا۔ کسی کے گھر میں پریشانی ہوتی تو دوسرے گھر کے لوگ مدد کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ رشتے صرف ناموں سے نہیں پہچانے جاتے تھے بلکہ ان کے پیچھے قربانی اور ذمہ داری کا احساس بھی موجود ہوتا تھا۔ آج ہمارے پاس رابطے کے ہزاروں ذرائع ہیں، مگر بعض اوقات اپنے ہی رشتوں کا حال معلوم کرنے کے لیے فرصت نہیں ملتی۔ یہ کیسی ترقی ہے کہ دنیا کی خبریں ہماری انگلیوں پر ہیں، لیکن اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے؟ تہذیب کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ ہم کھانا کس انداز میں کھاتے ہیں، لباس کیسا پہنتے ہیں یا محفل میں کس طرح بیٹھتے ہیں۔ تہذیب تو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کوئی کمزور ہمارے سامنے کھڑا ہو، کوئی غریب ہم سے مدد مانگے، کوئی ماتحت غلطی کر بیٹھے یا کوئی شخص ہماری رائے سے اختلاف کرے۔ طاقت کے باوجود معاف کر دینا، اختیار کے باوجود انصاف کرنا اور اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت برقرار رکھنا ہی حقیقی شائستگی ہے۔ نرم لہجے میں بات کرنا، کسی کی مجبوری کا مذاق نہ اڑانا اور کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھنا وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو دوسروں کی نظروں میں قابلِ احترام بناتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اچھے انسان سے زیادہ کامیاب انسان کی تعریف کرنا شروع کر دی ہے۔ کسی کے پاس دولت، عہدہ یا شہرت ہو تو اس کی معمولی بات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ایک دیانت دار اور سادہ انسان اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم بچوں کو بڑے عہدوں تک پہنچنے کی ترغیب تو دیتے ہیں، مگر انہیں یہ سمجھانا بھول جاتے ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لیے بڑا عہدہ ضروری نہیں۔ اصل بڑائی اس کردار میں ہے جو کسی کا حق نہ مارے، کسی کی عزت کو نقصان نہ پہنچائے اور اپنے فائدے کے لیے اصولوں کا سودا نہ کرے۔ ہماری تہذیب کو سب سے زیادہ نقصان اس وقت پہنچتا ہے جب غلط بات کو معمول سمجھ لیا جائے۔ جھوٹ کو چالاکی، بدتمیزی کو بے باکی، خود غرضی کو سمجھ داری اور دوسروں کو نیچا دکھانے کو کامیابی کا نام دے دیا جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ اپنی اخلاقی سمت کھونے لگتا ہے۔ اس زوال کی ذمہ داری کسی ایک طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ والدین، اساتذہ، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے ہر فرد کا اپنا کردار ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل اچھی اقدار اپنائے تو ہمیں پہلے اپنی زندگی میں ان اقدار کے لیے جگہ بنانا ہوگی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نیا زمانہ اپنے ساتھ نئے تقاضے لے کر آتا ہے۔ ہمیں جدید تعلیم، سائنسی ترقی اور بدلتے ہوئے حالات کو قبول کرنا چاہیے، لیکن اس قبولیت کا مطلب اپنی شناخت سے دست بردار ہونا نہیں۔ اپنی زبان سے محبت، اپنی ثقافت کا احترام، بزرگوں کی قدر، چھوٹوں سے شفقت اور انسانیت کی خدمت ایسے اوصاف ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں انسان کو عزت دلاتے ہیں۔ روایت وہ بوجھ نہیں جسے ہر حال میں اٹھائے رکھا جائے، بلکہ وہ سرمایہ ہے جس میں سے اچھی باتوں کو سنبھال کر آگے بڑھنا اور نقصان دہ رویوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو محض تنقید کا موضوع بنانے کے بجائے اس کی اصلاح کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔ کسی سے ملیں تو خلوص سے ملیں، اختلاف ہو تو تہذیب کا دامن نہ چھوڑیں، کسی ضرورت مند کو دیکھیں تو ممکنہ مدد کریں اور کسی کی غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے اصلاح کا راستہ دکھائیں۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہی بڑے معاشرتی تغیر کا سبب بنتی ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا، کسی دکھی انسان کی بات سن لینا اور کسی کا حق ادا کر دینا بظاہر معمولی کام ہیں، مگر انہی سے معاشرے میں انسانیت زندہ رہتی ہے۔ آخر میں ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم آنے والی نسل کے لیے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ چند جائیدادیں، کچھ دولت اور چند یادگاریں، یا ایک ایسا کردار بھی جسے دیکھ کر ہمارے بچے سچائی، احترام اور محبت کا مطلب سمجھ سکیں؟ تہذیب کتابوں میں محفوظ الفاظ کا نام نہیں، یہ انسان کے روزمرہ رویوں میں سانس لیتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویے درست کر لیے تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگے گا، اور اگر ہم نے صرف دوسروں کی اصلاح کے خواب دیکھے تو آنے والی نسلیں بھی انہی سوالوں کے ساتھ کھڑی ہوں گی جن کا جواب ہم آج تک تلاش کر رہے ہیں۔ قوموں کی شناخت ان کے دعووں سے نہیں، ان کے کردار سے بنتی ہے؛ اور تہذیب کا تحفظ کسی ایک شخص کی ذمہ داری نہیں، ہم سب کا مشترکہ فرض ہے





