Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تماشائی معاشرہ،تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

ہم ایک ایسے غلیظ اور عبرت ناک دورِ جاہلیتِ جدید میں جیتے جی مر رہے ہیں جہاں انسان کا سستا ترین سودا اور انسانیت کا بدترین جنازہ روزِ روشن میں اٹھایا جاتا ہے۔ یہ وہ بیدار مغز اور باحمیت معاشرہ نہیں جو ظالم کا ہاتھ کاٹ ڈالے اور مظلوم کا ڈھال بنے، بلکہ یہ وہ مفلوج اور ذلیل بھیڑ ہے جو سڑک پر تڑپتے، خون میں لت پت انسان کی اخلاقی موت کا نظارہ کرتی ہے اور اس کے آخری سانسوں کی الٹرا ایچ ڈی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لائیکس، فالوورز اور کمنٹس کی بھیک مانگتی ہے۔ ہم نے حمیت، غیرت اور بنیادی انسانیت کو زوال کے گٹر میں پھینک کر خود کو ایک ایسی سنگ دل قوم میں تبدیل کر لیا ہے جس کا دین، ایمان اور واحد مقصدِ حیات صرف اور صرف ’تماشا‘ دیکھنا اور دوسروں کے زوال پر چٹخارے لینا رہ گیا ہے۔

آج شہر کا ہر چوہراہ اک مذبح خانہ اور ہر گلی کسی خونچکاں المیے کا سیٹ بن چکی ہے۔ کہیں بے گناہ پر تشدد کا ننگا ناچ ہو رہا ہوتا ہے، کہیں کسی کی چادر تار تار کی جا رہی ہوتی ہے، اور کہیں حادثے کا شکار انسان مدد کے لیے پکار رہا ہوتا ہے۔ لیکن ارد گرد کھڑا ہجوم نجات دہندہ یا انسان بننے کے بجائے بے حسی کا مجسمہ اور سستا ولاگر بنا ہوتا ہے۔ ہماری حسیات اس قدر مردہ، ضمیر اس قدر زنگ آلود اور غیرت اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ کسی کی دردناک آہ پر ہماری روح نہیں کانپتی، ہماری آنکھوں میں شرم کا پانی نہیں آتا؛ ہماری انگلیاں صرف اور صرف سکرین پر ریکارڈنگ کا بٹن تلاش کرتی ہیں۔ ہم برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے بجائے اس کی لائیو سٹریمنگ کا لطف اٹھانے والے درندے بن چکے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اس ہوس زدہ اور بیمار دور نے ہمیں احساس سے یکسر عاری اور ننگِ انسانیت بنا دیا ہے۔ ہم حادثات پر ماتم کرنے اور عبرت پکڑنے کے بجائے ان کے ڈجیٹل مناظر کی ریٹنگز تولتے ہیں۔ ظالم جب تک ظلم کی اخلاقی و انسانی حدیں پار کرتا رہتا ہے، تماشائی خاموشی کے گناہِ کبیرہ میں برابر کے شریک رہتے ہیں۔ یاد رکھیے، سڑک پر کھڑا ہو کر ظلم کا نظارہ کرنے والا ہر خاموش تماشائی اس جرم کا برابر کا شریکِ جرم ہے۔ جب قومیں تماشائی بن جاتی ہیں تو ان کی تقدیر میں اصلاح نہیں، بلکہ تباہی، ذلت اور عبرت ناک نابودی لکھی جاتی ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا تازیانہ یہ ہے کہ اس نے کبھی ان قوموں کو معاف نہیں کیا جنہوں نے ظالم کو روکنے کے بجائے اس کے ظلم کی ویڈیو بنا کر اپنے ضمیر کا سودا کیا۔

ہم صرف سڑکوں کے حادثات کے تماشائی نہیں، بلکہ بحیثیتِ مجموعی اپنے ہی اخلاقی زوال، معاشی تباہی اور معاشرتی گلنے سڑنے پر مہرِ سکوت ثبت کیے بیٹھنے والے بزدل لوگ ہیں۔ غیرت کا جنازہ اتنے دھوم دھام سے نکلا ہے کہ اب اسی جنازے پر تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ رشوت خوری ہو، ناانصافی ہو، یا سڑک پر کسی بے گناہ کا قتل—ہم ہر منظر کو یوں دیکھتے ہیں جیسے یہ کسی دوسرے سیارے کا کھیل ہو۔ ہم نے احتجاج کو صرف چند سستا فقروں اور پوسٹس تک محدود کر دیا ہے اور عمل کے میدان سے ننگِ خلق بن کر فرار حاصل کر لیا ہے۔

یہ تماشائی پن دراصل ہماری روح کا کینسر ہے۔ جہاں لوگ کسی کی موت کو بھی اپنے ڈجیٹل اکاؤنٹ کی پیشرفت کا ذریعہ سمجھنے لگیں، وہاں اخلاقیات کا جنازہ تو پہلے ہی اٹھ چکا ہوتا ہے۔ ہم اتنے بزدل ہو چکے ہیں کہ مظلوم کی چیخیں ہمارے کانوں کے پردوں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہیں لیکن ہمارے قدم آگے نہیں بڑھتے۔ ہم ہر واقعے کو ایک "ٹرینڈ" سمجھتے ہیں، جو چوبیس گھنٹے بعد پرانا ہو جاتا ہے اور ہم کسی نئے حادثے، کسی نئی خونچکاں ویڈیو کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

اگر اس گہرے اخلاقی گڑھے اور تماشائی پن کے ناسور سے باہر نکلنا ہے، تو ہمیں چند بنیادی انقلابی قدم اٹھانے ہوں گے:

حادثے یا ظلم کے موقع پر پہلا ردِ عمل فون نکالنا نہیں، بلکہ ہاتھ بڑھا کر مدد کرنا ہونا چاہیے۔ یہ اصول بنانا ہوگا کہ انسانی زندگی اور عزت کسی بھی ویڈیو سے ہزار گنا زیادہ قیمتی ہے۔

معاشرتی سطح پر خاموش تماشائی بننے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسے قانون نافذ کیے جائیں جہاں شدید حادثے میں مدد کے بجائے صرف ویڈیو بنانے والوں کو نااہلی اور جرم کا شریک سمجھا جائے۔

سوشل میڈیا پر ایسی دردناک یا تذلیل آمیز ویڈیوز کو لائیک، شیئر یا وائرل کرنے کے بجائے ان کا سکرول بائیکاٹ کیا جائے۔ ڈجیٹل اخلاقیات کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کی حسیات کو مردہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

جب تک ہم "مجھے کیا" اور "میرا معاملہ نہیں" کے بزدلانہ فلسفے کو دفن نہیں کریں گے، تب تک یہ سوسائٹی زندہ نہیں ہو سکتی۔ ظلم کے خلاف بلا تفریق آواز اٹھانا اور مظلوم کی ڈھال بننا ہی زندگی کی علامت ہے۔

اگر ہم نے اب بھی اس بے حسی کی دلدل سے نکل کر عملی غیرت کا مظاہرہ نہ کیا، تو یاد رکھیے، تباہی کا وہ حتمی وقت دور نہیں جب اس تماش گاہِ عالم کا ڈراپ سین ہو جائے گا—نہ کوئی تماشا دکھانے والا باقی رہے گا، اور نہ ہی تالیاں بجانے والا تماشائی! جب ظلم اور بربریت کی یہ آگ کل کو سلگتی ہوئی آپ کے اپنے آشیانے کی دہلیز تک پہنچے گی، تو چیخ و پکار اور فریاد کے باوجود مدد کے لیے کوئی انسان آگے نہیں بڑھے گا، بلکہ ارد گرد محض تماشائیوں کی کھلی آنکھیں اور بے حس موبائل کیمرے ہوں گے!