پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعمیری و منفی تنقید اور معاشرتی رویے، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

زندگی کا میدان عجیب ہے۔ یہاں بعض لوگ آپ کے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہیں، کچھ آپ کی رفتار بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پوری توجہ اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ آپ کے قدم لڑکھڑا جائیں۔ ان کے نزدیک آپ کی کامیابی کوئی قابلِ تحسین واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا امکان ہے جسے حقیقت بننے سے روکنا ضروری ہے۔ وہ آپ کی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے ہیں، آپ کے ارادوں میں کیڑے نکالتے ہیں اور آپ کی ہر کوشش کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ دوسروں کی سوچ کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار کیوں دے دیتے ہیں؟


معاشرے کی منفی سوچ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کی ناکامی سے زیادہ اس کی کامیابی کے امکان سے خوف زدہ دکھائی دیتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی روایتی حدود سے باہر نکلنے، کوئی نیا راستہ اختیار کرنے یا اپنے لیے کوئی بڑا ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے امکانات کی نہیں، خطرات کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ کام تمہارے بس کا نہیں، تم سے پہلے بھی کئی لوگ ناکام ہو چکے ہیں، تمہاری حیثیت کیا ہے، تمہاری اوقات کیا ہے؟ یوں ایک ممکنہ کامیابی کو ابتدا ہی میں اندیشوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔


یہ رویہ محض انفرادی مسئلہ نہیں، ہماری اجتماعی نفسیات کا بھی حصہ ہے۔ ہم اکثر محفوظ راستوں کو دانش مندی اور نئے راستوں کو حماقت سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم دوسروں کو خطرہ مول لینے سے منع کرتے ہیں، مگر خود یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی تہذیب کی تاریخ میں کوئی بڑی پیش رفت محض اس لیے ممکن نہیں ہوئی کہ سب لوگ پہلے سے آزمودہ راستوں پر چلتے رہے۔ پہیہ ایجاد کرنے سے لے کر خلا کی تسخیر تک، ہر بڑی کامیابی کے پیچھے کسی ایسے ذہن کا ہاتھ تھا جس نے مروجہ تصورات سے آگے دیکھنے کی جرأت کی۔


تاہم، یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر تنقید منفی نہیں ہوتی اور ہر اختلاف دشمنی کی علامت نہیں ہوتا۔ تعمیری تنقید وہ آئینہ ہے جو ہماری کمزوریوں کو دکھا کر ہمیں بہتر ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے، جب کہ منفی تنقید اکثر ہماری خود اعتمادی کو مجروح کرکے ہمیں اپنی صلاحیتوں ہی پر شک کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ عقل مندی یہ نہیں کہ انسان ہر تنقید کو رد کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تنقید کے شور میں سے اصلاح کی آواز پہچان سکے۔ جو بات دلیل رکھتی ہو، اسے قبول کرنے میں کوئی عار نہیں؛ لیکن جو بات محض تحقیر، حسد یا حوصلہ شکنی پر مبنی ہو، اسے اپنے مستقبل کا رہنما بنا لینا خود اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔


زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے خود اعتمادی ناگزیر ہے، مگر خود اعتمادی کا مطلب اپنی ہر بات کو درست اور اپنی ہر کوشش کو کامیاب سمجھ لینا نہیں۔ حقیقی خود اعتمادی اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کے ساتھ اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ غلطی ہو جائے تو راستہ بدلا جا سکتا ہے، منصوبہ ناکام ہو جائے تو حکمتِ عملی پر نظرثانی کی جا سکتی ہے، لیکن ایک ناکام تجربے کو اپنی پوری شخصیت کی ناکامی قرار دینا درست نہیں۔ ناکامی کسی کوشش کا نتیجہ ہو سکتی ہے، انسان کی حتمی شناخت نہیں۔


اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کامیابی کے بارے میں اپنے تصورات پر بھی نظرثانی کریں۔ ہم اکثر کامیابی کو ایک منزل سمجھتے ہیں، جہاں پہنچنے کے بعد زندگی کے تمام مسائل ختم ہو جاتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر نئی منزل اپنے ساتھ نئے سوالات، نئی ذمہ داریاں اور نئے امتحانات لے کر آتی ہے۔ کامیاب انسان وہ نہیں جسے کبھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، بلکہ وہ ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے مقصد اور حالات کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔ استقامت کا مطلب دیوار سے سر ٹکراتے رہنا نہیں؛ کبھی اس کا تقاضا راستہ بدلنا، اپنی غلطی ماننا اور نئی حکمتِ عملی اختیار کرنا بھی ہوتا ہے۔


یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: منفی باتوں کو خود پر حاوی ہونے سے کیسے روکا جائے؟ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی کے مقاصد واضح کیے جائیں۔ جس شخص کو معلوم ہو کہ اسے کہاں پہنچنا ہے، وہ ہر آواز کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنے راستے کا جائزہ لیتا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ اپنی توانائی کا بڑا حصہ بحث و تکرار پر خرچ کرنے کے بجائے عملی کام میں صرف کیا جائے۔ بعض اوقات بہترین جواب کسی مخالف کو دیا جانے والا جملہ نہیں، بلکہ وہ نتیجہ ہوتا ہے جو خاموش محنت کے بعد سامنے آتا ہے۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے جو ہماری غلطیوں کی نشان دہی بھی کریں اور ہماری بہتری کے امکانات پر یقین بھی رکھیں۔ انسان تنہا بھی آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن مثبت ماحول اس کے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔


معاشرے کو بھی اس حوالے سے اپنے رویوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ہم اپنے بچوں، نوجوانوں، تخلیق کاروں اور نئے امکانات کی تلاش میں سرگرداں افراد کو اکثر پہلے ہی قدم پر احتیاط کے نام پر خوف کا تحفہ دے دیتے ہیں۔ ہمیں اختلافِ رائے کا احترام، ناکامی کو سیکھنے کے عمل کا حصہ اور کامیابی کو اجتماعی ترقی کا وسیلہ سمجھنا ہوگا۔ جو معاشرہ اپنے خواب دیکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے امکانات سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔


زندگی کا سفر کسی دوسرے شخص کی منظوری کا محتاج نہیں، البتہ ذمہ داری، محنت، علم اور مسلسل احتساب کا ضرور پابند ہے۔ اگر آپ کسی مقصد کے لیے نکلے ہیں تو لوگوں کی رائے سنیں، اپنے تجربات سے سیکھیں، غلطیوں کی اصلاح کریں اور ضرورت پڑنے پر اپنا طریقہ کار تبدیل کریں۔ لیکن صرف اس لیے دست بردار نہ ہوں کہ کسی نے آپ کے خواب کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔آخرکار، انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ اس کے راستے میں کتنی رکاوٹیں آئیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان رکاوٹوں کے سامنے اپنی سوچ، اپنے حوصلے اور اپنی سمت کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔ ہر آواز کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر مخالفت سے الجھنا لازم نہیں اور ہر ناکامی پر خود کو مجرم ٹھہرانا بھی دانش مندی نہیں۔