تقاریب کا اسراف اور کچرے میں جاتارزق،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی اور ظاہری چکا چوند نے ہماری آنکھوں پر بے حسی کی پٹی باندھ دی ہے۔ ہم بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ خود کو مہذب اور ترقی یافتہ کہلواتے ہیں لیکن جب ہم اپنے سماجی رویوں کا گہرا جائزہ لیتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی اور سماجی برائیاں جنم لے چکی ہیں لیکن ان میں سب سے سنگین، دردناک اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا مسئلہ "رزق کا ضیاع اور کھانے کی فضول خرچی" ہے۔ خاص طور پر ہماری شادی بیاہ اور بڑی خاندانی تقاریب میں دکھاوے، نام و نمود اور فخر و مباہات کی خاطر جس بے دردی سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پیروں تلے روندا جاتا ہے، وہ ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح دلیل ہے۔کسی بھی شادی گھر یا ضیافت کے مقامات کے پچھواڑے کا نظارہ کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ منوں کے حساب سے گوشت، چاول اور مٹھائیاں کچرے کے ڈھیروں کی نذر ہو رہی ہوتی ہیں۔ پلیٹوں میں آدھا کھانا چھوڑ دینا اب ایک خود ساختہ خاندانی وقار کا حصہ بن چکا ہے۔ لوگ اپنی رکابیاں اس طرح بھرتے ہیں جیسے یہ ان کی زندگی کا آخری نوالہ ہو۔ چند لقمے لے کر باقی سب ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ رزق ہے جسے کسان مہینوں کی سخت دھوپ، کڑی محنت اور اپنے پسینے سے اگاتا ہے۔ جسے حاصل کرنے کے لیے دنیا کا ایک بڑا حصہ دن رات تڑپتا ہےلیکن ہم اسے ایک پل میں کچرے کی زینت بنا دیتے ہیں۔اس المیے سب سے تاریک رخ وہ تضاد ہے جو ہمارے اسی معاشرے میں موجود ہے۔ جس وقت کسی عالی شان عمارت کے اندر لاکھوں روپے کا کھانا کچرے کے ڈبے میں پھینکا جا رہا ہوتا ہے۔ اسی عمارت کی دیوار کے باہر یا سڑک کے دوسری طرف معصوم بچے اور بے بس مائیں کچرے کے اسی ڈھیر سے اپنے لیے سڑے ہوئے نوالے تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تضاد ایک زندہ اور حساس معاشرے کا نہیں بلکہ ایک سنگدل اور مردہ ضمیر معاشرے کا عکاس ہے۔ ایک طرف بھوک سے بلکتے معصوم ہیں جو سوکھی روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترستے ہیں۔ دوسری طرف وہ امراء اور صاحبِ ثروت لوگ ہیں جو صرف اپنی جھوٹی شان دکھانے کے لیے پچاس پچاس اقسام کے کھانے تیار کرواتے ہیں۔ جس کا نصف سے زیادہ حصہ بعد میں ضائع ہو جاتا ہے۔دینِ اسلام جو ہمارا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں اسراف اور رزق کی بے حرمتی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: "اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو، بیشک وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔
ایک اور مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کے بھائی" قرار دیا گیا ہے۔ ہماری روایات اور احادیثِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ اگر دسترخوان پر نوالہ گر جائے تو اسے بھی اٹھا کر صاف کر کے کھا لینا چاہیے۔ تاکہ رزق کا ضیاع نہ ہو۔ لیکن افسوس کہ ہم نے دین کی ان سنہری تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی نمائش اور نام و نمود کے کلچر کو اپنا لیا ہے۔اس بڑھتے ہوئے بگاڑ کی بڑی وجہ ہماری نفسیات میں چھپی "جھوٹی انا" ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ اگر شادی میں کھانوں کی اقسام کم ہوئیں یا کھانا کم پڑ گیا تو برادری کیا کہے گی؟ لوگ باتیں بنائیں گے۔ اسی 'لوگ کیا کہیں گے' کے خوف نے متوسط اور غریب طبقے کو بھی اس دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی رخصتی کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ سود پر قرض لیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ مہمانوں کو بھاری بھرکم اور پرتعیش کھانا کھلا سکے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو معاشرہ اسے طعنے دے دے کر جینے نہیں دے گا۔ یہ سماجی دباؤ ہمارے نظام کی وہ خرابی ہے جو کتنے ہی خاندانوں کو خودکشی کی نہج پر لے آتی ہے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔اس لیے چاہیے کہ ہم اس بڑھتے ہوئے اخلاقی زوال کا راستہ روکیں۔ اصلاح کا آغاز کسی قانون یا حکومت سے نہیں بلکہ ہماری اپنی ذات سے ہوگا۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ جب ہم کسی تقریب میں جائیں تو اپنی رکابی میں صرف اتنا ہی کھانا لیں جتنا ہم آسانی سے کھا سکیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے رزق کی اہمیت، برکت اور اس کا احترام سکھائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ کی تقاریب کے میزبانوں اور انتظام کاروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے ہوئے صاف کھانے کو ضائع کرنے کے بجائے اسے محفوظ کرنے کا انتظام کریں۔ ہمیں اپنے شہروں میں ایسے فلاحی ادارے اور رضاکاروں کے نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو تقاریب کا بچا ہوا صاف کھانا احترام کے ساتھ پیک کر کے مستحقین اور غریب بستیوں تک پہنچائیں۔اس طرح کسی کا بچا ہوا کھانا کسی بھوکے کا پیٹ بھر سکے۔ خدارا اس عمل کو روکیں۔ اس سے پہلے کہ ہماری یہ بے حسی اور رزق کی بے حرمتی خدا کے عذاب اور نعمتوں کے سلب ہونے کو دعوت دے دے۔ رزق کی قدر کریں۔ جو قومیں نعمتوں کی ناقدری کرتی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ایک دن ان سے وہ نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ وہ قحط و افلاس کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آئیے آج ہی سے عہد کریں کہ ہم نہ خود رزق ضائع کریں گے اور نہ اپنے سامنے کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔
مزید پڑھیں





