Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تشنۂ لب ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

سورج تانبے کی مانند دہک رہا تھا اور ریت کے سمندر پر موت کی سی خاموشی مسلط تھی۔ ہَوا کے جھونکے آتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی بھٹی سے نکلتی ہوئی لپٹیں جسم و جاں کو جھلسانے کے لیے دوڑ رہی ہوں۔ اس لامتناہی اور بے رحم صحرا کے وسط میں ایک سایہ سر جھکائے مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ صمصام تھا، جس کے قدموں کے نشان ریت کی اندھی آندھی لمحوں میں مٹا دیتی تھی، مگر اس کے عزم کی رفتار مدہم نہیں پڑتی تھی۔ اس کے ہونٹ سوکھ کر پپڑیاں بن چکے تھے، آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں اور حلق میں کانٹے سے چبھ رہے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کا ایک ہی جنون تھا—پانی، صرف پانی!


صمصام کی یہ پیاس کوئی عام پیاس نہیں تھی۔ یہ اس وقت سے اس کے وجود کا حصہ بن گئی تھی جب اس نے ہوش سنبھالا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی تمام تر توانائیاں، جوانی کی رعنائیاں اور خواب اس پیاس کی بھینٹ چڑھا دیے تھے۔ اس کا پورا وجود ایک سلگتا ہوا صحرا بن چکا تھا جسے بجھانے کے لیے اس نے دنیا کے کونے کونے کی خاک چھانی تھی۔


کہانی کا آغاز اس چشمے سے ہوا تھا جو بچپن میں اس کے گھر کے پاس بہتا تھا۔ تب پانی میٹھا اور ٹھنڈا تھا، مگر جیسے ہی صمصام کی ہتھیلی پانی کو چھونے کے لیے آگے بڑھتی، وہ چشمہ اچانک سوکھ جاتا۔ اس دن کے بعد سے اس کے مقدر میں سرابوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ لکھ دیا گیا۔ وہ جس ندی کے کنارے بھی جاتا، اس کا پانی اس کے قریب آتے ہی ریت میں جذب ہو جاتا یا اس کے ہونٹوں سے لگتے ہی کھرا اور کڑوا زہر بن جاتا۔


لاکھ مشقتیں اس کا مقدر تھیں۔ کبھی اس نے پہاڑوں کی سخت چٹانوں کو اکیلے اپنے ہاتھوں سے کھود کر زیرِ زمین سوتے تلاش کرنے کی کوشش کی، جہاں ہتھوڑے کی ہر ضرب پر اس کے ہاتھوں سے لہو رسنے لگتا، مگر پتھروں کے سینے سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکتا۔ کبھی وہ برف پوش چوٹیوں پر گیا جہاں ٹھنڈک کے بظاہر ڈھیر تھے، مگر اس کے اندر کی آگ نے اس برف کو بھی لمحوں میں بھاپ بنا ڈالا۔ وہ سمندروں کے طلاطم میں کودا، جہاں چاروں طرف پانی ہی پانی تھا، مگر اس کے منہ میں کھارے پن کے سوا کچھ نہ آیا۔ وہ ایک بوند کو ترس ترس کر پاگل ہونے کے قریب ہو چکا تھا، مگر اس کی روح کی پیاس تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔


اب صحرا کا آخری پہر تھا۔ افق پر سورج غروب ہو رہا تھا اور آسمان پر لہو رنگ بادل پھیل رہے تھے۔ صمصام چلتے چلتے ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں ریت کے بیچوں بیچ ایک قدیم، سنگ مرمر کا حوض نظر آیا۔ حوض کے اندر پانی شفاف اور ہیرے کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کی موجوں سے ایک سحر انگیز، مدہوش کن خوشبو اٹھ رہی تھی جو روح کو معطر کر رہی تھی۔


صمصام کی سانسیں رک گئیں۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ کیا یہ سچ تھا؟ یا ایک اور فریب؟ اس نے کانپتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھ کر حوض میں جھانکا تو اپنا عکس دیکھا، جو انتہائی کمزور، شکستہ اور تھکا ہارا تھا۔ اس کے اندر کا تجسس اور خوف عروج پر تھا۔ کیا اب کی بار بھی...؟


اس نے مزید توقف نہیں کیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ پانی کی ٹھنڈک نے اس کی جلتی ہوئی انگلیوں کو چھوا تو اس کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ اس نے پانی سے بھری ہوئی اپنی انگلیاں اپنے خشک ہونٹوں کے قریب کیں۔ پانی اس کے ہونٹوں پر سجا، اس کی زبان نے اس کے پہلے قطرے کو محسوس کیا—اور اگلے ہی لہجے، وہ پورا حوض ایک زرد ریت کے طوفان میں تبدیل ہو گیا۔ پانی ہوا میں تحلیل ہو گیا اور اس کی ہتھیلیاں صرف گرم ریت سے بھر گئیں۔


صمصام وہیں ریت پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، جن میں ایک عجیب سا سکون اور سوال تھا۔ اس پر یہ انکشاف ہو چکا تھا کہ اس کی یہ پیاس جسمانی نہیں تھی، بلکہ یہ اس لامتناہی جستجو کا شاخسانہ تھی جو انسان کو ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ تشنۂ لب ہی جیا تھا اور تشنۂ لب ہی مر گیا، مگر اس کی پیاس نے کائنات کے اس فریب کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا تھا کہ کچھ پیاسیں بجھنے کے لیے نہیں، بلکہ روح کو بیدار رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔