غزل،تری انا پہ محبت کو وار سکتے ہیں،شاعر:اختر چیمہ
نقطہ نظر
غزل
تھام کر اپنا کلیجہ سبھی رہ جائیں گے
اپنے شانوں پہ وہ جب زلفوں کو لہرائیں گے
سب سخنور مرے اشعار کو دہرائیں گے
میرے فن پارے کبھی بھول نہیں پائیں گے
توڑ کر جبر زنجیریں سر راہ وفا
ایک دن سب ہی مرے حق میں نکل آئیں گے
خون کے رشتوں کی حرمت نہ بچے گی باقی
اب کے پیمانے محبت کے بدل جائیں گے
جلوہء حسن ترا ہوش ربا ہے لیکن
ہم ترے دام محبت میں نہیں آئیں گے
مل نہ پائے گی کبھی منزل مقصود ہمیں
کیا خبر تھی کہ سبھی خواب بکھر جائیں گے
ہر کڑے وقت میں میدان وفا میں اختر
ہم محبت کے گنہگار نظر آئیں گے
غزل
تری انا پہ محبت کو وار سکتے ہیں
تمام عمر بھی تنہا گزار سکتے ہیں
خلوص دل سے وفا کا اگر وہ وعدہ کرے
ہم انتظار میں صدیاں گزار سکتے ہیں
کوئی خرید نہیں سکتا ہم فقیروں کو
کہ تخت و تاج بھی ٹھوکر پہ مار سکتے ہیں
عجیب لوگ ہیں ادنی مفاد کی خاطر
کسی بھی سینے میں خنجر اتار سکتے ہیں
ہم اہل درد ہیں شدت سے پیار کرتے ہیں
کہ جس پہ مرتے ہیں اس کو بھی مار سکتے ہیں
اختر چیمہ
...........................................................
غزل
اتنا سج دھج کے مرے سامنے آیا نہ کرو
بجلیاں حسن مجسم کی گرایا نہ کرو
جان جاں! عہد محبت کا بھرم ہی رکھ لو
وصل کے زکر پہ یوں بات گھمایا نہ کرو
ہم کوئی غیر نہیں ہیں کہ تکلف برتو
اس طرح خود کو نقابوں میں چھپایا نہ کرو
مدتوں بعد ملاقات کہیں ہوتی ہے
بے سبب نخرے مری جان دکھایا نہ کرو
کاش! لگ جاؤ کبھی فرط محبت سے گلے
دیکھ کر مجھ کو یونہی آنکھیں چرایا نہ کرو
عزت نفس پہ قربان متاع ہستی
رو برو اہل ستم سر کو جھکایا نہ کرو
مجھ کو احباب نے کئی بار نصیحت کی تھی
اس قدر ناز حسینوں کے اٹھایا نہ کرو
اختر چیمہ
.........................................
غزل
مبتلا دل کی طلب ہم سے چھپائی نہ گئی
اس لیے آنکھ حسینوں سے چرائی نہ گئی
وہ عمارت کبھی تعمیر نہیں ہو سکتی
جس کی بنیاد سلیقے سے اٹھائی نہ گئی
کیسے ممکن تھا تراشے ترے پیکر کے خطوط
تیری تصویر مصور سے بنائی نہ گئی
خوف رسوائی سے اظہار محبت نہ کیا
آتش عشق مگر پھر بھی چھپائی نہ گئی
راز سر بستہ رہے اہل ستم کے اکثر
گرد تاریخ کے چہرے سے ہٹائی نہ گئی
ہم کو بے لوث محبت کی طلب مار گئی
آنکھ کم ظرف حسینوں سے لڑائی نہ گئی
گر بھرے شہر میں تنہا ہیں تو حیرت کیسی
ہم سے کم ظرف زمانے سے نبھائی نہ گئی
عمر بھر کتنے حسینوں سے شناسائی رہی
آتشِ قلب و جگر پھر بھی بجھائی نہ گئی
نت نئے یاروں نے الزام لگا کر دیکھا
حسب منصوبہ مگر بات بنائی نہ گئی
چاہتے تھے کہ کریں خود کو نمایاں اختر
دوستوں سے مری دستار گرائی نہ گئی
اختر چیمہ
مزید پڑھیں





