پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تو سمجھ جائے اگر اپنا انسان ہونا،تحریر: محمد یاسر دلدار

نقطہ نظر
yasir dildar

انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنا کرنفس کے امتحان میں ڈال دیا اگر یہ اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے تو فرشتوں سے بھی افضل مقام پر چلا جاتا ہے اور اگر نفس کی گمراہی میں آ جاتا ہے تو یہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اس انسان کو صرف انسانیت میں رہنے کے بے شمار انعامات اور اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے قیامت کے دن اگر آپ کے خلاف کوئی انسان کھڑا نہ ہوا تو اللہ کی عدالت میں شفاعت آقا ﷺ کے صدقے آپ کی بخشش ہوجائے گئی۔اللہ کو وہی انسان پسند ہے جو اللہ کے بندوں سے حسن سلوک کرئے جو اللہ کے بندوں کے معیار پر پورا نا اتر سکے وہ اللہ کے معیار پر کیسے پورا اترئے گا۔اللہ کے بندوں کو نظر انداز کر کے اللہ سے تعلق کا دعوہ نہیں کیا جا سکتا۔ایک دلہن کو شادی کے موقع پر خوب سجایا گیا تو اس کی سہلیاں کہنے لگیں کہ کتنی پیاری لگ رہی ہو۔تو دلہن نے جواب دیا کہ جس کے گھر جا رہی ہوں اس کو پیاری لگی تو میرا بننا سنورنا کسی کام بھی آ سکے گا ورنہ سب بیکار ہے۔دنیا میں جتنی بھی کامیابیاں پا لیں ترقیاں کر لیں اگر اللہ کے مطالبے پر پورا نہ اتر سکے تو سب بیکار ہے۔اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق کتا ہے جیسے نجس سمجھا جاتا ہے اصحا ب کف کے ساتھ ایک کتا جس کا نام کتمیر تھا جس کے بارے میں کہاسنا گیا ہے کہ یہ جنت میں بھی جائے گا۔حضرت حسن بصریٰ ؒ فرماتے ہیں کہ کتے میں دس خصلتیں ایسی ہیں جو ہر مومن کے اند ر پائی جانی چاہئیں۔کتا زیادہ تر بھوکا رہتا ہے جو نیکوکارپرہیز گار کی علامات میں سے ہے۔اس کا کوئی مکان خاص نہیں ہوتاجو صرف اللہ پہ بھروسہ مرضی الہی پر صابرو شاکر رہنے والوں کی علامات میں سے ہے۔یہ رات کو کم سوتا ہے جو اللہ سے محبت کرنے والوں کی صفات میں سے ہے۔جب مرتا ہے تو کوئی وراثت نہیں چھوڑتا جوکہ زاہدوں سے صفات میں سے ہے۔یہ اپنے مالک کو کبھی نہیں چھوڑتا جو کہ سچے اور پکے مریدین کی علامات میں سے ہے۔یہ تھوڑی سی جگہ پر راضی ہو جاتا ہے جو کہ عاجزی کرنے والوں کی علامات میں سے ہے۔جب کوئی اس کے مکان پر قبضہ کر لیتا ہے تو یہ اُس مکان کو اُسی کے لیے چھوڑ دیتا ہے جو کہ اللہ سے راضی و خوشی رہنے والوں کی علامات میں سے ہے۔اگر مکان کا مالک یعنی جس کے پاس یہ رہ رہا ہوتا ہے وہ اس کو مارے اور پھر بلائے تویہ آ جاتا ہے جو کہ اطاعت کرنے والوں کی علامات میں سے ہے۔ مالک کھانا کھا رہا ہو تو یہ دُور بیٹھتا ہے جو کہ(فقرا) جن کے پاس سال بھر کا کھانا نہیں ہوتا اُن کی علامات میں سے ہے۔ جب کسی مکان سے کوچ کر جاتا ہے تو اُس کی طرف توجہ و خیال کا جھکاؤ نہیں رکھتاجو کہ دنیا کی غرض نہ رکھنے والوں کی علامات میں سے ہے۔اللہ نے اپنی اس حقیر سی مخلوق میں یہ صفات رکھیں اور اس نے اسے پہچانا اس کے اندر جیتے ہوئے مر گیا اسی کتے کے گلے میں جب انسان پٹا ڈال کر اسے اپنا پالتو کر لیتا ہے تو یہ اپنی زمہ داری لینے والے کا تعبدار ہو جاتا ہے اس کے مال وجان کی حفاظت کرتا ہے۔اللہ کریم کے کئی جانوروں میں اللہ کی پیدا کی گئی صفات کا تزکرہ کیا جا سکتا ہے مگر میں یہاں انسانیت کے حسن میں کردار ادا کرنے کی یاددہانی کروانا چاہتا ہوں۔حضور ﷺ نے کعبہ شریف کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ کعبہ تو بڑی عزت حرمت والا ہے مگر ایک مومن تجھ سے بھی زیادہ عزت وحرمت والا ہے۔کیا یہ فرمان اپنے اندر ایک دلیل نہیں ہے کہ مسجد مدرسے پر خرچ کرنے سے بھی افضل خرچ ایک مستحق پر خرچ کرنا۔اللہ کی رضا اور حیا کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کے بندوں کو دیں تو وہ کہتا ہے دینا تو میرا کام ہے۔جو تو کر رہا ہے چل پھر اب تجھے اتنا دوں گا کہ تجھ سے سنبھالا نا جائے گا۔اصل میں دینا اضافے کے ساتھ واپس پلٹنے کا نام ہے مگر صرف ان کے لیے جن کا توکل افضل ہے۔رازق کے رزق مہیا کرنے میں کوئی نا انصافی نہیں ہے بس کچھ خود غرض اپنی بھوک سے زیادہ پر مسلط ہو جاتے ہیں تو کئی مستحق افراد کا حق دب جاتا ہے اللہ کریم غریبوں کو کسی اور رستے سے دے کر زندہ تو رکھتا ہے مگر امیروں سے سخت ناراض بھی ہوتا ہے جن کی وجہ سے آسانیاں پیدا نہیں ہوپاتیں۔آج معاشرہ تنگی کا شکار ہی اس لیے ہے کہ اس نے آسانیاں پیدا کرنی چھوڑ دہی ہیں۔ایک غریب موچی نے مکہ مدینہ کی زیارت کی تڑپ میں تیس سال سے جوتیاں سی سی کر پائی پائی جمع کرکے حج کا سفر شروع کرنا چاہا۔بیوی حاملہ بیوی نے گوشت کھانے کی فرمائش کی تو موچی نے سوچا بہت حساب کتاب سے پیسے حج کے سفر کے مطابق جمع ہوئے ہیں خرچ کروں گا تو تنگی کا سامنا ہو گا۔ہمسایوں کے گھر سے گوشت پکنے کی خوشبو محسوس کی تو برتن لے کر دروازے پر چلا گیا کہ بیوی کے لیے مانگ کر لے آتا ہوں بیوی کی تمنا بھی پوری ہو جائے گئی اور پیسے بھی کم ہونے سے بچ جائیں گئے۔جب گوشت کے سالن کی مانگ کئی تو ہمسایوں نے کہا یہ ہم پر حلال اور تم پر حرام ہے۔موچی نے حیرت سے دریافت کیا وہ کیسے۔تو جواب ملا کہ ہمارے گھر میں کئی دنوں سے فاقے چل رہے ہیں بچوں کی حالت دیکھی نہ جا سکی تو پکانے کو کسی چیز کی تلاش میں نکلے ایک جگہ ایک گدھا مرا ہوا پایا تو اس کا گوشت اتار کر لے آئے۔وہ پکا رہے ہیں۔موچی حیرت میں ڈوبا سوچنے لگا میرے پاس تین ہزار درہم ہیں سات دن سے ہمسا ئے کے گھر فاقہ ہے اور میں حج پر خرچ کر رہا ہوں فوری گھر گیا پیسے لایا اور ان کو سونپ کر کہنے لگا معاف کر دینا تمارے حالات سے واقف نہ تھا۔یہ پیسے لو اور اس سے حلال پکاؤ کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرویہی میرا حج ہے۔اسی حج کے موقعے پر عبداللہ بن مبارک ؓ نے خواب میں دو فرشتوں کو باتیں کرتے ہوئے سنا ایک فرشتہ دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ اس سال کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا۔تو دوسرے فرشتے نے جواب دیا چھ لاکھ لوگوں کا حج قبول ہوا۔جس کی وجہ سے قبول ہوا وہ حج میں شریک ہی نہیں ہوا۔جو دمشق کے شہر کا ایک موچی ہے جس کا نام علی بن موفق ہے۔ان گنت حسن سلوک کے ایسے واقعات ہیں جن کی بدولت اللہ کریم نے بندوں کو عبادات سے افضل درجات سے نوازا۔ہدایت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اگر کوئی غیر مسلم مر گیا تو یہ اللہ کا معاملہ ہے اگر کوئی بھوک سے مر گیا تو اس کا حساب آپ سے لیا جائے گا۔حقوق العباد کی اہمیت کو نظر انداز مت کریں اگر اس میں فیل ہو گئے تو سارے نیک اعمال مل کر بھی آپ کی جان نہیں چھڑوا سکتے