پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امید،تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

امید زندگی کا وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ امید وہ طاقت ہے جو گرے ہوئے انسان کو دوبارہ کھڑا کر دیتی ہے۔ امید وہ سوچ ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مشکل سے گزرتا ہے۔ کسی کو غربت کا سامنا ہے، کسی کو بیماری کا، کسی کو تنہائی کا اور کسی کو ناکامی کا۔ ان تمام مشکلات میں اگر کوئی چیز انسان کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے تو وہ صرف امید ہے۔

امید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہیں اور سوچیں کہ سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ امید کا مطلب یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں، آپ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے رہیں کہ ایک دن حالات بدل جائیں گے۔ ایک کسان امید پر ہی بیج بوتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ بارش ہوگی یا نہیں، فصل اچھی ہوگی یا نہیں، لیکن وہ امید پر محنت کرتا ہے۔ ایک طالب علم امید پر ہی راتوں کو جاگ کر پڑھتا ہے کہ ایک دن وہ کامیاب ہوگا۔ ایک مریض امید پر ہی دوا لیتا ہے کہ وہ صحت یاب ہو جائے گا۔ اگر انسان سے امید چھین لی جائے تو اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔

زندگی میں مایوسی کا آنا قدرتی بات ہے۔ جب انسان بار بار ناکام ہوتا ہے، جب اس کی محنت کا پھل نہیں ملتا، جب اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو انسان مایوس ہو جاتا ہے۔ مایوسی ایک ایسا اندھیرا ہے جو انسان کے دل و دماغ دونوں کو گھیر لیتا ہے۔ اس اندھیرے میں انسان کو اپنا آپ بھی بوجھ لگنے لگتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، رات چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، صبح ضرور ہوتی ہے۔ بادل چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، سورج ضرور نکلتا ہے۔ یہی قانون امید کا ہے۔ مایوسی اس بات کی نشانی نہیں کہ زندگی ختم ہو گئی ہے، بلکہ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ زندگی آپ کو کچھ نیا سکھانا چاہتی ہے۔

تاریخ میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں، ان سب کی زندگی میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھی امید۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس جب پاکستان بنانے کا خواب تھا تو ان کے پاس وسائل بہت کم تھے، مخالفت بہت زیادہ تھی، بیماری بھی تھی۔ لیکن ان کے پاس امید تھی۔ اسی امید نے ایک ناممکن خواب کو ممکن بنا دیا۔ ایڈیسن نے بلب بنانے سے پہلے ہزار بار ناکامی کا سامنا کیا۔ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، لیکن اس نے ہر ناکامی کے بعد یہ کہا کہ میں نے ایک اور طریقہ سیکھ لیا ہے جس سے بلب نہیں بنتا۔ یہ امید ہی تھی جس نے دنیا کو روشنی دی۔

امید کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو منفی لوگوں سے دور رکھیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر بات میں نقص نکالتے ہیں، ہر کام میں ناکامی کا پہلو دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگ آپ کی امید کو ختم کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو آپ کو ہمت دیتے ہیں، جو آپ کی چھوٹی کامیابی پر بھی آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنی کامیابیوں کو یاد رکھیں۔ ہم اکثر اپنی ناکامیوں کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن اپنی کامیابیوں کو بھول جاتے ہیں۔ روزانہ رات کو سونے سے پہلے پانچ منٹ نکال کر سوچیں کہ آج آپ نے کون سا اچھا کام کیا۔ یہ چھوٹی مشق آپ کے اندر امید کو زندہ رکھے گی۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس دنیا کا نظام چلانے والی کوئی ذات ہے جو اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی، تو اس کے دل میں خود بخود امید پیدا ہو جاتی ہے۔

امید ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ اگر آپ کسی مایوس شخص کو امید دلا دیں، اسے یہ یقین دلا دیں کہ وہ بھی کچھ کر سکتا ہے، تو یہ سب سے بڑی نیکی ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بہت سے نوجوان ڈگریاں لے کر بے روزگار بیٹھے ہیں اور مایوس ہیں۔ انہیں طعنہ دینے کے بجائے اگر ہم انہیں امید دیں، کوئی ہنر سکھائیں، کوئی راستہ دکھائیں تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔

 زندگی میں کبھی بھی امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، یاد رکھیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ جس طرح سردی کے بعد بہار آتی ہے، اسی طرح دکھ کے بعد سکھ ضرور آتا ہے۔ امید وہ بیج ہے جو آج بوئیں گے تو کل اس کا پھل ضرور ملے گا۔ اس لیے امید رکھیں، محنت کرتے رہیں، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ کامیابی ایک دن ضرور آپ کے قدم چومے گی۔