جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امت مسلمہ کو درپیش فتنے،تحریر: اقصیٰ وحید

نقطہ نظر
aqsa waheed

آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ جیسے جیسے قیامت قریب آ رہی ہے، فتنے بڑھتے جا رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح آئیں گے۔ آج امت مسلمہ جن فتنوں سے دوچار ہے، وہ نہ صرف ہماری دینی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ ہماری اجتماعی شناخت کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ آج کے مسلمان نے اپنے آپ کو فرقوں میں بانٹ لیا ہےـ

سب سے بڑا فتنہ جو آج امت کو لاحق ہے، وہ علم کی کمی ہے۔ قرآن و حدیث کا علم عام مسلمانوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ دین کو رسومات تک محدود کر چکے ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسی عبادات کو محض رسمی طور پر ادا کیا جاتا ہے، لیکن ان کی روح اور حکمت سے لوگ نا آشنا ہیں۔ جب علم نہیں ہوگا تو ہر کوئی اپنی مرضی سے دین کی تشریح کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مختلف فرقے، گروہ اور مکاتب فکر نے امت کو تقسیم کر رکھا ہے۔ دکھاوے کی نمازیں ادا کی جاتیں ہیں، دکھاوے کے روزے رکھے جاتے ہیں اور افطاری کو صرف ڈنر کا نام دے دیا گیا ہے- اپنے سے نچلے طبقے کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے- فطرانہ اور زکوٰۃ لوگوں کو دکھا کر دی جاتی ہے کہ ان کو لگے کہ ان کے پاس بہت پیسہ ہے

امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری آج تفرقہ بازی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ لیکن آج مسلمان مذہبی، لسانی، علاقائی اور قومی بنیادوں پر بٹے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہنے سے نہیں جھجکتا۔ مساجد میں تقسیم ہے، مدارس میں تقسیم ہے اور معاشرے میں تقسیم ہے۔ یہ تفرقہ ہی ہے جس نے امت کو کمزور کر دیا ہے۔ دشمن کو موقع مل گیا ہے کہ وہ ہمیں آسانی سے شکست دے سکے۔

آج کا مسلمان دنیا کی محبت میں اتنا مبتلا ہو چکا ہے کہ اس نے آخرت کو بھلا دیا ہے۔ دولت، شہرت، عہدہ اور عیش و عشرت زندگی کا مقصد بن گئے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سود، رشوت، دھوکہ دہی اور بددیانتی عام ہو چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دنیا کی محبت تمام خطاؤں کی جڑ ہے۔ آج یہ بات ہمارے معاشرے میں صاف نظر آتی ہے۔

مغربی تہذیب نے مسلم معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کو آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے۔ والدین کی نافرمانی عام ہو چکی ہے۔ حجاب اور پردے کو پسماندگی سمجھا جاتا ہے۔ نوجوان نسل مغربی اقدار کو اپنا رہی ہے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ فتنہ اتنا خطرناک ہے کہ بظاہر یہ ترقی اور جدیدیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔

آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ سوشل میڈیا ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کو جوڑتا بھی ہے اور توڑتا بھی ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری، تہمت اور فحاشی کا بازار گرم ہے۔ ہر شخص خود کو عالم سمجھتا ہے اور فتوے دیتا ہے۔ وقت کا ضیاع، گھنٹوں بے مقصد سکرولنگ، اور حقیقی زندگی سے دوری یہ سب اس فتنے کے نتائج ہیں۔ نوجوان اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں اور کسی مفید کام میں مصروف نہیں ہیں۔

ایک طرف جہاں بعض لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں، وہیں دوسری جانب کچھ لوگ انتہا پسندی کا شکار ہیں۔ وہ اسلام کی سخت تشریح کرتے ہیں اور دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ تشدد، خودکش حملے اور معصوم لوگوں کا قتل اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلام کی خوبصورت تصویر کو بگاڑ رہا ہے اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے۔

ان تمام فتنوں کا حل قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا، اتحاد قائم کرنا، اخلاق کو بہتر بنانا اور اللہ کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں دینی تعلیم کا اہتمام کرنا ہوگا۔ بچوں کو قرآن سکھانا ہوگا۔ نماز کی پابندی کرنی ہوگی۔ حلال کمائی کو اپنانا ہوگا۔ سچائی، امانت داری اور محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ امت مسلمہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری طاقت اتحاد میں ہے۔ جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے، کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا۔ آئیں، اپنے رب کی طرف لوٹیں، اسلام کو عام کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ یہی راہ نجات ہے۔