اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی پاکستان گلوبل ایلومنائی نیٹ ورک کے وفد سے ملاقات ، مختلف امور پر تبادلہ خیال

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں پاکستان گلوبل ایلومنائی نیٹ ورک (پی جی اے این) کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے عالمی کردار، اقوام متحدہ کے مستقبل، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دورے کے دوران ہونے والی ملاقات میں دنیا بھر کی جامعات سے وابستہ پاکستانی نژاد 6 ہزار سے زائد سابق طلبہ پر مشتمل پاکستان گلوبل ایلومنائی نیٹ ورک کے 20 رکنی وفد نے شرکت کی۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان نے عالمی امن کے لیے خدمات انجام دیں، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور ایسے موسمیاتی بحران کا سامنا کیا جس کا وہ خود ذمہ دار نہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، پاکستان کے ہر دورے میں انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
ملاقات میں عالمی سیاست، اقوام متحدہ پر اعتماد، پاکستان کو درپیش موسمیاتی اور آبادی کے دباؤ اور مصنوعی ذہانت کے اثرات پر گفتگو ہوئی۔
وفد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے سوال کیا کہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی مسابقت کے دور میں اقوام متحدہ کو مؤثر اور ناگزیر کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے اور ادارہ اس عالمی مسابقت کا میدان بننے سے کیسے بچ سکتا ہے۔
وفد نے غزہ، ایران اور یوکرین کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی اخلاقی اور قانونی حیثیت اور عملی طور پر نتائج پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وفد نے نشاندہی کی کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ وفد نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد کے اضافے کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وفد نے سوال اٹھایا کہ کیا اقوام متحدہ کا نظام مختلف شعبوں کے الگ الگ پروگرامز کے بجائے پاکستان کے لیے مربوط مالی معاونت اور تعاون کا ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جس کے ذریعے ملک آئندہ بحران سے پہلے اقدامات کرسکے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے وفد نے اقوام متحدہ کے عالمی سطح پر اے آئی کی حکمرانی سے متعلق اقدامات کی قیادت کرنے والے سیکریٹری جنرل سے مساوی اور منصفانہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور درپیش اہم چیلنجز پر بھی رائے طلب کی۔ انتونیو گوتریس نے پاکستان گلوبل ایلومنائی نیٹ ورک اور اس کے بانی صدر آصف اللہ خان کا دعوت اور بامعنی گفتگو کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
پی جی اے این کے بانی صدر آصف اللہ خان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل کی میزبانی اور ان کے ساتھ کھلے انداز میں گفتگو اعزاز کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی جی اے این کا مقصد دنیا بھر میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ٹیلنٹ کو ملک کے مستقبل کی تشکیل کرنے والے اداروں سے جوڑنا ہے۔





