مجھے جینے دو، اردو زبان کی ایک درد بھری پکار،تحریر : مریم خان
نقطہ نظر
زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ قوموں کی پہچان، تہذیب کی روح اور احساسات کی ترجمان ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر زبان اپنے اندر ایک تاریخ رکھتی ہے، مگر اردو وہ زبان ہے جو مختلف تہذیبوں ثقافتوں اور زبانوں کے سنگم سے وجود میں آئی۔ اس کے لفظوں میں محبت ہے، اس کے لہجے میں مٹھاس ہے اور اس کی روح میں برصغیر کی صدیوں پرانی تہذیب سانس لیتی ہے۔
اردو کی ابتدا اُس دور سے جڑی ہے جب برصغیر میں مسلمان آئے۔ عربی، فارسی، ترکی اور مقامی زبانوں جیسے کھڑی بولی، برج بھاشا، پنجابی اور ہندوی نے مل کر ایک نئی زبان کو جنم دیا۔ چونکہ یہ زبان لشکروں، بازاروں اور مختلف قوموں کے میل جول سے پروان چڑھی، اس لیے ابتدا میں اسے “لشکری زبان” کہا گیا۔ وقت گزرتا گیا اور یہی لشکری زبان اپنی دلکشی، روانی اور ادبی عظمت کے باعث “اردو” کہلائی۔
اردو نے ہر دل میں جگہ بنائی۔ یہ صرف شاعری کی زبان نہ رہی بلکہ تہذیب، محبت اور اتحاد کی علامت بن گئی۔ میر، غالب، اقبال اور فیض نے اس کے دامن کو ایسے خیالات سے بھر دیا جو آج بھی زندہ ہیں۔
پھر پاکستان وجود میں آیا۔ مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک پرچم تلے جمع ہوئے۔ کہیں پنجابی بولی جاتی تھی، کہیں سندھی، کہیں پشتو، کہیں بلوچی، سرائیکی اور ہندکو۔ ان سب کے درمیان اگر کوئی ایک زبان رشتہ بنی تو وہ اردو تھی۔ اسی لیے اسے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تاکہ قوم ایک دوسرے سے جڑی رہے۔
لیکن آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس زبان نے اس قوم کو جوڑا، آج اسی کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں اگر دیکھا جائے تو انگریزی کو ہی اصل معیار سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ ہماری مادری یا قومی زبان نہیں بلکہ ایک غیر زبان ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انگریزی بولنے والے طالب علم کو ذہین سمجھا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والا احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ دفاتر میں انگریزی بولی جاتی ہے، عدالتوں میں انگریزی لکھی اور سمجھی جاتی ہے، سرکاری فائلیں انگریزی میں بنتی ہیں، حتیٰ کہ اعلیٰ تعلیم کے بیشتر دروازے بھی انگریزی کے نام پر کھولے جاتے ہیں۔
تو پھر اردو کہاں کھڑی ہے؟
اردو آج خود سے سوال کرتی ہے:
“میں کہاں جاؤں؟
میں نے تو ہمیشہ آسانیاں پیدا کیں۔
میں نے عام انسان کو علم تک رسائی دی۔
میں نے ماں کی لوری بن کر بچوں کو سُلایا،
میں نے شاعر کے قلم کو آواز دی،
میں نے قوم کو ایک شناخت دی…
پھر مجھ سے جینے کا حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟”
تعلیم کے میدان میں اگر کوئی اردو پڑھتا ہے، اردو ادب میں ڈگری لیتا ہے، تو اکثر اسے آخری صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ایسے محسوس کروایا جاتا ہے جیسے اردو پڑھنے والا ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہو۔ یہ صرف ایک زبان کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ اپنی تہذیب اور اپنی شناخت کے ساتھ بھی ظلم ہے۔
اردو کی حالت آج اُس عورت جیسی ہو گئی ہے جو پورا گھر سنبھالتی ہے، ہر فرد کی خدمت کرتی ہے، مگر پھر بھی عزت کے بجائے اسے حقیر سمجھا جاتا ہے۔
یہ زبان اُس مزدور کی طرح بھی ہے جو اینٹیں اٹھا کر عمارت بناتا ہے، سڑکیں تعمیر کرتا ہے، مگر کامیابی کا سارا کریڈٹ کسی اور کو مل جاتا ہے۔
آج اگر کوئی نوجوان خالص اردو بولے تو لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں، جیسے وہ جدید دنیا سے کٹ گیا ہو۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اپنی زبانوں پر فخر کرتی ہیں۔ چین، جاپان، فرانس اور ترکی نے کبھی اپنی زبان کو چھوڑ کر ترقی نہیں کی، بلکہ اپنی زبان کو طاقت بنایا۔
اردو مرنا نہیں چاہتی…
وہ صرف زندہ رہنے کا حق مانگ رہی ہے۔
وہ معاشرے سے صرف اتنا کہتی ہے:
“مجھے نصاب سے مت نکالو…
مجھے دفاتر سے مت مٹاؤ…
مجھے عدالتوں میں جگہ دو…
مجھے تعلیمی اداروں میں عزت دو…
کیونکہ اگر میں ختم ہو گئی تو تمہاری تہذیب بھی خاموش ہو جائے گی۔”
اردو کسی ایک صوبے یا نسل کی زبان نہیں، یہ پورے پاکستان کی شناخت ہے۔ ایک سندھی جب اردو بولتا ہے تو محبت محسوس ہوتی ہے، ایک پشتون بولتا ہے تو خلوص جھلکتا ہے، ایک پنجابی بولتا ہے تو مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔
یہ زبان آج بھی زندہ ہے، مگر تھکی ہوئی ہے…
اداس ہے…
اور اپنے ہی لوگوں سے التجا کر رہی ہے:
“… مجھے جینے دو۔”
مزید پڑھیں




