امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار

تہران: امریکا نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والی ایرانی میڈیا ٹیم کو ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا۔ ایرانی سرکاری خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی حکام نے صدر مسعود پزشکیان کے دورہ نیویارک کے دوران ان کے ساتھ جانے والی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار کیا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی فیصلے کے باعث صدر مسعود پزشکیان کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا سفر میڈیا ٹیم کے بغیر کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں دورۂ امریکا کے دوران صدر کی سرگرمیوں کی کوریج اور میڈیا سے متعلق امور متاثر ہونے کا امکان ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے جاری نہ کرنے کی وجوہات سے متعلق فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ ایرانی صدر کے دفتر میں محکمۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللّٰہ نے امریکی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے اسے دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے جاری نہ کرنا معمول کے سفارتی اور میڈیا انتظامات میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے، جہاں وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ بدھ 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے اور رواں سال فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے وقفے وقفے سے مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اس کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ نے 17 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ضروری عملے پر مشتمل بنیادی وفد کو نیویارک آنے کی اجازت دی جائے گی۔
تاہم ایرانی وفد کو امریکا میں قیام کے دوران بعض پابندیوں کا سامنا ہوگا۔ ایرانی وفد کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے جبکہ ارکان کی نقل و حرکت بھی محدود ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق انہیں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر، ایرانی مشن، ایرانی سفیر کی رہائش گاہ اور جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ لگژری اشیا کی خریداری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے بدھ کو خطاب کرنا ہے۔ ان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد وہ امریکا کا دورہ کرنے والے سب سے اعلیٰ سطح کے ایرانی عہدیدار ہوں گے۔
مزید پڑھیں





