Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خواتین کی ترقی اور میڈیا کا کردار،تحریر:قرۃالعین خالد

نقطہ نظر
quratulain khalidd

کہا جاتا ہے دور حاضر سوشل میڈیا کا دور ہے۔ دور حاضر میں میڈیا کسی بھی معاشرے میں سوچ اور نظریات کو بدلنے کا سب سے طاقت ور ذریعہ ہے۔ پائیداد ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں خواتین کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے کے لیے بھی میڈیا اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جیسے کہ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ میڈیا ڈاکومنٹری فلمز کے ذریعے خواتین میں آگہی پیدا کر سکتا ہے، یعنی ایسی کامیاب دیہاتی خواتین کی زندگی کی کامیابیوں کی کہانیوں پر مبنی دستاویزی فلمز کے ذریعے معاشرے میں شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔ ایسی خواتین کے انٹرویوز لیے جائیں جنہوں نے اپنے بل بوتے پر کچن گارڈن کے ذریعے بہت شجرکاری کی ہو۔ پانی کی بچت کا کوئی بڑا منصوبہ شروع کر لیا ہو۔ میڈیا ایسی خواتین کی زندگیوں کو مثال بنا کر پیش کرے۔ جنہوں نے پائیدار فیشن، دستکاری اور ہاتھوں سے بنائی گئی مصنوعات کے کاروبار کو فروغ دیا ہو۔ انہیں مختلف پروگرامز میں مدعو کیا جائے اور ان کے انٹرویوز لیے جائیں تاکہ دوسری خواتین بھی ان کی کوشش اور ان کی زندگی کی سٹرگل سے متاثر ہوں اور اس کام کی طرف آئیں۔ میڈیا کے کردار کے حوالے سے بات کریں تو خواتین کا ایک بہت بڑا طبقہ ڈرامہ بہت شوق سے دیکھتا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈراموں میں مضبوط خواتین کے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔ خواتین کے روایتی کرداروں یعنی ساس بہو، بھابھی، نند، دیورانی اور جیٹھانی سے ہٹ کر کسی ایسی با اختیار خاتون کو دکھایا جائے جو کسان ہو، سائنسدان ہو، کاروباری ہو، ماحول دوست ہو اور ماحولیاتی مسائل کے حل نکالنے والی مضبوط خاتون ہو۔ اس کا معاشرے میں بڑا گہرا اثر پڑے گا۔ ڈراموں کے مکالموں کے ذریعے روزمرہ زندگی میں پانی کی بچت، بجلی کے محتاط استعمال اور صفائی کی اہمیت کو اپنی کہانیوں کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم سوشل میڈیا کی ایک بہت بڑی طاقت انفلوئنسز پر بات کریں تو آج کل نوجوان نسل سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے محتصر مگر جامع ویڈیوز کے ذریعے ماحول دوستی کے پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں۔ جس میں خواتین کو گھر کے کچڑے سے کھاد بنانے یا پرانے کپڑوں کو ری سائیکل کرنے کے آسان طریقے سکھائے جا سکتے ہیں۔ انفلوئنسرز کو چاہیے کہ اپنے کانٹینٹ کے ذریعے ماحول دوست طرز زندگی کے چیلنجز شروع کریں تاکہ یہ ٹرینڈ بن جائے۔ پھر ہم ٹاک شوز میں جو بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ ہر طرف ریٹنگ کا طوفان برپا ہوتا ہے۔ ایسے پروگرامز میں بھی خواتین ماہرین کو شامل کریں اور اس میں موسمیاتی تبدیلوں، پانی کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی جیسے موضوعات پر بات چیت کی جائے۔ وہاں صرف مرد سیاست دانوں کو بلانے کی بجائے خواتین ماحولیاتی ماہرین، سائنس دان اور پالیسی سازوں کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوگا کہ خواتین اس شعبے میں علم اور قیادت کی صلاحیت رکھتی ہیں، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر واشنگ پاؤڈر کے اشتہارات میں، برتن دھونے والے صابن کے اشتہارات میں نل کو مسلسل بہتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان اشتہارات کے ذریعے خواتین کو پانی کی ذمہ درانہ استعمال کرتے ہوئے دکھائیں۔ جس سے لاشعوری طور پر دیکھنے والوں کو تربیت ملے گی۔ اب میڈیا کا کام صرف دکھانا نہیں رہ گیا بلکہ مسائل کی ممکنہ حل بھی بتانے ہیں۔ جب میڈیا خواتین کو ماحولیاتی مسائل کا حل بنا کر پیش کرنے والوں میں شامل کریں گا تو معاشرے کی سوچ میں بڑا مثبت انقلاب آئے گا۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں کو گھریلو سیاست پر ضائع کرنے کی بجائے ملکی ترقی میں استعمال کیا جائے۔

معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالے سے میں خواتین سے یہ کہنا چاہوں گی کہ آپ صرف ایک گھر نہیں چلا رہیں بلکہ آپ ایک پوری نسل کی معمار ہیں۔ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کا آغاز کسی بڑے سرکاری منصوبے سے نہیں بلکہ اپنے گھر کے کچن، صحن اور روزمرہ کی عادات سے کریں۔ اپنی طاقت کو پہچانیں۔ کسی نے باہر سے آ کر آپ کو ہمت نہیں دینی آپ نے اپنی ہمت خود بننا ہے۔ اپنے ماحول کا، اپنے معاشرے کا خود خیال رکھنا ہے۔ لہذا پانی کی ایک ایک بوند کو بچائیں، ماحول دوستی کے لیے پلاسٹک کا کم سے کم استعمال کریں۔ اپنے گھر کے کچڑے کو کار آمد بنائیں۔ بظاہر یہ تمام اقدامات آپ کو چھوٹے لگیں گے، لیکن جب کروڑوں خواتین یہ اقدامات کریں گی تو ایک ملک گیر انقلاب آئے گا اور بدلاؤ کا آغاز ہو گا۔ یاد رکھیں تبدیلی ہمیشہ اندر سے ہوتی ہے۔ کوئی تبدیلی ایک دم سے نہیں ہوتی اور باہر کا ماحول بھی تبھی بدلتا ہے جب ہم اپنے آپ کو اندر سے تبدیل کرتے ہیں۔ خواتین سے کہنا چاہوں گی کہ اپنے بچوں کو کتابی تعلیم کے ساتھ ساتھ زمین کا احترام، صفائی کی اہمیت اور دھرتی کی قدر کرنا سکھائیں۔ جو شعور آپ آج اپنے بچے کو دیں گی اسی سے کل پائیدار اور خوبصورت معاشرہ بنے گا۔ آپ ہی وہ طاقت ہیں جو نئی نسل کی تربیت کر سکتی ہیں اور بس میرا پیغام یہی ہے کہ ماحول کو بچانے کی ماحول دوستی مہم میں خود کو کمزور نہ سمجھیں آپ کے ہاتھ میں کائنات کو سنوارنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے۔ آگے بڑھیں خود بھی بیدار ہوں اور اپنے ارد گرد کے معاشرے کو بھی بیدار کریں۔ کسی رشتے، کسی سہارے، کسی بیرونی طاقت کا انتظار نہ کریں کیونکہ کوئی آپ کو مضبوط نہیں کرنا چاہتا آپ نے اپنے اندر کی مضبوطی کو خود اجاگر کرنا ہے۔ یہ جملے بہت پرانے ہو گئے کہ کوئی عورت کو سپورٹ کرے گا تو وہ کار آمد ہو گی کیونکہ اگر کسی نے اس پر عمل کیا ہوتا تو آج ہم خواتین کے الگ سے کاموں اور ذمہ داریوں اور ان کے کردار کے حوالے سے بات نہ کر رہے ہوتے

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

اور

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔

صنفی فرق کو ایک طرف رکھ کر اپنے اپنے حصے کی شمع جلائیں۔ اور معاشرے کے لیے نفع مند بنیں۔ مثبت سوچ ہی تبدیلی کا آغاز ہے۔ ہمیشہ مثبت رہیں۔

جیو اور جینے دو۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL