بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کی قید خواجہ سراؤں کے علاج سے متعلق نئی پالیسی پر عملدرآمد کی اجازت سے انکار


واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے وفاقی جیلوں میں قید خواجہ سرا افراد کے علاج سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی پر عمل درآمد کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے انتظامیہ کی ہنگامی درخواست مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالت کا وہ حکم برقرار رکھا ہے جس کے تحت پالیسی کے نفاذ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو مختصر حکم جاری کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی وفاقی تحویل میں تقریباً ایک ہزار خواجہ سرا قیدی موجود ہیں، جن کے علاج پر اس پالیسی کا اثر پڑ سکتا تھا۔ حکم میں فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، تاہم عدالت نے بتایا کہ دو قدامت پسند ججوں، کلیرنس تھامس اور سیموئل الیٹو، نے انتظامیہ کی درخواست کی حمایت کی تھی، جبکہ باقی ججوں نے اسے مسترد کر دیا۔

یہ پالیسی صدر ٹرمپ کی جانب سے خواجہ سرا افراد کے حقوق میں توسیع کے اقدامات واپس لینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صرف مرد اور عورت کی حیاتیاتی درجہ بندی کو تسلیم کریں۔ جیلوں سے متعلق نئی پالیسی بھی اسی حکم نامے کے تحت متعارف کرائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی جیلوں کے ادارے نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران مختلف اعلانات میں واضح کیا کہ وہ خواجہ سرا قیدیوں کو جنس کی تبدیلی کی سرجری، ہارمونز پر مبنی علاج اور صنفی شناخت کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کرے گا۔ ان سہولیات میں وِگ، پیڈنگ اور میک اپ جیسی اشیا بھی شامل ہیں۔

نئی پالیسی کے ذریعے وہ قواعد تبدیل کیے گئے تھے جن کے تحت خواجہ سرا قیدیوں کو ان کی صنفی شناخت کے مطابق طبی نگہداشت دی جاتی تھی۔ امریکی حکومت کا مؤقف تھا کہ حالیہ عرصے میں طبی ماہرین نے اس نوعیت کے علاج پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم خواجہ سرا افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے اس مؤقف کو سختی سے متنازع قرار دیا ہے۔

پالیسی نافذ ہو جاتی تو خواجہ سرا قیدیوں کو صرف ذہنی صحت کی خدمات اور ضرورت پڑنے پر افسردگی کے علاج کی ادویات مل سکتی تھیں، جبکہ ہارمونز اور دیگر متعلقہ طبی سہولیات بند ہو جاتیں۔ متاثرہ قیدیوں کے ایک گروپ نے امریکن سول لبرٹیز یونین کی حمایت سے اس پالیسی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ حکومت نے سابقہ پالیسی تبدیل کرنے کی مناسب وضاحت نہیں کی، جبکہ نئی پالیسی آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے، جو ظالمانہ اور غیر معمولی سزا سے روکتی ہے۔ مقدمے میں مرکزی درخواست گزاروں میں ایلیشیا کنگڈم، جَیس کپولے اور سولو نکولز شامل ہیں، جو کئی سال سے ہارمونز پر مبنی علاج حاصل کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کی ضلعی عدالت کے جج روائس لیمبرتھ نے رواں سال کے اوائل میں پالیسی کے نفاذ کو روک دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں انہوں نے کہا کہ ادارے نے نئی پالیسی بناتے وقت سابقہ طریقہ کار کے فوائد کا مناسب جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت کئی سال سے قیدیوں کو صنفی شناخت کے مطابق علاج فراہم کرتی رہی ہے، مگر نئی پالیسی کے حق میں وفاقی جیلوں کے اپنے طبی یا ذہنی صحت کے ماہرین کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اور حکومت یہ بھی ثابت نہ کر سکی کہ سابقہ طریقہ غیر مؤثر یا نقصان دہ تھا۔

سابق صدر رونالڈ ریگن کے مقرر کردہ جج لیمبرتھ نے یہ بھی قرار دیا کہ نئی پالیسی بظاہر ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تیار کی گئی، اور اس کے حق میں دی گئی وجوہات حقیقی بنیادوں کے بجائے محض جواز پیش کرنے کے لیے تھیں۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد نچلی عدالت کی پابندی برقرار رہے گی اور حکومت فی الحال یہ متنازع پالیسی نافذ نہیں کر سکے گی۔