بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

توانائی قیمتوں میں غیر معمولی حالات، مجبوری میں فائدہ اٹھانے والوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، علی پرویز ملک

ali-pervaiz-malik

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ توانائی قیمتوں سے متعلق غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو میں علی پرویز ملک نے کہا کہ اس وقت ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک ہونی چاہیے، مجبوری سے فائدہ اٹھانے والوں کا علاج کرنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی کھپت یومیہ ساڑھے 6 تا 7 ہزار ٹن کی ہے، جس میں ڈھائی ہزار ٹن مقامی ہوتی ہے جبکہ باقی باہر سے منگوائی جاتی ہے۔


وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایل پی جی کی قیمت سے متعلق جلد حکومتی سرگرمیاں نظر آئیں گی، پیٹرول کی طرح ایل پی جی کی قیمت میں بھی شفافیت لائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی قیمت 400 سے 425 روپے فی کلو کے درمیان ہونی چاہیے، اس کی زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

علی پرویز ملک نے یہ بھی کہا کہ ایل پی جی کی زیادہ قیمت لینے والوں کے علاج کی پوری تیاری ہوچکی ہے، حکومت ایل پی جی امپورٹ کرکے سسٹم میں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2، 3 دن میں ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق بہتری آنا شروع ہوجائے گی، توانائی کی قیمتوں سے متعلق غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹے لے کر چند لوگ گدھ کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں اور عوام خون چوس رہے ہیں، مارکیٹ اور ایل پی جی کی مقامی قیمت کا فرق 30 ارب روپے آرہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 30 ارب روپے کا فرق ہے اور وہ لوگ کتنے ہیں یہ بھی سب کو پتا ہے کن کے پاس لائسنس ہے، ستمبر تک ہم نے ان کو وارننگ دی ہوئی تھی، آج بھی گزارش ہے کہ جائز قیمت پر ایل پی جی مہیا کریں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی گیس قطر سے آتی تھی، ہرمز کی صورتحال سامنے ہے، تمام مشکلات کے باوجود قطر نے ہمیں 30 ڈالر کے بجائے 12، 13 ڈالر پر گیس ہمیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللّٰہ فیلڈ مارشل اور وزیرداخلہ کی کاوشوں میں کامیابی عطا کرے وہاں سے ہی مستقل حل نکلے گا، حکومت نے نومبر سے فروری تک سردیوں میں عوام کو گیس کی فراہمی کے لیے حکمت عملی بنا لی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ کھانے کی تیاری کے لیے تینوں اوقات میں گیس عوام کو فراہم ہوتی رہے، فیول سبسڈی کے لیے بجٹ رکھا گیا ہے ابھی اس میں کافی گنجائش موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اٹارنی جنرل کی ڈیوٹی لگائی ہے چند کیسز رہ گئے ان میں بھی اسٹے ختم کرائیں گے۔