وفا شعار جو انسان ہو نہیں سکتا،شاعر:اختر چیمہ
نقطہ نظر
غزل
وفا شعار جو انسان ہو نہیں سکتا
حریم دل کا وہ مہمان ہو نہیں سکتا
رئیس شہر منافق کی سازشوں کے سبب
سکون قلب کا سامان ہو نہیں سکتا
مغلظات جو بکتا ہے کیا کہیں اس کو
شریف شخص تو شیطان ہو نہیں سکتا
جو اہل ظرف ہو رکھتا ہے نفس پر قابو
کبھی بھی غصے سے ہلکان ہو نہیں
جو مانگا ہم کو خدا نے عطا کیا ورنہ
سبھی کا پورا ہر ارمان ہو نہیں سکتا
سگ زمانہ اگر عمر بھر بھی بھونکے تو
کسی فقیر کا نقصان ہو نہیں سکتا
ہماری ذات پہ کیچڑ اچھالنے والا
کبھی بھی صاحب عرفان ہو نہیں سکتا
ہم ایسے اہل محبت سے جو بھی جلتا ہے
قسم خدا کی وہ انسان ہو نہیں سکتا
بھرم جو خاک نشینوں کا رکھ نہیں سکتا
وہ میرے شہر کا سلطان ہو نہیں سکتا
رذیل شخص ہمیشہ مفاد دیکھتا ہے
کبھی بھی لائق احسان ہو نہیں سکتا
جسے ضمیر فروشی سے کوئی عار نہیں
مری نظر میں وہ ذیشان ہو نہیں سکتا
شریف لوگوں کی پگڑی اچھالنے والا
کبھی حقیقی مسلمان ہو نہیں سکتا
وہ جس کا حسب و نسب ہی رذیل ہو یارو
کبھی بھی شائستہ انسان ہو نہیں سکتا
منافقت سے کبھی باز جو نہیں آتا
وہ شخص صاحب ایمان ہو نہیں سکتا
جو دوست بن کے کرے وار پشت پر اختر
کبھی حلالی وہ انسان ہو نہیں سکتا
اختر چیمہ





