بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

غزل،کیوں میرے ساتھ ایسا ہوا تیرے شہر میں،شاعر:حمزہ ارشد

نقطہ نظر

غزل

حمزہ ارشد


کیوں میرے ساتھ ایسا ہوا تیرے شہر میں

چاہا جسے ہوا وہ جدا تیرے شہر میں


اس کی نظر تغیرِ حالات پر گئی

کیسا مزاج دان ملا تیرے شہر میں


لوحِ وفا پہ ثبت تھا میرا بھی اک نشاں

کیوں کر نہیں ہے میرا پتہ تیرے شہر میں


خوشبوئے آرزو کا نگر تھا مرے لیے

پھر بھی ہر اک گلاب بجھا تیرے شہر میں


سورج بھی اپنی روشنی تقسیم کر گیا

پھر کیوں ہر اک مکاں تھا خفا تیرے شہر میں


تعبیر کے پرندے اڑانیں نہ بھر سکے

خوابوں کا گھونسلہ بھی لٹا تیرے شہر میں


آئینۂ وفا کو سنبھالے ہوئے تھا میں

پتھر کا اک مزاج ملا تیرے شہر میں


گلشن میں میرے نام کی خوشبو بکھر گئی

میرا ہی تذکرہ تھا چھپا تیرے شہر میں


زنجیرِ شب میں قید تھے پنچھی خیال کے

امید کا ہی در نہ کھلا تیرے شہر میں


جب بھی ہوا ہے تذکرہ ایثار و وفا کا

میرا ہی نام سب نے لیا تیرے شہر میں


حمزہ کو دیکھ، کیا اسے پہچان پائے گا

گرد و غبار سے ہے اٹا تیرے شہر میں