توقع کا بوجھ اور وراثتی خواب،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
انسانی تاریخ میں جب بھی کسی نئے وجود کا اس مٹی پر قدم پڑتا ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف ایک ننھی جان اور سانسوں کی ڈور ہی نہیں لاتا بلکہ اپنے پورے خاندان کی حسرتوں، ادھورے ارمانوں اور ناآسودہ خواہشات کی ایک بھاری گٹھڑی بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ ہم اکثر مادی غربت، معاشی بدحالی اور طبقاتی ناہمواری پر تو بہت کچھ لکھتے اور بولتے ہیں مگر اس گہرے نفسیاتی استحصال کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جسے اگر وراثتی خوابوں کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وراثتی خوابوں سے مراد بزرگوں کے وہ ادھورے مقاصد ہیں جو وہ اپنی زندگی کے سفر میں کسی بھی وجہ سے حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اب وہ زبردستی اپنی اولاد کے ناتواں کندھوں پر رکھ کر انہیں پورا کروانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خاموش سماجی المیہ ہے جو ہر سال لاکھوں نوجوانوں کی تخلیقی اڑان کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی مٹی میں ملا دیتا ہے۔ہمارے خاندانی نظام میں یہ فرسودہ سوچ بڑی مضبوطی سے جڑ پکڑ چکی ہے کہ اولاد دراصل والدین کی ایک طویل المدت سرمایہ کاری ہے۔ اگر باپ ماضی میں معاشی تنگی یا نامساعد حالات کی وجہ سے معالج نہ بن سکا تو اب بیٹے کو اپنی تمام تر ذاتی دلچسپیوں اور رجحانات کو قربان کر کے ہر حال میں سفید کوٹ ہی پہننا ہوگا۔ چاہے اس کا اپنا دل ادب، مصوری، تجارت اور دینی تعلیم کے گلستانوں میں ہی کیوں نہ بھٹکتا پھرے۔ بچوں کو ہوش سنبھالتے ہی لاشعوری طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی اپنی کوئی جداگانہ شناخت یا مرضی نہیں ہے اور ان کی کامیابی کا واحد معیار صرف یہی ہے کہ وہ خاندان کی جھوٹی انا کا بھرم قائم رکھیں۔ اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچہ اپنے اصل وجود کو کھو دیتا ہے اور ایک ایسی اندھی دوڑ کا حصہ بن جاتا ہے جس کی منزل اس کی اپنی منتخب کردہ نہیں ہوتی۔جب ایک نوجوان پر مسلسل یہ دباؤ برقرار رکھا جائے کہ اسے ہر میدان میں صرف اول ہی آنا ہے تو اس کے اندر ایک شدید قسم کا خوفِ ناکامی جنم لیتا ہے۔ وہ ہر گھڑی اسی صدمے اور دباؤ کی گرفت میں رہتا ہے کہ اگر وہ اعلیٰ ترین عہدہ حاصل نہ کر سکا تو وہ اپنوں کی نظروں میں ایک ناکام اور بے کار انسان ٹھہرے گا۔ یہ مسلسل تناؤ آگے چل کر شدید ذہنی اضطراب اور بیزاری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہر سال امتحانات کے نتائج کے بعد سامنے آنے والے مایوس کن سماجی واقعات اسی توقع کے بوجھ کا شاخسانہ ہیں۔ ہم ایک ایسی ڈگری یافتہ نسل تیار کر رہے ہیں جو باہر سے تو بہت کامیاب اور چمکدار نظر آتی ہے مگر اندر سے وہ اپنی ہی زندگی سے بیزار اور جذباتی طور پر بالکل کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔اس جلتی پر تیل کا کام ہمارا روایتی سماجی موازنہ کرتا ہے جہاں دوسروں کے بچوں کی کامیابیوں کو مثال بنا کر اپنے بچوں کے سر پر مسلسل ہتھوڑے برسائے جاتے ہیں۔ والدین یہ بنیادی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ کائنات کا ہر وجود اپنی منفردصلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے اور ہر پرندے کی پرواز کا آسمان الگ ہوتا ہے۔ مچھلی کو اس بات پر پرکھنا کہ وہ درخت کتنی تیزی سے چڑھ سکتی ہے سراسر ناانصافی ہے مگر ہمارا سماجی ڈھانچہ اسی ضد پر اڑا ہوا ہے۔والدین یہ سب کچھ بچوں کی دشمنی میں نہیں کرتے بلکہ وہ ان کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ اندھی محبت اس وقت خود غرضی بن جاتی ہے جب وہ بچے کی حقیقی خوشی پر اپنی سماجی واہ واہ کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ذہنی طور پر صحت مند اور تخلیقی بنیادوں پر استوار ہو تو ہمیں اس خاندانی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ والدین کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اولاد ان کی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کی اپنی ایک جداگانہ سوچ اور اپنی ایک الگ دنیا ہے۔ بچوں سے اچھی امیدیں وابستہ کرنا یقیناً ایک مثبت عمل ہے مگر ان پر اپنی ادھوری حسرتیں تھوپنا صریحاً ظلم ہے۔ جب تک ہم اپنے بچوں کے نازک کندھوں سے ان وراثتی خوابوں کا بوجھ نہیں اتاریں گے تب تک ہم ایک پرسکون اور ذہنی طور پر آزاد معاشرے کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ منزل کا تعین مسافر کو خود کرنے دینا ہی دانشمندی ہے۔
مزید پڑھیں





