کچھ رشتے خون سے بنتے ہیں، مگر کچھ رشتے اپنی قربانیوں سے امر ہوجاتے ہیں۔ میری بڑی بہن عطیہ بھی ایسا ہی ایک رشتہ تھی۔ وہ میری بہن تھی، مگر وقت نے اسے ہمارے لیے بہن سے بڑھ کر بنا دیا تھا۔ وہ ہمارے گھر کی وہ خاموش روشنی تھی۔ جو خود پگھلتی رہی تاکہ ہماری راہوں میں اجالا باقی رہے۔
بچپن میں ہم چار بہن بھائی تھے۔ زندگی اپنے معمولی سے دائرے میں رواں تھی۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک دن اچانک ہمارے سر سے والد کا سایہ اٹھ جائے گا اور زندگی ہمیں وقت سے پہلے بڑا ہونے پر مجبور کردے گی۔ میں میٹرک میں تھی اور عطیہ فرسٹ ایئر کی طالبہ۔ والد کے انتقال کے بعد گھر میں جیسے خاموشی اتر آئی، مگر اسی خاموشی میں عطیہ نے اپنے اندر ایک عہد جگایا۔
اس نے ہمیں دیکھا اور کہا:
"کچھ بھی ہو، میں اپنے بہن بھائیوں کو سنبھالوں گی۔"
یہ جملہ اس نے کہا نہیں تھا، جیسے اپنی پوری زندگی اس کے نام کردی تھی۔
اس نے نجی اسکول میں ملازمت شروع کی۔ اسکول سے واپس آتی، بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی، پھر شام کو اکیڈمی میں پڑھانے چلی جاتی۔ دن اس کے لیے مصروفیت کا نام تھا اور رات ہماری فکر کا۔ اپنی تھکن، اپنی خواہشیں، اپنی صحت—سب کچھ اس نے جیسے ہماری ضرورتوں کے پیچھے رکھ دیا تھا۔
اس کا بلڈ پریشر اکثر بلند رہتا، مگر وہ اپنی تکلیف کو ہمیشہ مسکراہٹ کے پردے میں چھپا لیتی۔ جب معلوم ہوا کہ اس کے دل میں رکاوٹ ہے اور علاج ضروری ہے تو ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا، مگر اس کا جواب بھی اپنی ذات کے خلاف ایک خاموش فیصلہ تھا:
"ابھی میرے بہن بھائیوں کو میری ضرورت ہے۔"
وقت گزرا۔ ہم تعلیم مکمل کرتے گئے، ملازمتوں میں آگے بڑھتے گئے، مگر عطیہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹی۔
پھر ایک دن وہ اسکول سے واپس آئی اور اچانک گر پڑی۔ برین ہیمرج ہوا۔ ہم خوف سے لرز گئے۔ اللہ نے اسے زندگی دی، وہ سنبھل گئی، مگر اپنی ملازمت پھر جاری رکھی۔ شاید اسے اپنی زندگی سے زیادہ ہماری زندگی عزیز تھی۔
پھر ایک دن تقدیر نے وہ فیصلہ سنا دیا جسے ہم قبول تو کر گئے، مگر آج تک سمجھ نہیں سکے۔
دوبارہ برین ہیمرج ہوا۔ کئی دن زندگی اور موت کے درمیان گزرتے رہے، دعائیں آسمان کی طرف اٹھتی رہیں، مگر آخرکار عطیہ ہم سے رخصت ہوگئی۔
اس کا جانا صرف ایک بہن کا بچھڑنا نہیں تھا؛ یہ ہمارے لیے دوسری بار یتیم ہوجانا تھا۔
آج بھی جب میں اسے یاد کرتی ہوں تو مجھے ایک بہن نہیں، ایک سایہ دکھائی دیتا ہے—ایسا سایہ جو خود دھوپ میں جلتا رہا اور ہمیں دھوپ سے بچاتا رہا۔
عطیہ نے کبھی اپنی قربانیوں کا حساب نہیں مانگا۔ وہ محبت کا وہ سبق تھی جو لفظوں سے نہیں، زندگی سے لکھا جاتا ہے۔
میں شمسہ ہوں، اور میری یادوں کی کتاب میں عطیہ کا باب کبھی بند نہیں ہوگا۔
وہ چلی گئی،مگر اپنے حصے کی روشنی ہماری زندگیوں میں چھوڑ گئی۔
کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ،مگر محبت کی تاریخ سے کبھی نہیں جاتے۔
مزید پڑھیں





