زبانیں تو باقی ہیں، زبان کا بھرم کہاں گیا؟ تحریر: مہر بشارت صدیقی
نقطہ نظر
ایک وقت تھا جب انسان کی زبان ہی اس کی ضمانت ہوتی تھی، اس کا وعدہ ہی معاہدہ اور اس کی عزت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھی جاتی تھی۔ کسی سے لین دین کرنا ہوتا تو کاغذوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، دو لوگ بیٹھتے، بات طے کرتے اور ایک دوسرے کی زبان پر اعتبار کر لیتے تھے۔ اگر کوئی کہہ دیتا کہ کل رقم واپس کر دوں گا تو دوسرا اس کی بات پر یقین کر لیتا تھا۔ کسی دوست کو مشکل پیش آتی تو اسے بار بار اپنی پریشانی بیان نہیں کرنا پڑتی تھی، دوست اس کی خاموشی سے بھی اس کے دکھ کو سمجھ لیتا تھا۔ رشتوں میں خلوص تھا، دوستی میں وفا تھی اور انسان کے کردار کی پہچان اس کے لباس، دولت یا عہدے سے نہیں بلکہ اس کی زبان اور عمل سے ہوتی تھی۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا جب مکان کچے تھے مگر دل پکے تھے، وسائل محدود تھے مگر محبتیں بے حساب تھیں۔ گھروں میں دولت کم ہوتی تھی لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت بہت ہوتا تھا۔ کسی کے گھر چولہا نہ جلتا تو پڑوسی کے گھر سے کھانا پہنچ جاتا، کسی کی بیٹی کی شادی ہوتی تو پورا محلہ اپنے گھر کی تقریب سمجھ کر کام میں ہاتھ بٹاتا، کسی کے گھر موت ہو جاتی تو لوگ صرف تعزیت کرنے نہیں آتے تھے بلکہ کئی دن تک اس خاندان کے دکھ میں شریک رہتے تھے۔ کسی کے ہاں خوشی ہوتی تو پڑوسیوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آ جاتی اور کسی کے گھر پریشانی ہوتی تو محلے کے لوگ اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے۔ اس وقت رشتے نبھانے کے لیے دولت نہیں، احساس درکار ہوتا تھا۔
پھر وقت بدلا، حالات بدلے، دنیا نے ترقی کی، سڑکیں کشادہ ہوئیں، عمارتیں بلند ہوئیں، گاڑیاں بڑھیں، موبائل فون ہر ہاتھ میں آ گیا اور انسان نے فاصلے سمیٹنے کے لیے جدید ذرائع پیدا کر لیے۔ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے چند لمحوں میں رابطہ کیا جا سکتا ہے، مگر ایک عجیب المیہ ہمارے سامنے ہے کہ رابطے بڑھنے کے باوجود دلوں کے فاصلے کم نہیں ہو سکے۔ ہمارے پاس سینکڑوں لوگوں کے فون نمبر ہیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست ہیں، مگر جب زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے تو کبھی کبھی اپنے ہی لوگوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر گئے ہیں یا صرف زندگی گزارنے کے طریقے بدل گئے ہیں؟
آج سب سے بڑا سوال زبان کے اعتبار کا ہے۔ پہلے کسی شخص کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وعدہ پورا نہ کرنا صرف ایک کام سے پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اپنی عزت کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔ اگر کسی نے کسی سے رقم ادھار لی تو اسے واپس کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اگر کسی نے کسی کا کام کرنے کا وعدہ کیا تو حتی الامکان اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کی تو مشکل وقت میں اسے تنہا چھوڑنے سے پہلے کئی بار سوچتا تھا۔ آج بعض معاملات میں صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ تحریری معاہدے، گواہ اور دستاویزات موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر اعتماد کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ وعدے کیے جاتے ہیں، امیدیں دلائی جاتی ہیں، بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو انسان اپنی بات سے پیچھے ہٹنے کے لیے کئی بہانے تلاش کر لیتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا ہماری ضروریات بڑھنے کے ساتھ ہماری اخلاقی ذمہ داریاں کم ہو گئی ہیں؟ کیا دولت کمانے کی دوڑ نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ہم وقتی فائدے کے لیے برسوں کا اعتماد قربان کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے؟ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار اور لین دین میں تحریری معاہدے اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پر دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے۔ قانون کسی کو سزا دے سکتا ہے، مگر کسی کے دل میں خلوص پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ کام انسان کی تربیت، کردار اور احساس ہی کر سکتے ہیں۔
دوستی بھی کبھی زندگی کا ایک خوب صورت رشتہ ہوا کرتی تھی۔ دوست کی پہچان اس کی خوشیوں میں شریک ہونے سے زیادہ اس وقت ہوتی تھی جب اس پر مشکل وقت آتا تھا۔ جب جیب خالی ہو، حالات خراب ہوں، گھر میں پریشانی ہو اور دنیا ساتھ چھوڑنے لگے تو ایک مخلص دوست حوصلہ بن کر سامنے آتا تھا۔ وہ اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرتا، تسلی دیتا اور یہ احساس دلاتا تھا کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ اس وقت دوستی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ ایک دوسرے کے لیے کیا قربانی دی جا سکتی ہے۔
آج بھی مخلص دوست موجود ہیں، لیکن بعض تعلقات میں مفاد نے ایسی جگہ بنا لی ہے کہ دوستی بھی ضرورت کے تابع دکھائی دینے لگی ہے۔ جب تک کسی شخص سے کام نکلتا رہے، اس کے فون آتے رہتے ہیں، ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور محبت بھرے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ضرورت ختم ہو جائے، رابطے بھی کم ہونے لگتے ہیں۔ بعض لوگ کسی کے عہدے، دولت اور اثر و رسوخ کو دیکھ کر قریب آتے ہیں اور جیسے ہی وہ شخص مشکل میں گرفتار ہوتا ہے، اس کے گرد موجود لوگوں کا ہجوم آہستہ آہستہ غائب ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں انسان کو سمجھ آتی ہے کہ ہر مسکرانے والا مخلص نہیں ہوتا، ہر ساتھ چلنے والا ہم سفر نہیں ہوتا اور ہر دوستی کے پیچھے وفا نہیں ہوتی۔
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب خون کے رشتوں میں بھی مفاد کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ بھائی بھائی سے دور ہو رہا ہے، بہن بھائی کے درمیان غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں اور بعض خاندانوں میں جائیداد، کاروبار اور وراثت کے معاملات برسوں کی محبت کو نفرت میں بدل دیتے ہیں۔ ایک ہی گھر میں پلنے والے، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے اور ایک ہی ماں باپ کی شفقت میں پروان چڑھنے والے بچے بڑے ہو کر بعض اوقات ایک دوسرے کے سامنے اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے ان کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ والدین ساری زندگی اپنی اولاد کے لیے محنت کرتے ہیں، اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، اپنے آرام کو بچوں کے مستقبل پر ترجیح دیتے ہیں، لیکن جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو بعض گھروں میں ان کی چھوڑی ہوئی محبت کے بجائے جائیداد کی تقسیم موضوعِ نزاع بن جاتی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس گھر کو بنانے میں ایک باپ نے اپنی پوری زندگی گزار دی، اسی گھر کے چند کمروں کی تقسیم پر اس کی اولاد کے دل کیوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ جس بھائی کے ساتھ بچپن کی یادیں وابستہ ہوں، اس کے ساتھ چند مرلوں کی زمین پر تعلق کیوں ختم کر لیا جاتا ہے؟ اپنے حق کا مطالبہ کرنا ہر انسان کا حق ہے، وراثت میں کسی کے حصے پر قبضہ کرنا ناانصافی ہے، لیکن حق مانگتے ہوئے بھی رشتے کا احترام باقی رہنا چاہیے۔ جائیداد تقسیم ہو سکتی ہے، مکان الگ ہو سکتے ہیں اور کاروبار جدا ہو سکتے ہیں، مگر اگر دلوں میں نفرت کی دیوار کھڑی ہو جائے تو ایک ہی خون سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور تبدیلی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ انسان کی قدر کا پیمانہ بعض اوقات اس کی دولت اور حیثیت بن گئی ہے۔ صاحبِ حیثیت شخص کی آمد پر غیر معمولی اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ غریب رشتے دار کی آمد بعض لوگوں کو بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کسی بڑے عہدے والے شخص کے فون کا جواب فوراً دیا جاتا ہے، لیکن ایک ضرورت مند کی کال بار بار نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ کسی امیر کی معمولی سی بات کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ایک غریب کی سچی بات کو بھی نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کیا انسان کی عزت اس کے بینک بیلنس سے طے ہونی چاہیے؟ کیا غربت کسی کے خلوص، محبت اور جذبات کی قدر کم کر دیتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
دولت زندگی کی ضرورت ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر انسان بہتر زندگی، اچھا گھر، بچوں کی تعلیم اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دولت حاصل کرنا ہی زندگی کا واحد مقصد بن جائے اور اس مقصد کے حصول میں رشتے، دوستیاں، اصول اور اخلاقی اقدار پیچھے رہ جائیں۔ انسان کو اپنی محنت سے آگے بڑھنا چاہیے، کاروبار کرنا چاہیے، دولت کمانی چاہیے اور اپنے خاندان کو بہتر زندگی دینی چاہیے، مگر اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کامیابی کا مطلب صرف زیادہ کما لینا نہیں، بلکہ اس قابل ہونا بھی ہے کہ لوگ اس پر اعتماد کر سکیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ماضی میں ہر شخص سچا تھا اور آج ہر شخص جھوٹا ہو گیا ہے۔ پہلے دور میں بھی دھوکا ہوتا تھا، ناانصافی ہوتی تھی اور رشتوں میں اختلافات پیدا ہوتے تھے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی زبان کے پکے، دوستوں کے وفادار اور رشتوں کے محافظ ہیں۔ فرق شاید یہ ہے کہ ماضی کی معاشرتی زندگی میں خاندان، محلے اور برادری کے تعلقات زیادہ مضبوط تھے، جبکہ آج معاشی دباؤ، مصروفیات، مقابلے کی دوڑ اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی نے لوگوں کے باہمی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ مگر حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کسی سے جھوٹ بولنا، اس کا حق مارنا یا ضرورت کے وقت اسے تنہا چھوڑ دینا کسی مجبوری کا لازمی نتیجہ نہیں۔ انسان مشکل حالات میں بھی اپنے کردار کی حفاظت کر سکتا ہے۔
ہم نے جدید ٹیکنالوجی تو اپنا لی، لیکن کیا ہم نے اپنے اندر برداشت، صبر اور احساس کو بھی اسی رفتار سے ترقی دی؟ ہم موبائل فون پر ایک دوسرے کو خوشی کے پیغامات بھیج دیتے ہیں، تصویروں پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر دوستی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن کیا ہم واقعی اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے دکھ سے بھی آگاہ ہیں؟ کسی کی تصویر پر ایک لفظ لکھ دینا آسان ہے، مگر اس کی پریشانی میں اس کے پاس بیٹھنا مشکل ہے۔ کسی کو سالگرہ کی مبارک باد دینا آسان ہے، مگر اس کے برے وقت میں اس کا حوصلہ بننا کردار مانگتا ہے۔ رابطہ قائم رکھنا اور رشتہ نبھانا دو مختلف باتیں ہیں۔ رشتوں کو صرف پیغامات نہیں بلکہ وقت، توجہ، احترام اور عملی تعاون بھی درکار ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرے صرف حکومتوں، اداروں اور قوانین سے نہیں بنتے، بلکہ ان کی اصل بنیاد عام انسانوں کے رویّے ہوتے ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے وعدے کا پابند ہو، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، اپنے دوست کی مشکل میں کام آئے اور اپنے خاندان کے ساتھ انصاف کرے تو وہ اپنے حصے کا معاشرہ بہتر بنا رہا ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ سوچنے لگے کہ پہلے دوسرے کو بدلنا چاہیے، تو تبدیلی کا آغاز کبھی نہیں ہوگا۔ ہمیں دوسروں سے خلوص کی توقع رکھنے سے پہلے خود اپنے رویّوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم اپنی بات پوری کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے فائدے کے لیے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں؟ اور کیا ہم کسی ایسے شخص کا ساتھ دے سکتے ہیں جس سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید نہ ہو؟
مجھے آج بھی اس زمانے کی یاد آتی ہے جب لوگ ایک دوسرے کے گھر بے تکلفی سے چلے جاتے تھے، جب کسی کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے دعوت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، جب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے لیے دولت اور حیثیت نہیں دیکھی جاتی تھی اور جب وعدہ نبھانا انسان کی عزت کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ یادیں صرف ماضی کی کہانیاں نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک سبق بھی ہیں کہ زندگی کی اصل خوب صورتی مہنگے مکانوں، بڑی گاڑیوں اور بے شمار آسائشوں میں نہیں، بلکہ ان رشتوں میں ہے جو مشکل وقت میں بھی انسان کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
ہمیں ماضی میں واپس جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ماضی کی اچھی اقدار کو اپنے آج کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کچے مکان نہیں چاہییں، لیکن وہ مضبوط دل ضرور چاہییں جو دوسروں کے دکھ کو سمجھ سکیں۔ ہمیں پرانی سڑکیں نہیں چاہییں، لیکن وہ پرانی اپنائیت ضرور چاہیے جو اجنبی کو بھی اپنا بنا لیتی تھی۔ ہمیں ترقی سے انکار نہیں، بلکہ ایسی ترقی چاہیے جس میں انسان کی عزت، دیانت داری اور رشتوں کا احترام بھی محفوظ رہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ دولت ہو، بلکہ وہ بھی بڑا انسان ہے جس کی زبان پر لوگ اعتبار کریں، جس کے کردار کی گواہی اس کے مخالف بھی دیں اور جس کے دروازے سے کوئی ضرورت مند مایوس واپس نہ جائے۔
زندگی کے آخری حصے میں انسان کے پاس دولت، جائیداد اور عہدہ تو رہ بھی سکتا ہے اور چھن بھی سکتا ہے، لیکن اس کا کردار لوگوں کے دلوں میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ اگر ہمارے جانے کے بعد لوگ ہمیں اس لیے یاد کریں کہ ہم نے کسی کا حق نہیں مارا، کسی سے جھوٹ نہیں بولا، اپنی زبان کا بھرم رکھا اور مشکل وقت میں اپنے دوستوں اور رشتے داروں کا ساتھ دیا، تو یہی ہماری زندگی کا حقیقی سرمایہ ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ہمارے پاس دولت کے انبار ہوں، مگر لوگ ہم پر اعتبار نہ کرتے ہوں، ہمارے وعدوں کو اہمیت نہ دیتے ہوں اور ہمارے رشتے ہماری مفاد پرستی سے زخمی ہوں، تو ہمیں اپنی کامیابی کے معیار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو گرانے کے بجائے سہارا دینا سیکھیں، ایک دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کی مدد کریں اور اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ بھائی کو بھائی کا حریف نہیں بلکہ سہارا بننا چاہیے، دوست کو دوست کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے اور رشتوں کو صرف اس وقت یاد نہیں کرنا چاہیے جب ہمیں کسی کام کی ضرورت ہو۔ اگر ہم اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کر لیں تو معاشرے میں اعتماد کی فضا دوبارہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
زمانہ بدلنا فطری عمل ہے، مگر انسان کا بے حس ہو جانا ترقی نہیں۔ زبان کا اعتبار، دوستی کا خلوص اور رشتوں کا احترام وہ دولت ہیں جنہیں خریدنے کے لیے دنیا کی ساری دولت بھی ناکافی ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بعد آنے والی نسل کو صرف دولت، جائیداد اور آسائشیں دے کر جائیں گے یا ایسا کردار بھی ورثے میں چھوڑیں گے جس پر ہماری اولاد فخر کر سکے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے بڑے گھر بنانے کے ساتھ ان کے دلوں میں محبت کی جگہ بھی بنانی ہوگی، انہیں دولت کمانے کے ساتھ دیانت داری کا سبق بھی دینا ہوگا اور انہیں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ وعدہ نبھانے کی اہمیت بھی سمجھانی ہوگی۔
کیونکہ معاشرے اس وقت کمزور نہیں ہوتے جب ان کے وسائل کم ہو جائیں، بلکہ اس وقت کمزور پڑنے لگتے ہیں جب انسان کا انسان پر اعتبار ختم ہونے لگے۔ جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، وہاں مشکلات کے باوجود زندگی خوب صورت رہتی ہے، لیکن جہاں ہر تعلق کے پیچھے کوئی غرض کھڑی ہو، وہاں آسائشوں کی فراوانی بھی انسان کے اندر کا خلا پُر نہیں کر سکتی۔
ہمیں نیا زمانہ نہیں، نئے زمانے میں پرانا ظرف چاہیے؛ ہمیں پرانی زندگی نہیں، پرانی وفا چاہیے؛ ہمیں صرف زندہ انسان نہیں، احساس رکھنے والے انسان چاہییں۔ کیونکہ زبانیں آج بھی سب کے پاس ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہماری زبان میں اعتبار کتنا باقی رہ گیا ہے؟
مزید پڑھیں



