رات کے آخری پہر ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ زمل جائے نماز پر بیٹھی تہجد ادا کرنے کے بعد ہاتھ اٹھائے اپنے رب کے حضور بیٹھی تھی۔ اس کی ہتھیلیاں آسمان کی طرف تھیں اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو مسلسل اس کی ہتھیلیوں پر گر رہے تھے۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ جیسے آنسوؤں میں بہہ گئے تھے۔
اچانک اس کی سسکیاں بلند ہوئیں تو ساتھ والے بستر پر سوئی اصمر کی آنکھ کھل گئی۔اصمر فوراً اٹھ کر زمل کے پاس آئی اور اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔
"زمل آپی!"
زمل نے بھیگی پلکیں اٹھائیں۔
"کیا ہوا آپی؟ آپ پھر ربان بھائی کے لیے رو رہی ہیں؟"
یہ سنتے ہی زمل نے نظریں جھکا لیں۔
اصمر اُس کی بہن ہی نہیں، اُس کے دل کی واحد رازدار بھی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ زمل کے دل میں ربان کی محبت کوئی چند دنوں کا قصہ نہیں، بلکہ دس برس پرانی داستان ہے۔ وہ اُس کا انتظار، ہر دعا اور ہر چھپے ہوئے آنسو کی گواہ تھی۔
"اصمر میری جان مجھ سے نہیں ہو رہا۔"
"آپی، آپ ہمت رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کرے گا۔"
زمل کی ہچکی بندھ گئی۔
"تمہیں پتا ہے نا، میں نے دس برس اُس کا انتظار کیا ہے۔ دس برس، اصمر! اور جب لگا کہ اب میری محبت کو منزل ملنے والی ہے تو سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہوگیا۔"
اصمر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
"لیکن ممانی جان نے ایسا کیوں کیا؟"
زمل خاموش رہی۔
اصمر کو اصل حقیقت معلوم تھی، مگر وہ چاہتی تھی کہ زمل خود اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے۔
زمل نے آہستہ سے کہنا شروع کیا، ربان نے میرے لیے ایک خط لکھا تھا۔ اس میں اُس نے صاف لکھا تھا کہ وہ مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ ممانی جان سے بات کرنے والا تھا۔ مگر وہ خط، زمل کی آواز رک گئی۔
"وہ خط ممانی جان کے ہاتھ لگ گیا۔"
"پھر؟"
"ربان کی کزن حورین نے ممانی جان سے کہا کہ ربان کسی اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اُس نے ایک تصویر بھی دکھائی۔"
اصمر فوراً بولی
"مگر وہ لڑکی تو سارا کی سہیلی تھی!"
ہاں!!!
زمل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"مگر ممانی جان نے میری کوئی بات نہیں سنی۔ انہوں نے سمجھا کہ ربان نے مجھے صرف امید دلائی تھی اور میں نے ان سے حقیقت چھپائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ رشتہ نہیں رکھ سکتیں۔"
اصمر نے غصے سے مٹھی بھینچ لی۔
"آپی! آپ نے تو کچھ غلط کیا ہی نہیں تھا۔"
زمل مسکرائی، مگر وہ مسکراہٹ درد سے بھری ہوئی تھی۔
"میں جانتی ہوں… تم جانتی ہو… ربان بھی جانتا ہے۔ مگر جس شخص نے فیصلہ کرنا تھا، اُس تک سچ پہنچ ہی نہیں سکا۔"
چند دن بعد ربان زمل سے آخری بار ملنے آیا۔
اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔
"زمل، مجھے یقین ہے کہ ایک دن سب کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔"
زمل نے دھیمی آواز میں پوچھا،
"اور اگر اُس دن تک بہت دیر ہو گئی تو؟"
ربان خاموش ہوگیا۔
"میں انتظار کروں گی، ربان۔"
"زمل، اپنی زندگی مت روکنا۔"
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
"محبت زندگی نہیں روکتی، ربان… بس دل کو کہیں اور جانے نہیں دیتی۔"
ربان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"میں تمہیں کبھی بھول نہیں سکوں گا۔"
"اور میں تمہیں کبھی بددعا نہیں دوں گی۔"
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ حورین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کبھی دور نہ ہو سکی۔ ربان کے گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اور کر دی۔
اصمر ہر روز زمل کو سمجھاتی۔
"آپی، زندگی ختم نہیں ہوئی۔"
زمل ہمیشہ ایک ہی جواب دیتی
"میں جانتی ہوں… مگر میرے دل کی زندگی ختم ہو چکی ہے۔"
سال گزرتے گئے۔
زمل نے ربان سے دوبارہ ملنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ صرف تہجد میں اس کے لیے دعا کرتی رہی۔
ایک سرد رات اس نے اصمر کا ہاتھ تھاما۔
"اصمر، اگر کبھی ربان تم سے پوچھے کہ زمل نے اُسے آخری وقت تک یاد کیا تھا یا نہیں… تو کہنا، ہاں۔ مگر یہ بھی کہنا کہ اُس نے کبھی اللہ سے اُس کا نصیب چھیننے کی دعا نہیں کی۔"
اصمر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"آپی ایسی باتیں نہ کریں۔"
زمل نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں۔
"بس آج دل بہت تھک گیا ہے۔"اگلی صبح زمل کو اصمر نے جائے نماز پر خاموش پایا۔
چہرے پر سکون تھا، جیسے برسوں کا انتظار ختم ہوگیا ہو۔
"آپی…!"
مگر اس بار زمل نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ ربان کی محبت کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
جب ربان کو خبر ملی تو وہ زمل کی قبر پر جا بیٹھا۔ کافی دیر تک خاموش رہا، پھر مٹی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
"زمل... تم نے تو انتظار ختم کر دیا، مگر مجھے ساری عمر تمہاری یاد کے ساتھ جینا ہوگا۔"
اصمر نے پہلی بار اسے وہ خط دکھایا جو ربان نے برسوں پہلے زمل کے لیے لکھا تھا۔
ربان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ خط سینے سے لگا کر بس اتنا کہہ سکا-
"کاش… یہ سچ وقت پر سب کے سامنے آ جاتا۔"
ہوا کے ایک جھونکے نے قبر پر پڑے پھولوں کو ہلایا۔
زمل کی محبت ادھوری رہ گئی تھی، مگر اس کی وفا مکمل تھی۔کچھ محبتیں نصیب میں نہیں ہوتی وہ صرف دعاؤں میں لکھی جاتی ہیں، آنکھوں میں بسی رہتی ہیں، اور انسان کے جانے کے بعد بھی اپنی خوشبو چھوڑ جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں






