ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ذرائع معاش بذریعہ موبائل فون ،تحریر: عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

کبھی ایک دور ایسا بھی تھا جب موبائل فون رکھنا رئیسوں کا شوق سمجھا جاتا تھا۔ پھر نوکیا 3310 آیا، جس کی بیٹری اتنی باوفا تھی کہ مالک بے وفا ہو جائے، مگر وہ پھر بھی ساتھ نبھاتی تھی۔ اس پر سانپ والا گیم کھیل کر ہم خود کو سائنسدان سمجھتے تھے۔

آج یہ حال ہے کہ موبائل ہاتھ میں نہ ہو تو انسان کو لگتا ہے جیسے اس کا آدھا وجود گم ہو گیا ہو، ہم تکیے کے نیچے موبائل رکھ کر سوتے ہیں، اور صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے اسی کی زیارت کرتے ہیں۔ ایسی محبت تو لیلیٰ مجنوں میں بھی نہ تھی۔


تو جب اس چھوٹے سے ڈبے کو ہم نے اپنا سب کچھ بنا ہی لیا ہے، تو کیوں نہ اسی سے رزقِ حلال کا راستہ بھی نکالا جائے؟ کیوں نہ اسے صرف ٹائم پاس سے ٹائم کیش میں بدلا جائے؟


علامہ اقبال نے آج کے دور کے نوجوان کے لیے برسوں پہلے فرما دیا تھا:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے


یعنی موبائل اچھا یا برا نہیں، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔

آئیے، کچھ ایسے جدید، مستند، قابلِ استعمال اور سو فیصد حلال ذرائع دیکھتے ہیں، جن کی تصدیق تجربہ کار افراد اور مستند ادارے خود کرتے ہیں۔

1۔ فری لانسنگ: ہنر ہے تو ہر جگہ قدر ہے

اگر آپ کو اردو ٹائپنگ، مضمون نویسی، ترجمہ یا پروف ریڈنگ آتی ہے، تو آپ کا موبائل ہی آپ کا دفتر ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے اور مستند پلیٹ فارمز، جیسے Fiverr اور Upwork پر آج لاکھوں پاکستانی صرف موبائل سے کما رہے ہیں۔ آپ کو لیپ ٹاپ کی بھی ضرورت نہیں، Canva، Google Docs اور InPage جیسی ایپس موبائل پر بہترین کام کرتی ہیں۔


میرے ایک جاننے والے نے موبائل پر ہی لوگوں کے شادی کارڈ ڈیزائن کرنا شروع کیے۔ آج اس کے پاس اتنا کام ہے کہ کہتا ہے، "شادی اپنی ہو یا پرائی، ڈیزائن میں ہی کروں گا۔"

اس پر اکبر الہ آبادی کا یہ مستند اور مزاحیہ شعر بالکل صادق آتا ہے:

ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں


مطلب، بے مقصد ڈگریوں سے بہتر ہے کوئی ہنر سیکھا جائے، جو جیب میں پڑے موبائل سے ہی روزی دے دے۔

2۔ آن لائن تدریس: سب سے بابرکت روزگار


خاص طور پر خواتین کے لیے یہ سب سے محفوظ اور مستند ذریعہ ہے۔ آپ واٹس ایپ، زوم اور گوگل میٹ کے ذریعے قرآنِ پاک ناظرہ، اردو، انگریزی یا ریاضی پڑھا سکتی ہیں۔ اس کی تصدیق ملک کے بڑے آن لائن اکیڈمیز کرتی ہیں کہ اس وقت آن لائن قرآنی تعلیم کی مانگ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔


نہ آنے جانے کا خرچ نہ زمانے کا ڈر گھر کی چار دیواری میں عزت کے ساتھ کمائی۔

اقبال کا یہ شعر اسی جذبے کے لیے ہے:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


آپ کے پاس جو تھوڑا سا علم بھی ہے، وہی زرخیز مٹی ہے۔ اسے بانٹیں، اللہ اس میں سے رزق نکالے گا۔

3۔ چھوٹی دکان، بڑا بازار

اب دکان کھولنے کے لیے لاکھوں کا کرایہ نہیں چاہیے۔ فیس بک مارکیٹ پلیس، انسٹاگرام شاپ اور دراز، یہ تینوں پاکستان میں تجربہ کار تاجروں کے نزدیک سب سے مستند پلیٹ فارم مانے جاتے ہیں۔ آپ گھر میں بنے سوٹ، ہاتھ کی کڑھائی، بچوں کے کپڑے، یا گھر کا اچار، سب کی تصاویر بنا کر لگا دیں۔

کینوا سے مفت پوسٹر بنائیں اور کورئیر کمپنیاں، جیسے Leopards اور TCS خود آپ کے گھر سے پارسل اٹھا لیں گی۔ یہ طریقہ کار مکمل طور پر حلال اور قابلِ استعمال ہے۔


مرزا غالب نے آج کے آن لائن کاروبار کا اصول برسوں پہلے بتا دیا تھا:

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور


بس آپ کا اندازِ بیاں سچا اور اچھا ہونا چاہیے۔

4۔ بامقصد سوشل میڈیا اور بلاگنگ

اگر آپ اچھا بولتے ہیں، اچھا پکاتے ہیں، یا گھر سجانا جانتے ہیں، تو یوٹیوب اور فیس بک پیج پر صاف ستھرا مواد بنائیں۔ یہ آمدنی کا بڑا حصہ یوٹیوب چینل اور پارٹنر پروگرام اور فیس بک ایڈز سے آتی ہے، جسے دنیا بھر کے مستند یوٹیوبرز کو حلال ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

ساتھ ہی آپ بلاگر پر اپنا بلاگ اور دراز کا افیلیٹ پروگرام جوائن کر سکتے ہیں۔ آپ کسی چیز کا لنک شیئر کریں، کوئی خریدے، تو آپ کو جائز کمیشن ملے گا۔ نہ مال خریدنا، نہ اسٹاک رکھنا۔

آخر میں ایک بہت ضروری بات۔ موبائل سے کمانا جادو نہیں ہے۔ جو اشتہار کہے، "ایک کلک پر ہزار ڈالر کمائیں"، سمجھ جائیں کہ وہ کلک آپ کی جیب پر ہو رہا ہے۔

محنت، صبر اور مستقل مزاجی، یہی اصل فارمولا ہے۔ اور حلال کی برکت ہی اصل برکت ہے۔


حالیؔ نے کیا خوب کہا:

عشق نہ ہو تو کچھ بھی نہیں فکر و دانش و فرہنگ

کام میں لگن ہو تو ہر اک شے میں ہے امنگ

تو اپنے موبائل کو آج سے صرف ساس بہو کے ڈراموں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ہنر اور رزقِ حلال کے لیے بھی استعمال کیجیے۔