زندگی گزرتی جا رہی ہے
سانسیں رکتی جا رہی ہیں
بہت سے کام باقی ہیں
اور وقت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے
کبھی سوچا نہ تھا کہ اتنی جلدی شام ہو جائے گی
ابھی تو صبح کی دھوپ میں کھڑے تھے
ابھی تو ارادے جوان تھے
ابھی تو کہنا تھا، کرنا تھا، بدلنا تھا
مگر زندگی نے کہا
"رکاوٹیں آئیں گی، تم چلتے رہنا"
اور ہم رک گئے
چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُلجھ کر
رشتوں کو سمجھنے کے لیے وقت نہ نکال سکے
اب دل کہتا ہے
بیٹے سے ایک بار کھل کر بات کر لوں
بہو کو گلے لگا کر کہہ دوں کہ گھر تمہارا ہے
جو قرض چکانے تھے، وہ چکا دوں
جو معافیاں مانگنی تھیں، وہ مانگ لوں
کیونکہ کل کا بھروسہ نہیں
اور آج بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے
زندگی گزرتی جا رہی ہے
سانسیں رکتی جا رہی ہیں
بہت سے کام باقی ہیں
لیکن سب سے بڑا کام ابھی باقی ہے
انسان بن کر جینا، اور انسانوں کو جوڑ کر جانا
تو اٹھو
ابھی دیر نہیں ہوئی
ایک فون کر دو، ایک مسکراہٹ بانٹ دو
شاید یہی باقی کام پورے ہو جائیں
اور جب سانسیں رکیں
تو دل کو یہ سکون ہو
کہ جو کرنا تھا، کر گزرے
فائزہ شہزاد
مزید پڑھیں





