پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زندگی کا مقصد،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

نقطہ نظر
ali rizwan ch

کیا ہم نے کبھی زندگی کی بھاگ دوڑ میں چند لمحے ٹھہر کر خود سے یہ سوال کیا ہے کہ آخر ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہےکیا صبح سے شام تک اپنے کاموں میں مصروف رہنا پیسہ کمانا کاروبار کو ترقی دینا، گھر بنانا، بچوں کا مستقبل سنوارنا اور اپنی ضروریات پوری کرنا ہی زندگی کی کامیابی ہے یا اس زندگی کا کوئی ایسا مقصد بھی ہے جو ہماری ذات ہمارے گھر اور ہمارے مفادات سے کہیں آگے ہے

یہ سوال بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر انسان اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے تو اسے اپنی زندگی کے بہت سے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر شخص کسی نہ کسی دوڑ میں شامل ہے۔ کوئی دولت کے حصول کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، کوئی عہدے اور شہرت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں اپنی نیند اور سکون قربان کر رہا ہے۔ ہر شخص کے پاس مصروفیات کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن افسوس کہ بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان مصروفیات کے درمیان انسانیت کے لیے ان کا حصہ کیا ہے۔ مصروف ہونا اور بامقصد ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو شخص سارا دن مصروف رہے، وہ ایک بامقصد زندگی بھی گزار رہا ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے دن بھر میں کتنے کام کیے، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے کاموں سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔

زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔

اپنے لیے جینا کوئی برائی نہیں۔ اپنی ضروریات پوری کرنا، اپنے خاندان کی کفالت کرنا، بچوں کو تعلیم دلانا، والدین کی خدمت کرنا اور کاروبار کو ترقی دینا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ لیکن اگر ہماری تمام تر جدوجہد صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان تک محدود ہو جائے تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا ہے

ہمارے اردگرد کتنے لوگ ایسے ہیں جو مالی مشکلات کا شکار ہیں، کتنے نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں، کتنے بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، کتنے بیمار علاج کے انتظار میں ہیں اور کتنے بزرگ تنہائی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے کچھ کر سکتے ہیں یقیناً کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہمارے دل میں احساس اور ہمارے ارادوں میں خلوص موجود ہو۔

کسی ضرورت مند کی مالی مدد کرنا کسی غریب بچے کی تعلیم کا انتظام کرنا، کسی بیمار کے لیے خون کا عطیہ دینا کسی پریشان شخص کی بات سن لینا، کسی بے روزگار نوجوان کی رہنمائی کرنا یا کسی دکھی انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی زندگی کے مقصد کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ضروری نہیں کہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہمارے پاس دولت کے انبار ہوں۔ کبھی ہمارا ایک اچھا جملہ کسی مایوس انسان کو جینے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔ کبھی ہماری معمولی سی مدد کسی خاندان کی بڑی پریشانی دور کر سکتی ہے۔ کبھی کسی کے حق میں اٹھائی گئی آواز اسے ناانصافی سے بچا سکتی ہے۔ اصل اہمیت مدد کی مقدار سے زیادہ نیت، اخلاص اور احساس کی ہے۔

اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو نیکی، خدمت، عدل اور بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ کسی کا حق نہ مارنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، کمزور کا ساتھ دینا، والدین کی خدمت کرنا اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا ایک اچھے انسان کی پہچان ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دولت، عہدہ، شہرت اور اختیار سب عارضی ہیں۔ آج جو شخص اقتدار میں ہے، کل عام شہری ہو سکتا ہے۔ آج جس کے پاس دولت ہے، کل وہ دوسروں کا محتاج ہو سکتا ہے۔ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔ انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، لیکن اس کے کردار، اخلاق اور نیکیوں کے اثرات باقی رہتے ہیں۔

زندگی کا مقصد تلاش کرنے کے لیے ہمیں کسی بڑے انقلاب کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے گھر میں محبت، اپنے کاروبار میں دیانت، اپنے معاملات میں انصاف، اپنے رویے میں نرمی اور اپنے معاشرے میں خدمت کے جذبے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب بننے کی تعلیم نہ دیں، بلکہ انہیں اچھا انسان بننے کا شعور بھی دیں۔ انہیں بتائیں کہ اصل کامیابی دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں، بلکہ کسی گرتے ہوئے انسان کو سہارا دینے میں ہے۔ آج ہم خود سے ایک سوال کریں: اگر ہماری زندگی کا سفر آج ختم ہو جائے تو ہمارے پیچھے لوگوں کے لیے کیا باقی رہ جائے گا؟ صرف دولت، کاروبار اور چند یادگاریں، یا ایسی نیکیاں بھی جن سے کسی کی زندگی بہتر ہوئی ہو زندگی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے اپنے لیے کتنا جمع کیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دوسروں کے لیے کتنا چھوڑا۔ ہماری موجودگی سے کسی کو امید ملے، ہماری بات سے کسی کو حوصلہ ملے اور ہمارے کردار سے معاشرے میں بھلائی کو فروغ ملے، تو یہی ایک بامقصد زندگی کی خوب صورت علامت ہے۔ ہم صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی جئیں گے۔ اپنی ترقی کے ساتھ معاشرے کی بہتری کا سوچیں گے، اپنی خوشیوں کے ساتھ دوسروں کے دکھ بانٹیں گے اور جہاں ممکن ہو، کسی کے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ کیونکہ اصل زندگی وہ نہیں جو صرف گزاری جائے، اصل زندگی وہ ہے جس سے کسی دوسرے کی زندگی میں روشنی پیدا ہو۔