جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زندگی میں جو چاہیے، وہ بانٹنا شروع کر دیجیے،تحریر:زینب جہانزیب اعوان

نقطہ نظر
zainab jahazeb

انسان کی ایک عجیب نفسیات ہے؛ وہ زندگی سے بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، مگر اکثر اس بات پر غور نہیں کرتا کہ جس چیز کی خواہش اس کے دل میں ہے، کیا وہ خود بھی اسے دوسروں کی زندگیوں میں شامل کر رہا ہے؟ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی عزت کریں، اس سے محبت کریں، اس کے لیے آسانیاں پیدا کریں، اس کی موجودگی کو اہمیت دیں، لیکن جب یہی سب کچھ دوسروں کو دینے کی باری آتی ہے تو اس کے رویّے بدلنے لگتے ہیں۔ شاید ہم زندگی سے نتائج تو چاہتے ہیں، مگر ان نتائج کے اسباب بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔


اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عزت کریں تو دوسروں کی عزت کرنا شروع کر دیجیے۔ صرف ان لوگوں کی نہیں جو آپ کے مرتبے کے برابر ہوں، بلکہ ان کی بھی جن سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ان لوگوں کی بھی جن کی رائے آپ سے مختلف ہے، جن کا مقام آپ سے کم ہے اور جن کی موجودگی سے آپ کی سماجی حیثیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اصل احترام وہ نہیں جو کسی کی طاقت، دولت یا عہدے کے سامنے ظاہر ہو، اصل احترام وہ ہے جو انسان اپنے اختیار کے باوجود کسی دوسرے کی تذلیل کے لیے استعمال نہ کرے۔ یاد رکھیے، دوسروں کو چھوٹا دکھا کر بڑا نظر آنے والا شخص دراصل اپنی بڑائی کے کھوکھلے پن کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔


اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں رزق کی فراوانی ہو تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیجیے۔ اپنے مال کو صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنائیے، اسے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کا وسیلہ بھی بنائیے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلائیے، کسی مجبور کے لیے آسانی پیدا کیجیے، کسی کی تعلیم میں حصہ ڈالیے۔ یہ مت سوچیے کہ آپ کے دینے سے آپ کا مال کم ہو جائے گا؛ یہ سوچیے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے، اس میں سے کتنا کسی دوسرے کی زندگی بدل سکتا ہے۔ رزق صرف جمع کرنے کا نام نہیں، اس میں برکت، قناعت اور دوسروں کے کام آنے کی توفیق بھی شامل ہے۔ البتہ یاد رہے، نیکی کوئی سودا نہیں کہ ہم کچھ دیں اور بدلے میں اپنی مرضی کا نتیجہ طلب کریں۔ عطا کرنے کا حسن اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے پیچھے خلوص ہو، حساب کتاب نہیں۔


اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے محبت کریں تو دوسروں کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیجیے۔ ہر شخص کو اپنے رویّے کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے کبھی اس کے حالات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ہر تلخ لہجے کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی، ہر خاموشی کے پیچھے غرور نہیں ہوتا اور ہر فاصلے کے پیچھے بے اعتنائی نہیں ہوتی۔ بعض لوگ اپنے اندر ایسی جنگیں لڑ رہے ہوتے ہیں جن کا شور ان کے لبوں تک نہیں پہنچتا۔ ممکن ہے آپ کا ایک نرم جملہ، ایک بے غرض مسکراہٹ یا ایک لمحے کی توجہ کسی ایسے شخص کے لیے سہارا بن جائے جو دنیا کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرتے کرتے تھک چکا ہو۔


اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے لیے آسانیاں پیدا کریں تو دوسروں کے راستوں سے کانٹے ہٹانا شروع کر دیجیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی بات سنے تو دوسروں کو سننے کا ہنر سیکھیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی غلطیوں کو معاف کیا جائے تو دوسروں کی لغزشوں کے لیے بھی اپنے دل میں گنجائش رکھیے۔ انسان اکثر اپنے لیے رعایت اور دوسروں کے لیے اصول مقرر کرتا ہے، حالاں کہ انصاف کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے لیے پسند کی جانے والی بھلائی کو دوسروں کے لیے بھی پسند کرنا سیکھ لیتے ہیں۔


لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا زندگی واقعی ہمیں وہی واپس دیتی ہے جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں؟


ضروری نہیں۔ دنیا کوئی ایسا آئینہ نہیں جس میں ہر عمل کا عکس فوراً دکھائی دے۔ آپ کسی کی عزت کریں، ممکن ہے وہ آپ کی تذلیل کرے۔ آپ محبت دیں، ممکن ہے جواب میں خاموشی ملے۔ آپ کسی کے لیے آسانی پیدا کریں، ممکن ہے ضرورت کے وقت وہ آپ کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھائی بے معنی ہے۔ اگر آپ کی نیکی کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ دوسرا شخص آپ کے ساتھ بھی ویسا ہی کرے، تو شاید آپ نیکی نہیں، ایک غیر اعلانیہ معاہدہ کر رہے ہیں۔


اصل فلسفہ یہ نہیں کہ آپ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ اچھے ہوں؛ اصل فلسفہ یہ ہے کہ آپ وہ انسان بن جائیں جس کی ذات سے اچھائی پھوٹتی ہو، خواہ دنیا کا رویّہ کچھ بھی ہو۔


ہم اپنی زندگی میں جن چیزوں کی کمی محسوس کرتے ہیں، کبھی کبھی انہی چیزوں کی تقسیم سے انکار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں سمجھے، مگر کسی دوسرے کو سمجھنے کے لیے ٹھہرتے نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری موجودگی کسی کے لیے اہم ہو، مگر دوسروں کی موجودگی کو معمولی سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عزتِ نفس محفوظ رہے، مگر اپنے الفاظ سے دوسروں کی عزتِ نفس مجروح کر دیتے ہیں۔


شاید زندگی ہمیں سب سے پہلے یہی سبق سکھاتی ہے کہ خواہش کو کردار میں تبدیل کرنا سیکھو۔ محبت چاہیے تو محبت کرنے والے بنو، عزت چاہیے تو عزت دینے والے بنو، آسودگی چاہتے ہو تو اپنے وسائل میں دوسروں کے لیے بھی حصہ نکالو اور سکون چاہتے ہو تو کسی کے دل میں بے وجہ اضطراب پیدا کرنے سے بچو۔


اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی حدود مٹا دیں، ہر ناانصافی برداشت کریں یا اپنی ذات کو دوسروں کی خوشی کے لیے قربان کر دیں۔ محبت کے ساتھ خودداری، سخاوت کے ساتھ حکمت اور احترام کے ساتھ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اچھا انسان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر شخص کو اپنے اوپر اختیار دے دیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے اختیار کو کسی دوسرے کے لیے اذیت کا سبب نہ بننے دیں۔


زندگی سے شکایت کرنے سے پہلے کبھی اپنے رویّوں کا جائزہ لیجیے۔ ممکن ہے جس محبت کے منتظر آپ برسوں سے بیٹھے ہیں، اس کی ابتدا آپ کے ایک نرم رویّے سے ہو سکتی ہو۔ ممکن ہے جس احترام کی خواہش آپ کے دل میں ہے، اس کا پہلا قدم کسی دوسرے کی عزتِ نفس محفوظ رکھنے میں پوشیدہ ہو۔ اور ممکن ہے جس برکت کی تلاش میں آپ بہت دور نکل آئے ہیں، اس کا ایک راستہ کسی ضرورت مند کی خاموش ضرورت پوری کرنے سے گزرتا ہو۔


زندگی میں جو چاہیے، اسے بانٹنا شروع کر دیجیے۔ اس لیے نہیں کہ دنیا آپ کو اس کا صلہ دینے کی پابند ہے، بلکہ اس لیے کہ آپ کی ذات اس خوبی کی امین بننے کے قابل ہے۔


کیونکہ آخرکار انسان کی اصل پہچان صرف یہ نہیں ہوتی کہ وہ زندگی سے کیا حاصل کر سکا، بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے وجود سے دوسروں کی زندگیوں میں کیا اضافہ ہوا۔ کچھ لوگ دولت چھوڑ جاتے ہیں، کچھ شہرت، اور کچھ اپنے پیچھے ایسے احساسات چھوڑ جاتے ہیں جو ان کی غیر موجودگی میں بھی زندہ رہتے ہیں۔


شاید کامیاب زندگی کا ایک خوب صورت مفہوم یہی ہے کہ آپ دنیا سے رخصت ہوں تو لوگ صرف یہ یاد نہ کریں کہ آپ کے پاس کیا تھا، بلکہ یہ بھی یاد کریں کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کے پاس کیا کچھ تھا؛ عزت، محبت، آسرا، آسانی اور یہ احساس کہ اس بے مہر دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی تھا جس نے دوسروں کے لیے اچھا ہونا کسی صلے کی شرط سے وابستہ نہیں کیا۔