fbpx

سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے۔سینیٹ

اسلام آباد:سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے۔
،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے اور سی ڈی اے ترقیاتی کام تیز کر کے سیکٹرE-12 کو مکمل کر ےاور 2023 تک پلاٹ الاٹیوں کے حوالے کرے۔

یہ ہدایات مجلسِ قائمہ برائے حکومتی یقین دہانیاں نے اپنے اجلاس میں کیں۔ مجلسِ قائمہ کا اجلاس قومی اسمبلی میں حکومتی پارٹی کے چیف وہپ اور مجلسِ قائمہ کے چیئرمین ملک محمد عامر ڈوگر کی صدارت میں ہوا۔ مجلسِ قائمہ کو بتایا گیا کہ اجے لال وانی ایک باصلاحیت صحافی تھا جسے رات ساڑھے نو بجے حجام کی دُکان پر نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ چنانچہ سندھ پولیس نے رات دن ایک کرکے قاتلوں کو گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔ لہٰذا پولیس نے قاتلوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اُنہیں جیل بھجوا دیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے جے آئی ٹی بھی مقرر کی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات بھی پولیس کے تحقیقات کے مطابق تھیں اور اب کیس عدالت میں ہے۔

مجلسِ قائمہ نے سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ مجلسِ قائمہ کو بتایا گیا کہ آنجہانی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں پر شدید دباؤ ہے۔ لہٰذا مجلسِ قائمہ نے سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ مقتول کے والدین اور گواہوں کو مزید تحفظ دیں اور اُن سے مسلسل رابطے میں رہیں اور مجلسِ قائمہ کو تیس دن میں رپورٹ پیش کریں۔ مجلسِ قائمہ کو سی ڈی اے نے بتایا کہ E-12 کامعاملہ کافی پرانا ہے تاہم موجودہ حکومت اس کو جلد از جلد حل کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

مجلسِ قائمہ نے ہدایت کی کہ پورے E-12 کا قبضہ جلد از جلد واگزار کروایا جائے اور 2023 تک تمام ترقیاتی کام مکمل کرکے پلاٹ الاٹیوں کے حوالے کیے جائیں۔ مجلسِ قائمہ نے تمام جامعات میں پینے کا صاف فراہم کرنے کے بارے میں حکومتی یقین دہانی کو زیرِ غور لایا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مجلس قائمہ کو بتایا گیا کہ 140 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 79 میں صاف پانی کی سہولت موجود ہے، 59 کا کیس پلاننگ کمیشن کے پاس زیرِ غور ہے۔

مجلسِ قائمہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ پلاننگ کمیشن کو 59 جامعات میں فلٹریشن پلانٹ لگانے کے منصوبے کے لیے جلد فنڈز جاری کرنے کی درخواست کرے اور پلاننگ کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ اس سلسلے میں فنڈز جلد جاری کرکے فلٹریشن پلانٹس کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے کے قابل بنایا جائے۔ مجلسِ قائمہ نے قومی اسمبلی کے حلقہ -183 میں بجلی کے سانحہ میں فوت ہونے والے لائن مین کے معاملہ پر غور کیا۔

پاور ڈویژن اور میپکو کے افسران نے مجلسِ قائمہ کو بتایاکہ فوت ہونے والے ملازم کے لواحقین کو تمام واجبات ادا کر دیئے گئے ہیں اور غفلت برتنے والے تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزائیں دے دی گئی ہیں۔ لہٰذا مجلسِ قائمہ نے یقین دہانی کو نمٹا دیا۔

مجلس قائمہ کے اجلاس کی صدارت، چیئرمین جناب ملک محمد عامر ڈوگر نے کی، جبکہ ممبران مجلس قائمہ برائے حکومتی یقین دہانیاں جناب مجاہد علی، جناب شیخ راشد شفیق، محترمہ شگفتہ جمانی، جناب سید مبین احمد، جناب خالد حسین خان مگسی، جناب چوہدری ارمغان سبحانی، جناب عثمان ابراہیم، جناب سید جاوید حسنین، محترمہ شاہدہ اختر علی، ایم این اے/محرک، جناب جے پرکاش، ایم این اے/محرک، جناب شیر اکبر خان، ایم این اے/محرک اور انجینئر صابر حسین قائم خانی، ایم این اے /محرک نے شرکت کی ۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور جناب علی محمد خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں ہوا بازی ڈویژن، وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے، وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پی آئی اے اور سندھ پولیس کے اعلیٰ سول افسران نے بھی شرکت کی۔