fbpx

پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں اور قیادت کے گھروں پر چھاپوں سے ن لیگ نے پھر وہی دکھایا ہے جس سے ہم واقف ہیں-

باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ پرامن احتجاج ہمارےشہریوں کاحق ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان اوررہنماؤں کیخلاف ظالمانہ چھاپوں نے ایک مرتبہ پھرہمیں وہی کچھ دکھایاہےجس سےہم واقف ہیں کہ جب بھی اقتدار ہاتھ لگتاہے نون لیگ فسطائیت پراترتی ہے –

‏بریکنگ نیوز، پولیس حماد اظہر کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچ گئی


عمران خان نے کہا کہ یہ کریک ڈاؤن(کٹھ پتلیوں کی) ڈوریاں تھامنےوالوں پربھی سنجیدہ سوالات اٹھارہاہےمعیشت پہلےہی تباہی کے گڑھے میں اتر چکی ہے۔ ڈاکوؤں اور ان کے آقاؤں کومیں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ غیر جمہوری اور سفاکانہ اقدامات معاشی صورتحال میں مزید ابتری کے موجب بنیں گے اور ملک کو طوائف الملوکی کی جانب دھکیلیں گے۔


انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کیخلاف پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز اور جمعیت علمائے اسلام کے جلوسوں کو روکا گیا نہ ہی ہم نے ان کے کارکنان کے خلاف کسی قسم کی چھاپہ مار کاروائیاں کیں جب کہ ہمارے کارکنوں کے گھروں پر کریک ڈاؤن ان کے ہینڈلرز سے متعلق بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے ڈیموکریٹس اور کلپٹوکریٹس میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پولیس لا ہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے گارڈن ٹاؤن لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کے گھر پر چھاپا مارا تو وہاں یاسمین راشد سمیت دیگر رہنما موجود تھے ڈاکٹر یاسمین راشد نےگرفتاری سے بچنے کے لیے زمین پر بیٹھ کر دھرنا دے دیا تاہم پولیس حماد اظہر کی رہائش گاہ سے کسی پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، یاسر گیلانی، سابق صوبائی وزیر چودھری اخلاق ،سعدیہ سہیل،پی ٹی آئی کےسابق سیکرٹری اطلاعات فرخ جاویدمون ،گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے سینیررہنما صدیق مہر سمیت کئی دیگر رہنماوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے-

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماگھر پر موجود نہیں تھے اس لیے ان کی گرفتاری نہ ہوسکی پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے لاہور سے اب تک 73 کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔