ریپ واقعہ کا میری فیملی کو بھی پتہ نہیں تھا، میں پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کر رہی تھی لیکن پی پی قیادت نے مجھے رسوا کیا ، سینتھیا

0
46

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی خاتون بلاگر نے سینتھیا نے کہا ہے کہ ریپ واقعہ کا میری فیملی کو بھی پتہ نہیں تھا، میں پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کر رہی تھی لیکن پی پی قیادت نے مجھے رسوا کیا ،

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینتھیا کا کہنا تھا کہ میری ریپ کہانی کا میرے گھر والوں کو پتہ نہیں تھا تا ہم اب انہیں پتہ چل گیا ہے، میں پاکستان کے مثبت پہلو کو اجاگر کر رہی تھی لیکن پاکستان کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی نے مجھے رسوا کیا

سینتھیا کا مزید کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں سچ بتاؤں تا کہ خواتین اور مقامی لوگ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ یہ سمجھیں کہ وہ تنہا نہیں.

واضح رہے کہ پاکستان میں مقیم امریکی خاتون بلاگر سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر سنگین الزامات لگائے ہیں،سنتھیا رچی نے اپنے ویڈیو پیغام میں سینیٹر رحمان ملک پر زيادتی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کیساتھ یہ واقعہ 2011ء میں پیش آیا، جب وہ وفاقی وزیر داخلہ تھے۔

سنتھیا رچی نے اپنی ویڈیو میں اس کے علاوہ دعویٰ کیا کہ سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے بھی ان کیساتھ بدسلوکی کی تھی۔ سابق وزيراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کیساتھ تب دست درازی کی جب، وہ ایوان صدر میں مقیم تھے۔

سینتھیا کی جانب سے پیپلز پارٹی کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے، پی پی حکام نے امریکی خاتون کے خلاف ایف آئی اے، ڈی جی آئی ایس آئی کو درخواستیں بھی جمع کروا دی‌ ہیں، سینیٹر رحمان ملک، سینیٹر سحر کامران اس حوالہ سے متحرک ہیں تا ہم سینتھیا پیپلز پارٹی کے حوالہ سے آئے روز نئے انکشافات سامنے لے کر آ رہی ہے

قبل ازیں پیپلز پارٹی نے سوشل میڈیا پر فعال غیر ملکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ میں درخواست جمع کروا دی ہے۔ یہ درخواست سنتھیا رچی کی جانب سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف توہین آمیز اور بہتان پر مبنی ٹویٹس کرنے پر دائر کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر اور ایڈوکیٹ ہائی کورٹ شکیل عباسی کی طرف سے درج کرائی اس شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایک خاتون جو ٹوئٹر ہر سنتھیا ڈی رچی کے نام سے جانی جاتی ہیں، انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بینظیر بھٹو کے بارے میں انتہائی توہین آمیز اور بیہودہ تبصرے پوسٹ کیے ہیں

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے جھوٹے، بے بنیاد، بدنامی اور بہتان پر مبنی ٹویٹس سے پاکستان میں بینظیر بھٹو کے چاہنے والوں کو بہت دکھ اور تکلیف پہنچی ہے۔ انھوں نے ایف آئی اے سے سنتھیا رچی کے خلاف فوراً قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

اس مسئلہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سنتھیا نے گذشتہ 48 گھنٹوں سے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز پر اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ بی بی (بینظیر) اس وقت کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر انھیں دھوکہ دیتے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین "جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے” کی عصمت دری کرواتی تھیں۔

اپنی ٹویٹ میں سنتھیا کا مزید کہنا تھا کہ خواتین عصمت دری کے ایسے کلچر کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کبھی مردوں کو جوابدہ نہیں کیا جاتا؟ انصاف کا نظام کہاں ہے

سنتھیا کی ٹویٹ کے بعد پیپلز پارٹی رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ایف آئی اے میں درخواست بھی جمع کروا دی ہے

سنتھیا کے خلاف ایکشن کب ہوگا؟ وہ کیوں اور کس حیثیت میں پاکستان رہائش پذیر ہے؟ سینیٹر سحر کامران

اپنے خلاف ایف آئی اے کو دی گئی درخواست پر ردِعمل دیتے ہوئے سنتھیا نے ٹویٹر پر کہا کہ برائے مہربانی پی پی پی کے نام نہاد جمہوریت پسند لوگوں کی طرف سے مجھے دی جانی والی موت کی دھمکیوں پر بھی کارروائی کی جائے

 

سینتھیا کس کی اجازت اور خرچے پاکستان میں گھوم پھر رہی ہے ؟ حکومت واضح کرے ، فرحت اللہ بابر

پیپلز پارٹی والو ، پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے، سینتھیا

پی پی کے ایک اور جیالے نے سعودی نمبر سے فحش تصاویر بھیجیں، کوئی انہیں روکنے والا نہیں ؟ سینتھیا

اگر پیپلز پارٹی ایک صحرا ( تھر ) کو نہیں چلا سکتی تو پورا ملک بھی نہیں چلا سکتی، سینتھیا

جس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو رہی تھی کیا ایسی حرکت ہو سکتی تھی؟ یوسف رضا گیلانی کا سینتھیا کے دعویٰ پر جواب

Leave a reply