fbpx

ریاست مدینہ کی طرف سفر تحریر:محمد نعیم شہزاد

پیوستہ رہ شجر سے
ریاست مدینہ کی طرف سفر

تحریر: محمد نعیم شہزاد

وطن عزیز پاکستان آزادی کا 74 واں سورج دیکھنے جا رہا ہے۔ ایشیاء صغیر کی سر زمین پر تاج برطانیہ کے آمرانہ تسلط کے بعد مسلمانوں پر ہندو اکثریت کے جابرانہ اقتدار کے بادل منڈلا رہے تھے کہ مسلم قیادت نے ایک الگ اسلامی مملکت کا مطالبہ کر دیا۔ حیرت ہوتی ہے ان خود ساختہ دانشوروں پر جو دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر ہندو، مسلم ایک قوم بن سکتے تو اس تقسیم کی قطعاً ضرورت نہ پیش آتی مگر تقسیم کا فارمولا طے ہونا اور اس پر عملدرآمد اس بات کا عکاس ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تقسیم ہند کے بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات تقسیم کے اس عمل کے درست ہونے پر شاہد ہیں۔ ان 74 برسوں میں ریاست پاکستان نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی یہ ریاست حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر کے باوجود قائم دائم ہے اور تاقیامت سلامت رہے گی۔ ان شاء اللہ

سر دست میں آپ کو مدینہ ثانی کہلانے والی اس ریاست، پاکستان جسے اسلام کا قلعہ بھی قرار دیا جاتا ہے کے نظام حکومت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی بات کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔ اور یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ریاست مدینہ میں جب ایک چوری کے مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجرم خاتون کی سفارش کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام کی تباہی کا سبب ذکر فرما دیا۔

"کمزور کو سزا دینا اور طاقتور کو چھوڑ دینا”۔

یہ ہر دور کا المیہ رہا ہے کہ طاقتور اور مالدار طبقہ اپنی طاقت کے زور پر تمام طرح کے مواخذات سے بری الذمہ ٹھہرتا ہے اور سارا زور کمزور اور غریب عوام پر ہی نکلتا ہے۔ امیر شخص واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود بچ جاتا ہے اور غریب محض شک کی بنیاد پر دھر لیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد محکمانہ غفلتیں ہیں جن کی وجہ سے عوام انصاف سے یا تو محروم ہیں یا منتظر اور یہ انتظار ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں پاکستان سیٹزن پورٹل کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ آپ کسی بھی محکمے کی طرف سے لیت و لعل کا شکار ہیں یا آپ کی شنوائی نہیں ہو رہی تو اپنی شکایت کے لیے اس پورٹل کی طرف رجوع کریں۔ شکایت درج کرنے کے 40 یوم سے پہلے پہلے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اگر شکایت پوری طرح رفع نہ یہہو تو اس کا اظہار تبصرہ کے کالم میں کریں یا دوبارہ شکایت درج کر دیں اور پہلے والی شکایت کا حوالہ بھی دے دیں ۔

گزشتہ 9 ماہ کے عرصے میں میں سیٹیزن پورٹل سے تین بار مستفید ہوا ہوں اور وہ ثمرات پائے ہیں جو اس کے بغیر ناممکن تھے۔ جب ہمارا کوئی جائز کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورے ہونے کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو تو سیٹیزن پورٹل ہی ہماری آخری امید بن جاتا ہے اور آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ہی مل جاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنہوں نے اس نظام کا اجراء کیا۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو قوموں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میں اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کو مبارک باد دینا چاہوں گا اور امید رکھوں گا کہ انصاف کی فراہمی کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا اور ہمارے پاک وطن کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ایک فلاحی ریاست بنا دے گا۔

محمد نعیم شہزاد ایک فری لانس بلاگر اور کانٹینٹ رائٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں تعلیم، عمرانیات اور سیاسیات شامل ہیں۔ لکھاری کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کا پرسنل اکاؤنٹ وزٹ کریں۔