ورلڈ ہیڈر ایڈ

چند اہم روز مرہ گھریلو چیزیں اور ان کا مدت استعمال

کچھ چیزیں گھروں میں ایسی ہوتی ہیں جن کی مدت استعمال ختم ہو جاتی ہے لیکن خواتین کو اس کا اندازہ نہیں ہو پاتا بلکہ اکثر خواتین کو اس طرف دھیان بھی نہیں جاتا ہو گا ایسی ہی کچھ چیزیں جنہیں خواتین خرید کر سمجھتی ہیں کہ وہ سالہا سال چلیں گی انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں وہ چیزیں مندرجہ ذیل ہیں

سلیپرز:
گھر میں خواتین جو سلیپرز استعمال کرتی ہیں ان کی بھی مدت استعمال ختم ہو جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ یہ جب تک نہ ٹوٹیں انہیں استعمال میں رکھا جائے ماہرین کے مطابق ان سلیپرز کو چونکہ ہر وقت پہنا جاتا ہے اس لئے ان سے فنگس انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے سلیپرزکو باقاعدگی سے روزانہ دھوئیں اور ب6 ماہ بعد تبدیل کریں تاکہ پاؤں کسی بھی قسم کے انفیکشن سے محفوظ رہیں

ہیئر برش:
بالوں کا کنگھا مستقل استعمال میں آتا ہے ایک ہی کنگھے کو کئی لوگ استعمال کرت ہیں بعض اوقات اس وجہ سے بال بھی گرنے لگتے ہیں احتیاط کریں کہ بالوں کا کنگھا ہر کوئی استعمال نہ کرے یعنی ایک دوسرے کا جھوٹا کنگھا استعمال نہ کریں کنگھا ہر ہفتے دھو کر صاف کر لیں ساتھ ہی سال میں ایک مرتبہ کنگھا ضرور استعمال کر لیں تاکہ بالوں کے مسائل سے چھٹکارہ پایا جا سکے

تکیہ:
تکیہ بھی لوگ سالوں استعمال کرتی ہیں لیکن اسے بدلنا نہیں چاہتے تکیہ کی بھی مدت استعمال ہوتی ہے اسے بھی ہر دو سے تین سال میں تبدیل کرتے رہنا چاہئے تکیے وقت کے ساتھ ساتھ پچکنا شروع کر دیتے ہیں جس سے گردن اور کمر کی شکایات لاحق ہو جاتی ہیں

تولیہ:
اکثر خواتین کی سوچ ہوتی ہے جب تک تولیہ بالکل خراب نہیں ہو جاتا اسے پھینکا نہیں جائے گا ماہرین کے مطابق ایک سے دو سال کے دوران تولیہ کی مدت ختم ہو جاتی ہے اس کی مدت استعمال تولئے کی کوالٹی پر منحصر ہوتی ہے اگر مدت کے گزرنے کے بعد بھی تولیہ استعمال کیا جائے تو اس میں جراثیم جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ جلدی بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں

باتھ اسفنج:
نہاتے وقت جسم سے میل مٹی صاف کرنے کے لئے باتھ اسفنج کا استعمال کیا جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کتنا ہی مہنگا اسفنج خرید لیں لیکن اس میں دو ہفتے کے بعد ہی کائی لگنا شروع ہو جاتی ہے لہذا اس لئے باتھ اسفنج کو ایک سے دو ماہ کے اندر تبدیل کر لینا چاہئے اسفنج کو کائی سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے گرم پانی میں ڈالیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.