چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

ٹی وی اداکارہ ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔

باغی ٹی وی :حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ ساس بہو والے ڈراموں کی کہانیاں سب جھوٹ ہیں۔ جن لوگوں کی سوچ صحیح ہوتی ہے انہیں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اوروہ لوگ مل کررہ سکتے ہیں۔

ثروت گیلانی کا اپنے فنی کیرئیر کی شروعات کے حوالے سے کہنا تھا کہ شوبزمیں کام کے حوالے سے خاندان کو راضی کرنا بہت مشکل تھا، میں سوچتی تھی کہ اگراچھا کام کرتی رہی تو وہ ایک دن خود ہی مان جائیں اورایسا ہی ہوا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو زیادتی، اغوا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے جیسے کئی مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت چیزوں پرپابندیاں لگانے اور چھوٹے موٹے معاملات میں ہی مصروف ہے میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کو گھمبیر معاملات پر زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری صرف تین افراد کے سینگوں پر کھڑی ہے محمد احمد

ٹی وی ڈراموں میں کم کام کی وجہ بتاتے ہوئے ثروت گیلانی نے کہا کہ میری ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں میری والدہ اوربچے میری پہلی ترجیح ہیں اس کے علاوہ اسپیشل اولپمکس کی سفیرہونے کی وجہ سے مجھ پر کئی ذمہ داریاں ہیں، میرا زیادہ تروقت ان 2 چیزوں میں چلا جاتا ہے۔

ثروت گیلانی نے ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی پابندی لگائے جانے پر بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ ویب سیریز ’چڑیلز‘ پرپابندی سے مجھے بہت دکھ ہوا اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا-

پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں…

ثروت گیلانی نے کہا کہ اگر ہم سچائی سے بھاگتے رہے تو خود کو ٹھیک کیسے کریں گے ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔ امید ہے ایک وقت آئے گا کہ انہیں یہ پیارمحبت بھی ہضم کرنا آجائے گا۔

جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

اداکارہ کا کہنا تھا کہ چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے، ہم نے سوچا تھا کہ ویب سیریز دیکھنے والوں میں سے 80 فیصد تنقید اور20 فیصد تعریف کریں گے لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا زیادہ تر لوگوں نے اس کی تعریف کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ساس بہو جیسی کہانیاں پرانی ہوگئیں لوگوں کواب نیا چاہیے۔

پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ پر پاکستان میں عائد پابندی ختم

ویب سیریز چڑیلز کو پاکستان میں بین کرنے پر شوبز شخصیات کا سخت رد عمل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.