fbpx

شاہ زین بگٹی پر حملے کے خلاف شاہ زین بگٹی کے حامی متحرک، عمران خان کے پوسٹر جلا دیئے

کوئٹہ:شاہ زین بگٹی پر حملے کے خلاف شاہ زین بگٹی کے حامی متحرک، عمران خان کے پوسٹر جلا دیئے،اطلاعات کے مطابق کل رات مدینے میں وزیراعظم شہبازشریف اورساتھیوں کے خلاف چور آئے چورآئے کےنعروں کے ساتھ ساتھ ایک شخص نے شاہ زین بگٹی کے خلاف بھی کچھ ایسا ہی ردعمل دیا ، جس کے بعد سے ملک میں صورتحال بتدریج خراب ہی نظرآرہی ہے ،

ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ شاہ زین بگٹی پرحملے کے بعد شاہ زین بگٹی کے حامیوں نے بھی اپنا سخت ردعمل دیا ہے اورڈیرہ بگٹی کے علاقے میں عمران خان کے پوسٹرجلائے گئےہیں

تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کی درخواست پر شاہ زین بگٹی کے گارڈز کے حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ، جس میں کہا کہ حملہ آور ہمیں جان سے مارنا چاہتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کی درخواست پر تھانہ کوہسار میں گرشتہ رات واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ دوستوں کے ساتھ سحری کے لئے کوہسارمارکیٹ گیا، جہاں چند پی ٹی آئی مخالف لوگوں نے ہم پر حملہ کردیا۔ایف آئی آر میں کہا کہ حملہ آورہمیں جان سے مارنا چاہتے تھے، سامنے آنے پر حملہ آوروں کو میں اور میرے ساتھی پہچان سکتے ہیں۔

یاد رہے اسلام آباد میں کوہسار کے ریسٹورنٹ میں پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری پر شاہ زین بگٹی کے گارڈز نے حملہ کردیا تھا ، قاسم سوری سحری کیلئے ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے ، اس دوران حملہ آوروں نے شاہ زین بگٹی زندہ باد اور پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے لگائے۔

حملہ شاہ زین بگٹی کے بھائی اورایم پی اےگہرام بگٹی کی ہدایت پرہوا ، حملہ آور میریٹ سمیت کئی ہوٹلوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو تلاش کرتے رہے ، جب کوہسار کے ریسٹورینٹ میں پی ٹی آئی رہنما نظرآئے تو حملہ کردیا۔

حملے کے بعد قاسم سوری نے بیان میں کہا تھا کہ مجھ پر ابھی ابھی مقامی ریسٹورنٹ میں حملے کی کوشش کی گئی، غنڈوں کو ریسٹورنٹ میں آئی ہوئی فیملیز اور ویٹرز نے مار بھگایا۔

 

یاد رہے کہ کل رات وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ پہنچے تو لوگوں نے چور چور کے نعرے لگادیے۔مدینہ منورہ میں شہباز شریف وفد کے ہمراہ پہنچے تو لوگوں نے ان کا استقبال چور چور کے نعروں سے کیا۔

ذرائع کے مطابق شاہ زین بگٹی، مریم اورنگزیب کو دیکھتے ہی لوگوں نے نعرے بلند کیے جبکہ شہباز شریف کی گاڑی کو گارڈز نے گھیرے میں لیے رکھا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد نے حکومتی وفد کا پیچھے کیا اور نعرے لگائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل شہباز شریف کابینہ کے ارکان کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچے تھے، وفد میں بلاول بھٹو، مفتاح اسماعیل، شاہ زین بگٹی مریم اورنگزیب شامل ہیں، وفد میں خواجہ آصف، چوہدری سالک حسین، خالد مقبول، محسن داوڑ بھی شامل ہیں۔اس سے قبل گورنر مدینہ اور شہباز شریف کی ملاقات بھی ہوئی جس میں پاک سعودی تعلقات اور دو طرفہ باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔