fbpx

سندھ حکومت کا منشور صرف مال کھپے ہے،اب بھٹو نہیں یہ زرداری کی جماعت ہے

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کیا ان کے ہمراہ پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر بلال غفار، شہزاد قریشی و دیگر بھی موجود تھے، حلیم عادل شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعلیٰ سندھ نے ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس میں صرف وفاق کو طعنے دیئے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کے پارٹی صرف نفرت کا اظہار کرتی ہے، وزیراعلیٰ جب میٹنگ میں ہوتے ہیں تو بولتی بند ہوتی ہے،کل میٹنگ میں وزیر اعلیٰ خاموش تھے،ایس آئی ڈی سی ایل کا قیام میں سابقہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے نواز شریف کے ساتھ ملکر کیا تھا، اس وقت انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا،اس وقت صرف اعلانات کیے گئے،اقدامات ایس آئی ڈی سی ایل نے 2018 سے اٹھانا شروع کیے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا مراد علی شاہ اپنے گریبان میں جھانکیں،وفاق کچھ کرتا ہے تو یہ این او سی نہیں دیتے،سندھ حکومت کا منشور صرف مال کھپے ہیں،12 ارب این او سی نہ دینے پر لیپس ہوگئے،وجہ یہ تھی کہ انہیں بھتہ نہیں دیا گیا، بارشوں میں شہر کراچی ڈوب رہا تھا لیکن سندھ حکومت نے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے تھے
69 فیصد شیئر سندھ حکومت کو اس شہر کراچی سے جاتا ہے ،لیکن سندھ حکومت نے اس شہر کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ کراچی صوبے سندھ کا تاج ہے آج گٹروں میں ڈوبا ہوا ہے، سندھ نے پاکستان کی قرارداد رکھی تھی،اس صوبے کے پاس پاکستان کارڈ ہے،لیکن یہ لوگ ڈرا کر سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں،اس شہر کو زخم پی پی نے لگائے ہیں، اس صوبے کو ایڈز لگائی گئی،کتوں سے بچوں کو کٹوایا گیا، اس صوبے کو گٹر میں پیپلزپارٹی نے تبدیل کیا، اس صوبے کو پی پی کی وجہ سے آج عالمی سطح پر کرپشن ، ایڈز، کتوں کی وجہ سے جانتے ہیں، انڈس ہائی وے بتائیں ابھی تک کیوں نہیں بن سکا، ایک موٹروے تک پیپلزپارٹی نے نہیں بنائی، سندھ حکومت گند تلاش کرکے شوشا کرتی ہے، ملیر ایکسپریس وے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر ہے، خود کریں تو جائز کوئی اور کرے تو ناجائز، سندھ حکومت چاہتی ہے سارے پیسے ان کو دیئے جائیں، اور پیسے جعلی اکاؤنٹس میں ڈال دیں، پی ڈبلیو ڈی پورے شہر میں کام کروا رہے ہیں، مراد علی شاہ فرماتے ہیں پیسے یوسی پر وفاق نے لگادیے، لیکن بلاول ہاؤس میں بھینسیں 10 کروڑ کے بنگلے میں رہتے ہیں، عمران خان اس یوسی والے لوگوں کا وزیراعظم ہے، آپ جاگیرداروں کے لوگ ہیں، یہ یوسی کے پیسے بھی خود اکاؤنٹ میں لینا چاہتے ہیں، بلاول ہاؤس کے بھینسوں کے لیے ایس ایس یو کے 200 گارڈ موجود ہیں، اب بھٹو نہیں یہ زرداری کی جماعت ہے، اب دو نہیں ایک پاکستان ہے، ٹریکٹر سبسڈی اسکیم، نوری آباد پاور پلانٹ، شگر سبسیڈی کے پیسے بھی یہ لوگ کھاگئے، ہم سندھ کی عوام پر پیسے لگائیں گے،اب پیسے اومنی گروپ کو نہیں دیں گے، یہ بلاول ہاؤس کو سندھ سمجھتے ہیں، ہمارے نظر میں پوری سندھ ہے اس کی عوام ہے،کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے 5 ارب دیے گئے لیکن این ڈی ایم اے نالے صاف کررہا ہے،پانی کے منصوبوں کے لیے 25 ارب وفاق نے دیے، ہم نے جوہی میں لوگوں کو درختوں پر پناہ مانگتے دیکھا، رینی کینال، نئی گاج پر وفاق نے پیسے رکھے ہیں، کے فور 12 سال تک سندھ حکومت کرپشن کرتی رہی، اب وفاق اس پر کام کررہا ہے، سندھ حکومت کے وزراء کا پیٹ نہیں بھرتا، سندھ حکومت اور سندھ الگ چیزیں ہیں، ہمارے پاس بھی سندھ کا مینڈیٹ ہے،یہ ریاست بھٹو یا زرداری نہیں، 13 سال میں 7880 ارب روپے سندھ کو دیے، وزیراعظم نے سندھ کے لیے دو بڑے پیکیج دیے، ایک ہزار سے زائد رقم سندھ کی عوام پر خرچ ہورہی ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا بحریہ ٹاؤن کے معاملے پر مراد علی شاہ نے اعتراف جرم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں ٹینٹ لگاکر دیئے ،جب وزیراعلیٰ ہاؤس کوئی جاتا ہے انہیں واٹر کینن اور لاٹھیوں سے مارا جاتا ہے،سندھ کی بیٹیوں کی تذلیل کی جاتی ہے، مقامی لوگوں کے دہشتگردی میں نام ڈالے گئے،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محترمہ کی شہادت کے بعد لوٹ مار کی، یہ وہ لوگ تھے جو پی پی کی بی ٹیم تھی، اس کا فائدہ زرداری اور سندھ حکومت کو ہوا، معصوم لوگوں کی املاک جلائی گئی، 334 کی دفعہ میں مراد علی شاہ اور کیبینٹ شامل ہے، سازش میں پیپلزپارٹی ملوث ہے، بحریہ کو سپریم کورٹ کو زمین سپریم کورٹ نہیں سندھ روینیو نے دی، سپریم کورٹ نے تو پیسے واپس دلوائے یہ لوگ تو اس چوری کے حصیدار ہیں، بحریہ کی زمین سندھ حکومت نے بیچی، احتجاجی دھرنے والے اندر نہیں گھسے، دھرنے والے پرامن تھے اندر جانے والے لوگ پی پی کے لوگ تھے، وہ ملک ریاض نہیں آصف زرداری کے بیٹے تھے، اب چن چن کر سیاسی مخالفین پر کیس کیے جارہے ہیں، کسی کیمرے میں ایاز لطیف پلیجو نظر آیا؟لیکن ایف آئی آر میں ان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔