تنصیبات پر حملوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمے چلائے جائیں گے. شہباز شریف

0
32

تنصیبات پر حملوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمے چلائے جائیں گے. شہباز شریف

وزیراعظم شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سویلین تنصیبات پر حملوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمے چلائے جائیں گے جبکہ فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات ملٹری ایکٹ کے تحت چلیں گے۔ جبکہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ جہاز کھڑتے تھے جو غریب قوم کی پونجی سے خریدے گئے تھے، وہاں وہ جتھہ آگ لے کر پہنچ گیا، یہ صریحاً ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے؟ کوئی نیا قانون بننے نہیں جارہا، آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے عمران خان کو کہا کہ آپ کی اہلیہ کرپشن میں ملوث ہیں، عمران خان کو اس بات کا غصہ چڑھا اس لیے انھوں نے ان کو پسند نہیں کیا، عمران خان نے ایک بار پھر قوم کے سامنے جھوٹ بولا، عمران خان نے اسی شکایت پر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا تھا۔

جبکہ اس سے قبل قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیرعمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں نیب ہاتھوں گرفتاری کے 9 مئی کوپی ٹی آئی کی جانب سے ملک بھر میں کیے جانے والے پرتشدد مظاہروں کےخلاف مذمتی قراردادمنظورکرلی ہے جبکہ سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، جس میںوزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 9مئی کےواقعات کےخلاف مذمتی قرارداد پیش کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
وزیردفاع خواجہ آصف نےمذمتی قرارداد پیش کرتے ہوئےکہا کہ 9مئی حملوں کےمقدمات موجودہ قوانین کےمطابق چلیں گے،مقدمات آرمی ایکٹ اورانسداددہشتگردی ایکٹ کےتحت چلیں گے،ایوان افواج پاکستان کےساتھ مکمل یکجہتی کرتاہے۔ قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی پیش کردہ9مئی کےواقعات کیخلاف قرارداد منظورکر لی۔

Leave a reply