تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

0
55

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔

Leave a reply