یوای ٹی لاہور،چیف میڈیکل آفیسر کیخلاف تین سال سے کاروائی نہ ہو سکی

0
184
uet

یو ای ٹی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہزاد کے خلاف تین سال سے کاروائی نہ ہو سکی

2020 میں ڈاکٹر شہزاد کے خلاف بننے والی انکوائری کمیٹی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر شہزاد ایک وقت میں دو نوکریاں کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں ، انکوائری کمیٹی کی ہدایت پر وائس چانسلر کو کاروائی کے لئے کہا گیا تھا لیکن ابھی تک تین سال گزر گئے کوئی کاروائی نہیں کی گئی، ڈاکٹر شہزاد کے خلاف کاروائی کے لئے دوبارہ درخواست دے دی گئی ہے،

دوسری جانب محمد آصف یوای ٹی میں بطور رجسٹرار اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مبینہ طور پر وہ کئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اینٹی کرپشن، آڈٹ اور ایچ ای سی نے محمد آصف کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا تا ہم یو ای ٹی کے وی سی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے اخبار میں ٹینڈر شائع کیے بغیر دکانیں الاٹ کی ہیں جو کہ پیپرا رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے وی سی منصور سرور کے دور میں یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور جعلسازیوں کے بارے بڑے بڑے الزامات سامنے آئےہیں اور ڈینز اور چیئرمینز کی تقرریوں پر مبینہ انکشافات کا سلسلہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری ہے. ڈاکٹر منصور سرور نے اپنے پورے دور میں سنیارٹی لسٹ و سنیارٹی رولز کی عدم موجودگی میں تقرریاں کی۔ڈاکٹر منصور سرور نے نہ صرف خود یو ای ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کی بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور چانسلر آفس کو بھی گمراہ کیا۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین کی تقرری تین سینئر پروفیسرز میں سے وائس چانسلر کرتا ہے جبکہ ڈین کا تقرر تین سینئر پروفیسرز میں سے چانسلر یعنی گورنر کرتا ہے۔ یو ای ٹی نے کبھی سنیارٹی لسٹ یا سنیارٹی رولز ہی نہیں بنائے۔ یعنی سنیارٹی لسٹ کی عدم موجودگی میں سنیارٹی کا تعین کر لیا گیا۔

یو ای ٹی لاہور کے ایک طالب علم عبدالولی خان نے گورنر پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور بارے انکشافات کئے ہیں، خط کی کاپی وائس چانسلر یو ای ٹی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صدر لاہور پریس کلب کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ خط میں یو ای ٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کیخلاف غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر منصور سرور چار سال تک یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سرگرمیوں ملوث، خواتین کو ہراساں کرتے رہے اور دفتر کو منفی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے

سیشن 2019/2023 کے شکایت کنندہ طالب علم عبد الولی خان داوڑ نے وائس چانسلر دفتر کے باہر لگے کیمروں کی چھ مہینوں کی ریکارڈنگ قبضے میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص خواتین کے وائس چانسلر دفتر میں داخل ہونے کے اوقات، وائس چانسلر کی قربت پانے کے بعد عہدے پر تیزی سے ترقی ملنے کو بھی دائرہ تفتیش میں شامل کیا جائے اور وی سی ہاؤس کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی قبضہ میں لیا جائے کیونکہ منصور سرور چار سال تک وی سی ہاؤس میں اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہونے کے بجائے اسے غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے۔درخواست گزار نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کیمروں کی ریکارڈنگ غائب کر دی جائے گی لہٰذا مکمل ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں لینے کے لیے ایف آئی اے کی معاونت حاصل کی جائے۔ خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پروفیسر منصور سرور نے ان خواتین کے رشتے داروں کو نوازنے کے لیے اپنی مدت ملازمت کے آخری مہینوں میں 3 سنڈیکیٹ اور تین سلیکشن بورڈز کرائے جس میں 50 سے زائد افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس پر الگ سے انکوائری کرانا بے حد ضروری ہے تاکہ میرٹ کی خلاف ورزیاں سامنے لائی جا سکیں۔

‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

زیادتی کے بعد خاتون کو جلانے والے ملزم گرفتار

خواتین کی حفاظت کے لئے لگائے جائیں گے بسوں میں کیمرے

Leave a reply