Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرپٹو کرنسی ،فائدہ یا دھوکا،تحریر:مریم ڈار،قسط دوئم  

نقطہ نظر

  ایک ایسی کرنسی جسے چھو نہیں سکتے


دوسری قسط — وہ ڈیجیٹل رجسٹر جس پر سب کی نظر ہےپچھلی قسط یقیناََ آپ کے لیے  بہت زیادہ معلومات کی حامل تھی اور میں نے بھی یہ معلومات اکٹھی کرنے کے لیے بہت محنت کی اب اس کی دوسری قسط میں اِن ٹرمز  یا لفظوں کا مطلب سمجھتے  ہے 

پچھلی قسط میں ہم نے کرپٹو کرنسی کا ابتدائی تعارف حاصل کیا تھا۔ ہم نے جانا کہ کرپٹو ایک ڈیجیٹل دنیا سے تعلق رکھنے والا اثاثہ ہے، بِٹ کوائن اس دنیا کا سب سے معروف نام ہے اور بلاک  چین وہ ٹیکنالوجی ہے جس کا ذکر کرپٹو کی بات کرتے ہوئے بار بار سامنے آتا ہے۔

تو پھر سمجھتے ہیں کہ آخر بلاک چین ہے کیا ؟

نام  مشکل ہے تو تعریف  اور بھی مشکل  اور اس کو عملی شکل دینے کے لیے  پورا ایک سسٹم ہے   لیکن ہم اس کو ایک دیسی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ذرا اپنے محلے کی کسی پرانی دکان کا تصور کریں۔ دکاندار کے پاس ایک موٹی سی رجسٹر کتاب ہے۔ جب کوئی شخص ادھار سامان لیتا ہے تو دکاندار اس کا نام، تاریخ اور رقم رجسٹر میں لکھ دیتا ہے۔ پھر دوسرا شخص آتا ہے، اس کا حساب درج ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ رجسٹر لین دین کا مکمل ریکارڈ بن جاتا ہے۔

بلاک چین کو ابتدائی طور پر سمجھنے کے لیے آپ اسے ایک ڈیجیٹل رجسٹر سمجھ سکتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ یہ عام کاغذی رجسٹر نہیں، بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک پر کام کرنے والا ایک ڈیجیٹل نظام ہے۔

لین دین کی معلومات کو مختلف بلاکس میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جب ایک بلاک تیار ہو کر نیٹ ورک کے مقرر کیئے ہوئے طریقہ کار کے مطابق شامل ہوجا تا ہے تو وہ پہلے سے موجود بلاکس کے سلسلے سے جڑ جاتا ہے۔یوں ایک بلاک دوسرے سے اور دوسرا تیسرے سے جڑتا جاتا ہے۔اور  ایک چین بن جاتی ہے۔اسی لیے اسےبلاک چین کہا جاتا ہے، یعنی بلاکس کی ایک زنجیر۔

اب اس کو ایک اور عام سی مثال سے سمجھتے ہیں

اگر علی نے بلال کو بِٹ کوائن بھیجا تو اس لین دین کا کیا ہوگا؟

سب سے پہلے لین دین کی درخواست نیٹ ورک تک پہنچتی ہے۔ نیٹ ورک کے قواعد کے مطابق اس لین دین کی جانچ اور تصدیق کی جاتی ہے۔ مختلف بلاک چین نیٹ ورکس میں یہ کام مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ تصدیق کے بعد درست لین دین کو ریکارڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

جیسے  آپ بینک سے کسی دوسرے شخص کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجتے ہیں تو یہ بھی ایک لین دین ہے۔ اسی طرح بلاک چین پر کسی ڈیجیٹل اثاثے کو ایک پتے سے دوسرے پتے پر منتقل کرنا بھی ایک لین دین ہو سکتا ہے۔

لیکن روایتی بینکنگ اور بلاک چین میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ بلاک چین کے بعض نیٹ ورکس میں کسی ایک بینک کے بجائے کمپیوٹرز کا ایک پورا نیٹ ورک لین دین کے ریکارڈ اور تصدیق کے عمل میں حصہ لیتا ہے۔

اِن کمپیوٹرز کو عام طور پر نوڈز کہا جاتا ہے۔

نوڈز کو بھی بہت مشکل نہ سمجھیں۔ سادہ الفاظ میں اسے بلاک چین نیٹ ورک سے جڑے ایسے کمپیوٹر کے طور پر سمجھیں جو نیٹ ورک کے ریکارڈ یا اس کے عمل میں مخصوص کردار ادا کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنے سارے کمپیوٹرز ہیں تو پھر فیصلہ کون کرتا ہے کہ کون سا لین دین درست ہے؟ نیٹ ورک کے شرکاء مخصوص اصولوں کے مطابق اس بات پر اتفاق کریں کہ کون سا ریکارڈ درست ہے اور اسے بلاک چین میں کس طرح شامل کیا جائے۔

بلاک چین کے بہت سے عوامی نیٹ ورکس میں لین دین کا ریکارڈ عوامی طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کو آپ کا نام یا گھر کا پتہ نظر آتا ہے۔ اکثر معاملات میں لین دین مخصوص ڈیجیٹل اڈریس کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔

یہاں سے ایک اور اہم اصطلاح والٹ ایڈریس سامنے آتی ہے

اس کو ہم اگلی قسط میں تفصیل سے سمجھیں گے، لیکن فی الحال اتنا سمجھ لیں کہ بلاک چین پر ڈیجیٹل اثاثے منتقل کرنے کے لیے مخصوص  ایڈریس استعمال ہوتے ہیں۔

 بلاک چین کو تبدیل کرنا مشکل ہے اور  خاص طور پر بغیرپروٹوکول کے اسے بدلنے سے آپ کے اثاثے کھو جایئں گے ۔اس کی وجہ اس کا ڈیزائن ہے، بلاکس ایک دوسرے سے  کرپٹو گرافک طریقوں سے جڑے ہوتے ہیں اور نیٹ ورک کے قواعد کے تحت ریکارڈ برقرار رکھا جاتا ہے۔ کسی پرانے ریکارڈ میں تبدیلی کرنے سے سلسلے میں موجود دوسرے ریکارڈز اور نیٹ ورک کی تصدیقی حالت متاثر ہو سکتی ہے۔

اب ایک آخری مثال لیتے ہیں ،فرض کریں ایک محلے میں دس افراد کے پاس ایک ہی ڈیجیٹل حساب کتاب کی نقل موجود ہے۔ جب کوئی نیا لین دین ہوتا ہے تو نیٹ ورک کے قواعد کے مطابق اسے جانچا جاتا ہے اور پھر ریکارڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔ یوں حساب صرف ایک شخص کی ذاتی کتاب میں نہیں رہتا بلکہ نیٹ ورک کے ڈیزائن کے مطابق کئی کمپیوٹرز اس ریکارڈ کو برقرار رکھنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔یہی بنیادی تصور بلاک چین کو روایتی مرکزی ریکارڈ رکھنے کے طریقوں سے مختلف بناتا ہے۔

اب تک ہم نے کرپٹو کو باہر سے دیکھا تھا۔ اگلی قسط میں ہم اس کے اندر داخل ہوں گے۔

اگر بِٹ کوائن یا کوئی دوسری کرپٹو کرنسی موبائل یا کمپیوٹر میں ’’رکھی‘‘ نہیں ہوتی تو پھر وہ ہوتی کہاں ہے؟ والٹ کیا چیز ہے؟ پبلک کی اور پرائیوٹ کی کیا ہوتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال اگر  پرائیوٹ کی کسی دوسرے شخص کے ہاتھ لگ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

یہ وہ مقام ہے جہاں کرپٹو کی سمجھ صرف معلومات نہیں رہتی بلکہ سکیورٹی کا معاملہ بن جاتی ہے۔

کرپٹو کلاس — جاری ہے۔۔۔

نوٹ: یہ تحریر تعلیمی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ اور دیگر مالی خطرات ہو سکتے ہیں۔