Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عالمی یومِ امن پر وزیراعظم اور صدر مملکت کا پیغام

pmln ppp

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں پُرامن بقائے باہمی، عالمی استحکام، سفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی یومِ امن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر پُرامن بقائے باہمی، عالمی استحکام اور سلامتی جیسی تعمیری روایات سے اپنی وابستگی کا تجدید عزم کرتا ہے، علاقائی اور بین الاقوامی امن کے فروغ میں پاکستان کا حالیہ تعمیری کردار قوم کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تنازعات کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے مخلصانہ کاوشیں کی ہیں، اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی امن مشنز میں پاکستان نے ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر خدمات انجام دی ہیں، جو قومی فخر کا باعث ہیں۔


وزیراعظم نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ امن ’امن میں سرمایہ کاری، سب کے لیے، ہر جگہ، ہر روز‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، حکومت کی پالیسیاں تمام شہریوں،بالخصوص خواتین،بچوں، اقلیتوں، خصوصی افراد اوردیگر کمزور و محروم طبقات کےمساوی حقوق اورفرائض کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں،حکومت نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کے ذریعے انسانی حقوق کے تحفظ ا ور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحہ عمل اپنایا ہے۔


صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے منصفانہ و پائیدار حل کو فروغ دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرے، پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری، انصاف، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کےذریعے ہی حاصل کیاجا سکتا ہےکئی دہائیوں سےپاکستانی امن دستے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔


آصف علی زرداری نے قیامِ امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قیامِ امن اور استحکام کی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔


صدر مملکت نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے،جہاں عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کیا جائے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہو، وہاں پائید ار امن قائم نہیں ہوسکتا، جس میں بھارتی غیرقانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقے بھی شامل ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL