میرا تعارف
اظہر سجاد
(افسانہ نگار، شاعر اور کالم نگار)
میں خود کو افسانے، شاعری اور کالم کے ذریعے سمجھنے، ترتیب دینے اور بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میرے لیے تخلیق ایک فکری، جمالیاتی اور باطنی تجربہ ہے۔ اپنی کہانیاں پڑھ کر کوئی خود ہی اُداس ہو سکتا ہے؟ جی ہاں، میں ہو جاتا ہوں۔
میں کسی خاص نظریے ، مکتب یا صنف کی قید میں نہیں ہوں ۔ میرے افسانے دراصل سوالات ہیں جو ہر انسان میں دھیرے دھیرے جنم لیتے ہیں۔ مگر جب اُن کے جواب نہیں ملتے تو خاموشی سے ہمارے اندر ہی ایک مقبرے میں دفن ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ افسانے قارئین کے فکر ونظر کی بند کھڑکی پر دستک دے سکیں تو میں سمجھوں گا کہ خاموشی میں کہی گئی بات سنی گئی۔
میری شاعری داخلی و خارجی احساسات و تجربات اور شعور و لاشعور میں چھپے معنی تلاش کرنا کی کوشش ہے۔ جب کہ کالم کی کوئی خاص جہت مقرر نہیں۔ جب تک کوئی جذبہ یا احساس مجھے مجبور نہ کرے، میرے لیے ایک لفظ لکھنا بھی محال ہے۔
میرا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک (پنجاب) سے ہے۔ سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) میں طویل سرکاری ملازمت کے دوران زیادہ وقت آزاد کشمیر (مظفر آباد، راولاکوٹ، میرپور، کوٹلی) میں گزرا۔ اس کے علاوہ گلگت اور راولپنڈی میں بھی ملازمت کے سلسلے میں فرائض منصبی سر انجام دیے۔ پرائیویٹ طورپر ایم اے (انگریزی ادب) میں کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اب عسکریہ پبلک سیکنڈری سکول اینڈ کالج کھوڑ کمپنی میں درس و تدریس سے وابستہ ہوں۔
میرا ایک افسانوی مجموعہ ”تیسری دیوار“ 2026ء میں شائع ہو چکا ہے۔ مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتا ہوں۔ اِس کے علاوہ ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کا جائنٹ سیکرٹری اور جنرل سیکرٹری رہ چکا ہوں۔”حلقہ ارباب ذوق انٹرنیشل“ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں بھرپور شرکت رہتی ہے۔جب تک سوچ کا نگر آباد ہے لکھتا رہوں گا۔ میری تحریریں اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے ہیں۔ لہٰذا وہی فیصلہ میرے فکر و فن پر تنقید و تحسین کرنے کا حق رکھتے ہیں۔






